کراچی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ مستثنا علاقوں میں بھی شروع

62

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) کے الیکٹرک نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے جن کو ان علاقوں میں بھی بھیج دیا جہاں لوڈشیڈنگ نہیں کی جاتی تھی۔ اس ضمن میں کے الیکٹرک کوئی وضاحت کرنے سے بھی قاصر ہے۔ متاثرہ شہریوں کے مطابق گزشتہ 3 روز سے گلشن اقبال ، گلستان جوہر ، بہادرآباد اور فیڈرل بی ایریا کے مستثنا علاقے بھی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی لپیٹ میں آگئے۔ ان علاقوں کو کے الیکٹرک نے خود ہی بلوں کی سو فیصد وصولیابی کی وجہ سے لوڈشیڈنگ سے مبرا کیا ہوا تھا۔ تاہم شدید گرمی میں گیس کی کمی کا بہانہ بناکر چند ماہ قبل ان علاقوں میں بھی لوڈشیڈنگ کی جاتی رہی تھی جو بعدازاں بند کردی گئی تھی لیکن گزشتہ روزسے روزانہ صبح 7سے 8 اور شام کو 10 سے 11 بجے تک بجلی کی فراہمی معطل کی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ یادرہے کہ گلشن اقبال کے جس علاقے میں اچانک غیر اعلانیہ بجلی بند کی جارہی ہے وہ قومی اسمبلی کا حلقہ 243 ہے جہاں سے وزیراعظم عمران خان کامیاب ہوئے ہیں۔ ادھر شہر کے اندر ان رہائشی علاقوں جہاں 3 مرتبہ ڈھائی تا 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے وہاں بھی اس کا دورانیہ بڑھایا گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ملیر سعود آباد، لانڈھی اور قائد آباد کے علاقے قابل ذکر ہیں۔ متاثرین نے وزیراعظم عمران خان اور گورنر سندھ عمران اسماعیل سے اپیل کی کہ وہ لوگوں کی توقعات کے مطابق کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کرکے لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ختم کرائیں۔دریں اثنا کے الیکٹرک کے ترجمان نے گلشن اقبال سمیت کسی بھی مستثنا علاقے میں لوڈ شیڈنگ کیے جانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کوئی مقامی خرابی کی وجہ سے بجلی کی سپلائی عارضی طور پر منقطع ہوئی ہوگی لیکن یہ بات غلط ہے کہ کے الیکٹرک نے لوڈ شیڈنگ شروع کردی ہے۔
غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ