سول اسپتال میں دو ماہ میں 270 مریضوں کی ہلاکت تشویشناک ہے ،بندھانی

35

سکھر( نمائندہ جسارت) بندھانی برادری کے صدر حاجی شریف بندھانی نے سول اسپتال میں 2ماہ کے دوران 270مریضوں کی اموات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اسپتالوں سے لاکھوں روپے تنخواہیں وصول کرنیوالے معالجین مریضوں پر توجہ دینے کے بجائے نجی کلینکس چلارہے ہیں، جس کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے، اب پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے، مسیحائی کے شعبے میں موجود ایسی کالی بھیڑوں کیخلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، سول اسپتال میں مختصر وقت میں اتنی زیادہ اموات ہونے کا نوٹس لیکر اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے، غفلت کے مرتکب معالجین کو سخت سزا دی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں علاقہ مکینوں کے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر حاجی خضر حیات، نائب صدر حاجی مسلم، جنرل سیکرٹری حاجی محمد یامین، ایڈیشنل سیکرٹری عبدالجبار راجپوت اور خازن حافظ محمد شعیب ودیگر بھی موجود تھے۔ حاجی شریف بندھانی کا کہنا تھا کہ غریب و متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد سکھر سمیت سندھ کے مختلف اضلاع سے علاج و معالجے کے لیے سول اسپتال سکھر آتی ہے مگر یہاں پر معالجین، اسپتال انتظامیہ اور عملے کا ان کے ساتھ جو رویہ و سلوک ہوتا ہے وہ ناقابل برداشت ہوتا ہے مگر مجبوری کے عالم میں وہ یہ سب کچھ برداشت کرتے ہیں مگر اب پانی سر سے اونچا ہوتا جارہا ہے، سرکاری اسپتالوں میں تعینات معالجین کی ایک بڑی اکثریت اپنے فرائض بہتر انداز سے انجام نہیں دیتی اور ان کی تمام تر توجہ نجی کلینکس پر ہوتی ہے جہاں سے وہ الگ سے لاکھوں روپے ماہانہ کماتے ہیں اور ٹیکس کی ادائیگی سے بھی خود کو بچاتے ہیں، معالجین کی اسی غفلت کے باعث سول اسپتال میں علاج کے لیے آنیوالے مریض موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت، ایف آئی اے، نیب، انکم ٹیکس سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے افسران سے اپیل کی کہ سرکاری اسپتالوں میں تعینات ایسے ڈاکٹرز جو کہ نجی کلینکس چلاکر لاکھوں روپے کمارہے ہیں ان کیخلاف تحقیقات کی جائے کہ وہ کتنا ٹیکس دیتے ہیں جبکہ صوبائی حکومت بھی سول اسپتال سمیت دیگر سرکاری اسپتالوں میں تعینات ڈاکٹرز کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کرے، غفلت برتنے والے معالجین کیخلاف کارروائی عمل میں لاکر انہیں سخت سزا دی جائے۔
15 روز کے اندرسندھ یونیورسٹی کی2 طالبات لاپتا
حیدرآباد(نمائندہ جسارت) پندرہ روز کے اندر سندھ یونیورسٹی کی 2 طالبات لاپتا۔ ایک ثمینہ نامی طالبہ 29 اگست کو جامشورو پھاٹک سے جبکہ 9 ستمبر کو پارس نامی طالبہ ہاسٹل سے لاپتا ہوگئی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملہ پسند کی شادی قرار دے دیا۔ رجسٹرار سندھ یونیورسٹی کی اطلاع کے مطابق ایک لڑکی نے بھاگ کر شادی کرلی ہے مگر ابھی کنفرم نہیں ہے ۔اے ایس پی سہائی عزیز تالپور نے بتایا کہ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں ،تفتیش جاری ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.