جیزی برادوز بائیکر گروپ کا سربراہ جہانزیب علی حادچے میں جاں بحق

34

کراچی (رپورٹ /محمد علی فاروق )کراچی کی سڑکوں پر نوجوانوں کو موٹر سائیکلوں پر موت کا رقص سکھانے والا خود ہی اس شکار ہوگیا ۔جمعرات کوکشمیر روڈپر ٹریفک حادثے میں ہلاک ہونے والا شخص جیزی برادرز بائیکرز گروپ کا سربراہ جہانزیب علی تھا۔جناح اسپتال میں درجنوں کی تعداد میں آنے والے نوجوان متوفی کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے بغیر اپنے ہمراہ لے گئے تھے ۔ٹریفک حادثے میں ایک خاتون بھی زخمی ہوئی جو شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیرعلاج ہے۔ واقعہ کے بعد لاکھوں روپے مالیت کی موٹر سائیکل پراسرار طور پر غائب ہوگئی ۔پولیس نے متوفی کی موٹر سائیکل کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اس کو تحویل میں نہیں لیا ۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کی دوپہر جمشید کوارٹر تھانے کی حدود کشمیر روڈپر چائنا گراؤنڈ کے قریب ہیوی بائیک پر سوار پر ایک شخص خاتون کو بچاتے ہوئے حادثے کاشکار ہوکر موقع ہی پر جاں بحق ہوگیا ۔ جسارت نے واقعہ کی تفصیلات کیلء جاننے کے لیے جمشید کوارٹر تھانے سے رجوع کیا تو وہاں موجود ڈیوٹی افسر نثار نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت نہیں ہوسکی ہے کیونکہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداداس کی لاش جناح اسپتال سے اپنے ہمراہ لے گئی جس کی وجہ سے ضابطے کی کارروائی بھی نہیں ہوسکی ، حادثے میں زخمی ہونے والی خاتون بھی سول اسپتال سے
کہیں چلی گئی ہے ۔جب مذکورہ پولیس آفیسر سے متوفی کی موٹر سائیکل کے بارے میں معلوم کیا گیا تو انہوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے موٹرسائیکل کو اپنی تحویل میں نہیں لیا ہے ۔جبکہ موٹرسائیکل تھانے ہی میں موجود ہے۔ادھر عینی شاہدین نے جسارت کو بتایا کہ 1200 سی سی بائیک پر موجود شخص تیز رفتاری سے کشمیر روڈ سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک خاتون مومنہ زوجہ خادم حسین اس کے سامنے آ گئیں ۔ اس دوران ہیوی بائیک پر سوار شخص نے اس کو بچانے کی کوشش کی تو تیز رفتاری کے باعث ہیوی بائیک فٹ پاتھ سے ٹکرا گئی اور بائیک سوار قریبی درخت اور فٹپاتھ سے ٹکرایا جس سے بائیک سوار موقع پر جاں بحق ہو گیا جبکہ خاتون کو دوسری جانب سے آنے والی تیز رفتار کار نے ٹکر ماری ۔ خاتون اور جاں بحق شخص کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا ، جہاں جاں بحق شخص کی شناخت 55 سالہ جہانزیب علی کے نام سے ہوئی جبکہ خاتون کی شناخت 40 سالہ مومنہ زوجہ خادم حسین کے نام سے ہوئی ۔ اسپتال کے ایم ایل او نے بتایا کہ زخمی خاتون کے ہاتھ اور ٹانگ کی ہڈیاں 4 جگہ سے ٹوٹی ہیں،خاتون کے اہل خانہ کے مطابق اس کو تشویش ناک حالت میں سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ خاتون سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حادثے کے فوری بعد جمشید کوارٹر تھانے کی پولیس حادثے کی شکار ہیوی بائیک کو پولیس کی موبائل میں ڈال کر لے گئی تھی اور متوفی کا موبائل فون اسد نامی شخص لے گیا جو خود کو جہانزیب کا کزن بتارہا تھا۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ متوفی بی ایم ڈبلیو کمپنی کی 1200-CCموٹرسائیکل پر سوار تھا جس کی مالیت 30لاکھ روپے بتائی جاتی ہے اور اس حوالے سے پولیس کی لاعلمی شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے ۔ دوسری جانب خداداد کالونی میں بابا ہیوی بائیک مکینک کے ملازم رفیع نے بتایا کہ متوفی جہانزیب 35 سال سے ہیوی بائیککے چلانے کے شوقین تھے اور دنیا کے متعدد ممالک میں ہیوی بائیک ریس میں حصہ لیتے رہے ہیں اور پاکستان میں انہوں نے جیزی برادرز بائیکرز گروپ بنایا ہوا تھا ، جس میں سینئر بائیک رائیڈر ان کے تجربات سے استفادہ کرتے تھے ۔مرحوم انتہائی نفیس شخصیت کے مالک تھے اور اپنے شاگردوں سے بہت نرم رویہ رکھتے تھے،جہانزیب علی گلستان جوہر کے رہائشی تھے ۔ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ۔ گزشتہ ہفتے ہی امریکا سے واپسی ہوئی تھی ۔ جمعہ کے روزگلستان جوہر میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی ، جس میں ان کے مداحوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ واضح رہے کہ گزشتہ دو سال میں گینگ ریسنگ کا رحجان بڑھا ہے اور نوعمر لڑکے شہر کی سڑکوں پرحادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ 16 فروری 2018 کو کراچی میں شارع فیصل پر رات کو تین بجے ریس ہوئی جس میں 4 نو عمر لڑکے جان سے گزر گئے۔ایسا ہی حادثہ سپر ہائی وے پر بھی پیش آیا خطرناک رفتار سے جانیوالے بائیکرکی گاڑی سے ٹکر جان لیواثابت ہوئی جس میں 25 سالہ نوجوان جان کی بازی ہار گیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ لوگ بھیجہانزیب علی کے بائیک رائیڈرز گروپ کا حصہ تھے ۔
جیزی برادرز بائیکرز گروپ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.