عدالت عظمیٰ : جنوبی پنجاب میں شریف خاندان کی شوگر مل ختم کرنیکا حکم

89

اسلام آباد(صباح نیوز) عدالت عظمیٰ نے شریف خاندان کی جنوبی پنجاب میں منتقل کی گئی چودھری، اتفاق اور حسیب وقاص شوگر ملیں 2 ماہ میں ختم کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت عظمیٰ نے شوگر ملز منتقلی کیس میں تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ملز کو واپس منتقل کرنے کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے شوگر ملز کی منتقلی کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔عدالت نے تمام درخواستیں مسترد کردیں اور جنوبی پنجاب میں شریف خاندان کی ملز کو 2 ماہ میں بند کرنے کے ساتھ تمام مشنری بھی واپس کرنے کا حکم دے دیا۔عدالتِ عظمی کی جانب سے تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ عدالت عظمیٰ نے ہدایت کی کہ ان شوگرملز کی عمارتوں کو نہ گرایا جائے کیونکہ انہیں کسی اور مقصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ منتقل کی گئی ملز غیر قانونی ہیں، کیونکہ انہیں پابندی کے باوجود منتقل کیا گیا، لہذا شریف خاندان کی منتقل کی گئیں ان ملز کو واپس وسطی پنجاب میں منتقل کیا جائے۔خیال رہے کہ شریف خاندان نے اتفاق، چودھری اور حسیب وقاص شوگر ملز کو وسطی پنجاب سے غیر قانونی طور پر جنوبی پنجاب میں منتقل کردیا تھا۔خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے جنوبی پنجاب میں کپاس کی فصل کو بچانے کے لیے شوگر ملز پر پابندی عائد کردی تھی۔دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے عبداللہ شوگر مل کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔وکیل عبداللہ شوگر مل نے عدالت میں اپنے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ یہ مل نئی نہیں ہے، یہ پرانی مل ہے جو یہاں کبھی منتقل نہیں ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت نے بھی اس کی تصدیق کی ہے جس کے بعد عدالت نے اس مل کی منتقلی کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.