چیف جسٹس نے منرل واٹر کمپنیوں کے زیر زمین پانی کے استعمال کا نوٹس لے لیا

43

اسلام آباد(صباح نیوز)چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے منرل واٹر کمپنیوں سے متعلق ازخود نوٹس لیتے ہوئے پانی کے استعمال سے متعلق ڈیٹا طلب کرتے ہوئے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی اورتمام منرل واٹر فیکٹریوں سے رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ منرل واٹر کمپنیاں ٹربائنیں لگا کرمفت کا پانی مہنگے داموں فروخت کررہی ہیں ہمارے لیے پانی بہت قیمتی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے منرل واٹر کمپنیوں سے متعلق از خود نوٹس ایک کیس کی سماعت کے دوران لیا اور چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سمیت تمام ایڈووکیٹ جنرلزکوہدایت کی کہ کیس کی سماعت آج ہفتہ کولاہور رجسٹری میں کی جائے گی ، منرل واٹرکمپنیوں کوسپریم کورٹ کے حکم سے آگاہ کردیں۔، چیف جسٹس نے ریمارکس
دیے کہ منرل واٹر کمپنیاں ٹربائنیں لگا کرمفت کا پانی مہنگے داموں فروخت کررہی ہیں ہمارے لیے پانی بہت قیمتی ہے۔عدالت عظمیٰ نے ملک بھرکی تمام منرل واٹرکمپنیوں سے پانی کے استعمال سے متعلق ڈیٹا طلب کرلیا۔کیس کی سماعت کا آغازہوا تو چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ یہ بتائیں کہ یہ منرل واٹر کمپنیاں زیر زمین کتنی مقدار میں پانی استعمال کرتی ہیں اور پانی کے استعمال کی کتنی قیمت ادا کرتی ہیں ۔کمپنیوں کو زیر زمین پانی اب مفت نہیں ملے گا،زیر زمین پانی سونے کی قیمت کے برابر ہو گیا ہے۔ پورے پاکستان میں فیکٹریوں کو زیر زمین پانی کے استعمال کی قیمت دینا ہو گی۔علاوہ ازیں کیس کی سماعت کے دوران سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے عدالت کو بتایا کہ کٹاس راج کے قرب و جوار میں موجود سیمنٹ کی تین فیکٹریوں کو پانی کی فراہمی کا بندوبست کردیا گیا ہے اس پر چیف جسٹس نے کہا علاقے میں 12 فیکٹریاں ہیں سب کے معاملات دیکھیں، کسی ایک کو ٹارگٹ نہیں کرنا، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے کہا سیمنٹ فیکٹریوں کی جانب سے زیر زمین پانی کے استعمال کا فارمولہ طے کر لیا ہے اور قیمت کا تعین کرنا باقی ہے۔چیف جسٹس نے کہا بتائیں کیا پنجاب کی تمام سیمنٹ فیکٹریاں پانی کی قیمت ادا کر رہی ہیں یا نہیں؟ پانی کی قیمت طے کرنے کے طریقہ کار سے متعلق بھی رپورٹ دی جائے۔سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کی جانب سے ایک ماہ کا ٹائم مانگنے پر چیف جسٹس نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا ایک ماہ کیوں دیں؟ اگر آپ سے کام نہیں ہوتا تو گھر چلے جائیں تین دنوں میں رپورٹ دیں۔عدالت نے کٹاس راج مندر کے چشمے کے خشک ہونے کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ بھی منگل تک طلب کرلی ہے جب کہ عدالت نے چکوال کے علاقے میں قائم دیگر فیکٹریوں کی وجہ سے زیر زمین پانی کی قلت کا جائزہ لینے کا بھی حکم دے دیا اور کیس کی مزید سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کردی۔بعد ازاں چیف جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن کے ہمراہ ہندوؤں کے مقدس مقام کٹاس راج مندرکا دورہ کیا۔چیف جسٹس اور ججز کو لوکل گورنمنٹ اور محکمہ اوقاف کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ جسٹس ثاقب نثار نے حکم دیا کہ اس بربادی کاحل بتائیں جو سیمنٹ فیکٹریوں نے کی ہے اور ضلعی انتظامیہ مجھے جواب دے۔چیف جسٹس اور دیگر ججز نے کٹاس راج مندر میں پانی کی کمی اور بد انتظامی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ