کرپشن کے خاتمے کیلیے مصلحت کو بالائے طاق رکھنا ہوگا ، سراج الحق

142
فیٖصل آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں
فیٖصل آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے مصلحتوں کو بالائے طاق رکھنا ہوگا ، بیرونی بینکوں میں موجود 375 ارب ڈالر کا خطیر سرمایہ واپس لایا جائے،ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی طرف نہ جانے اور مزید قرضہ نہ لینے کا حکومتی اعلان بھی قابل ستائش ہے، سابق حکومتوں نے آئین پر عمل کرنے اور عوام کو ان کے آئینی حقوق دینے کے بجائے آئین کو اپنے اختیارات میں اضافے کے لیے استعمال کیا ، جہاں عوام کے حقوق کی بات ہوتی ہے وہا ں حکومتیں اندھی بہری اور گونگی بن جاتی ہیں ، موجودہ حکومت کی طرف سے ایک کروڑ نوجوانوں کو ملازمتیں دینے اور 50 لاکھ لوگوں کو چھت مہیاکرنے کا اعلان خوش آئند ہے ، عوام چاہتے ہیں کہ جتنا جلد ممکن ہو ، اس اعلان پر عمل ہوناچاہیے ، یہ قوم پر حکمرانوں کا بہت بڑا احسان ہوگا ، حکومت نے اگر بجلی گیس اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو عام آدمی پس جائے گا اس لیے حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو، فیصل آباد پاکستان کا مانچسٹر ، انڈسٹریل شہر اور معاشی حب تھا جسے حکمرانوں کی پالیسیوں نے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، گیس کی بندش اور بدترین لوڈشیڈنگ سے سیکڑوں کارخانے بند ہونے سے لاکھوں مزدور بے روزگار ہوچکے ہیں ، موجودہ حکومت کو فوری طور پر اس طرف توجہ دینا ہوگی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے فیصل آباد میں اجتماع ارکان سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد ، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال حسن اور صوبائی جنرل سیکرٹری حافظ بلال قدرت بٹ بھی موجود تھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ موجودہ حکومت کو سابق حکومتوں کی طرح عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے عا م آدمی کو ریلیف دینے کی طرف توجہ دینا ہوگی ۔ غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافے کی وجہ سے عوام کا جینا دو بھر ہوگیا تھا ۔ پی ٹی آئی حکومت کو مہنگائی اور ٹیکسوں میں اضافے کے مشورے دینے والے مشیروں کی باتوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے اور مہنگائی بے روزگاری اور ٹیکسوں میں کمی کر کے عوا م کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں ۔ ایسے مشیر حکومت کے دوست نہیں دشمن ہیں ۔ حکومت کو امیروں سے ٹیکس لے کر غریبوں پر خرچ کرنا چاہیے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاناما کے دیگر 436 ملزموں کے خلاف عدالت عظمیٰ میں ہماری پٹیشن موجود ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کو جلد سنا جائے اور قومی دولت چوری کرنے والوں کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے ۔ جماعت اسلامی کرپشن کے خلاف طویل عرصے سے مہم چلا رہی ہے ہماری جدوجہد کا مرکز و محور پاکستان کو کرپشن فری بنانا ہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک کی ترقی اور خوشحالی اور ہماری نسلوں کا مستقبل ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے۔ پانی کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ جماعت اسلامی ڈیموں کی تعمیر کی سب سے بڑی حامی ہے ڈیموں کی تعمیر کے لیے سرمائے کی فراہمی کے مشکل مسئلے کا آسان ترین حل یہ ہے کہ جن لوگو ں نے اربوں کھربوں لوٹے ہیں ان سے پیسہ نکلوا یا جائے ۔ بیرونی بینکوں میں موجود 375 ارب ڈالر کا خطیر سرمایہ واپس لایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ غریب اوورسیز پاکستانی محنت مزدوری کر کے سالانہ 20 ارب ڈالر ملک میں بھیجتے ہیں جسے حکمران لوٹ لیتے ہیں۔ یہ کرپٹ اور بد دیانت ٹولہ معاشرے کا ناسور ہے جس ملک میں جزا اور سزا کا نظام نہ ہو ، وہ ترقی نہیں کر سکتا ۔ کرپشن کے خاتمے کے لیے مصلحتوں کو بالائے طاق رکھنا ہوگا ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ