فیس بک اب جعلی خبروں کی تصاویر اور ویڈیوز کی جانچ بھی کرے گا

140

فیس بک نے اپنے ایک بلاگ میں اعلان کیا ہے کہ وہ جعلی خبروں سے وابستہ تصاویر اور ویڈیوز کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے جانچ کرے گی تاکہ سوشل میڈیا کو من گھڑت خبروں کی آماجگاہ بننے سے بچایا جاسکے۔

 بلاگ میں کہا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں 17 ممالک سے آنے والی خبروں اور مضامین سے وابستہ ویڈیوز اور تصاویر کا مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا اے آئی) کے ذریعے جائزہ لیا جائے گا۔

اس موقع پر فیس بک کے پروڈکٹ مینیجر اینٹونیا ووڈفورڈ نے کہا کہ انہوں نے مشین لرننگ ماڈل بنایا ہے جو تصدیق کرنے والوں کو جعلی تصاویر اور ویڈیوز کی نشاندہی میں مدد کرے گا جس کے لیے 17 ممالک میں موجود 27 پارٹنر ادارے بھی اپنا کام کریں گے۔
ووڈفورڈ نے بتایا کہ فیس بک اور اس سے وابستہ کئی ادارے تصویر کے میٹا ڈیٹا، ریورس امیج سرچنگ، ویڈیو اور تصاویر لینے کے اوقات اور دیگر طریقوں سے ان کی جعلی یا تصدیق میں مدد دیں گے۔

فیس بک اور ٹوئٹر دونوں ہی جعلی تصاویر، خبروں اور ویڈیو کے اولین اخراج والی جگہوں کو جاننے کی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں کیونکہ جعلی تصاویر رائے عامہ کو تبدیل کرتی ہیں حتیٰ کہ انتخابات پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس ضمن میں بالخصوص سیاسی حلقے کئی بار فیس بک سے رابطہ کرچکے ہیں اور فیس بک اور ٹوئٹر کے دو اعلیٰ اہلکار کیپٹل ہِل کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔

فیس بک کے بانی اور سربراہ مارک زکربرگ نے بھی اپنے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب میں روسی مداخلت کے بعد اب ان کی کمپنی ٹیکنالوجی اور ماہرین کی مدد سے اس عفریت کو قابو کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.