قومی ادارہ امراض قلب میں نیب کا چھاپا، ریکارڈ قبضے میں لے لیا

43

کراچی (اسٹاف رپورٹر) قومی ادارہ برائے امراض قلب میں ایک مرتبہ پھر نیب کا چھاپا، ایچ آر سمیت مختلف شعبوں سے ریکارڈ قبضے میں لے لیا، چھاپا ادارے کی جانب سے نیب کو طلبی کے باوجود گزشتہ 10سال کا ریکارڈ فراہم نہ کیے جانے کے باعث مارا گیا، اسپتال ترجمان کے مطابق چھاپا 17 ستمبر کی طے شدہ ملاقات کے باوجود مارا گیا۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ کی صبح نیب کی 10رکنی ٹیم
نے قومی ادارہ برائے امراض قلب میں چھاپا مارا اور ادارے کے مختلف شعبوں بالخصوص ایڈمن، پروکیورمنٹ، اکاؤنٹس اور ایچ آر کے افسران اور ملازمین سے پوچھ گچھ اور ریکارڈ کی چھان بین کی۔ ذرائع کے مطابق نیب ٹیم نے وہاں سے کمپیوٹر اور اہم دستاویزات قبضے میں لے لیں اور اس دوران ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سمیت مختلف شعبوں کے ذمے داران سے بھی پوچھ گچھ کی۔ ذرائع کے مطابق نیب کی ٹیم لگ بھگ 5 گھنٹے ادارے میں موجود رہی۔ اس ضمن میں جب قومی ادارہ برائے امراض قلب کی چیف آپریٹنگ آفیسر عذرا مقصود سے ’’جسارت‘‘ نے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ نیب کی جانب سے اچانک چھاپا نہیں مارا گیا، نیب نے پیر 17 ستمبر کو پہلے ہی ادارے کے فوکل پرسن کو طلب کر رکھا ہے اور اس کے باوجود ان کی ٹیم جمعہ کو قومی ادارہ برائے امراض قلب پہنچ گئی۔ عذرا مقصود کا کہنا تھا کہ نیب نے ادارے میں ہونے والی بھرتیوں اور خریداریوں کا 10سال کا ریکارڈ پہلے ہی طلب کر رکھا ہے اور ہم نے نیب کو واضح کر دیا ہے کہ ہمارے پاس 2017ء سے ریکارڈ موجود ہے کیونکہ ہیومن ریسورسز ڈیپارٹمنٹ (ایچ آر) کا قیام 2017ء میں عمل میں آیا تھا، اس سے قبل تمام معاملات کو ایڈمن برانچ دیکھا کرتی تھی۔ عذرا مقصود نے بتایا کہ ہم نے نیب حکام سے بات کی ہے کہ وہ ہمیں مزید مہلت دیں تو 2017ء سے پہلے کا ریکارڈ بھی ہم تیار کر کے جمع کرا دیں گے جس پر نیب حکام نے مثبت رد عمل ظاہر کیا ہے باقی معاملات پیر 17 ستمبر کو ہونے والی ملاقات میں سامنے آ جائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ