ملازمہ پر تشدد کی وائرل وڈیو کا نوٹس خاتون بھارتی شہری نکلی

39

اسلام آباد(صباح نیوز) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے وضاحت کی ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل وڈیو میں ایک کم سن گھریلو ملازمہ کو بری طرح سے مارنے والی خاتون دراصل بھارتی شہری ہیں، جو چندی گڑھ میں رہائش پذیر ہیں۔ حال ہی میں ایک ٹوئٹر صارف کی جانب سے
ایک وڈیو شیئر کی گئی تھی جس میں ایک خاتون کو چائے میں پتی زیادہ ڈالنے پر ایک کم سن ملازمہ کو بری طرح تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔اس وڈیو کے پس منظر میں ایک شخص خاتون سے کہتا نظر آیا، ایک تو تم نے 14سال کی لڑکی رکھ لی اور پھر اس پر ہاتھ اٹھا رہی ہو۔یہ وڈیو شیریں مزاری کی نظر سے گزری اور انہوں نے اسے ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے لکھا، کیا کوئی یہ شناخت کرسکتا ہے کہ یہ خاتون کون ہے اور ان کا تعلق کہاں سے ہے؟، ان کے خلاف ایکشن لینے کے لیے معلومات چاہییں۔ بعدازاں انہوں نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں بتایا کہ انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سے بچی پر تشدد کرنے والی خاتون کا پتا لگانے کو کہا اور پھر تحقیقات کے بعد یہ معلوم ہوا کہ بچی پر تشدد کرنے والی خاتون کا تعلق بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر چندی گڑھ سے ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ