سندھ ہائیکورٹ لاپتافراد اور بچوں کی عدم بازیابی پر برہم :آئی جی طلب 

78

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں 23 گمشدہ بچوں کی بازیابی اورلاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی الگ الگ سماعت ہوئی، عدالت نے پولیس کی کارکردگی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ کو طلب کرلیاجبکہ لاپتا افراد سے متعلق پولیس رپورٹس کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں23 گمشدہ بچوں کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ لاپتا بچوں کی عدم بازیابی پر سخت تشویش پائی جاتی ہے، عدالت نے اس حوالے سے پولیس کی کارکردگی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ کو طلب کرلیا، جبکہ سرکاری وکیل نے کہا کہ بچے کی گمشدگی کے حوالے سے 22 ایف آئی آر درج کر لی ہیں۔ عدالت میں ڈی آئی جی کرائم پیش ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے آئی جی سندھ کے حکم پر ٹیم بنائی تھی، ایک بچی نورین کو بازیاب کروالیا ہے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 23 میں سے صرف ایک بچی کو بازیاب کروایا گیا ہے۔ آپ کی تحقیقات بہت ہی سست ہے، پولیس حکام لاپتا بچوں کی بازیابی کو جلد یقینی بنائے۔ عدالت نے آئی جی سندھ کی بنائی ہوئی ٹیم پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی سندھ بچوں کی بازیابی کے حوالے ڈی آئی جی کی سربراہی میں ایک بار پھر کمیٹی بنائیں۔ عدالت نے بچوں کی بازیابی سے متعلق اے وی سی سی (سی آئی اے)کی کارکردگی پر عدم اطمینان اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک بچے بازیاب نہیں ہوتے ڈی آئی جی ہر سماعت پر پیش ہوں۔ آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ کلیم امام خود پیش ہوکے وضاحت پیش کریں، عدالت نے بچوں کی بازیابی کے لیے پولیس کو تمام جدیدطریقے استعمال کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے بچوں کو بازیاب کراکے 3 ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں لاپتا افرادکی کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق پولیس کی بیشتر رپورٹس کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا،عدالت نے وکیل کے بیٹے نور محمد اور ڈرائیور قدیر کی گمشدگی پر ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کو ذاتی حیثیت سے طلب کرلیا، عدالت کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی خود پیش ہوکر وضاحت کریں، عدالت نے شہری نعمان کہ سول اسپتال سے گمشدگی پر سیکرٹری صحت، ایم ایس سول اسپتال، محکمہ داخلہ اور دیگر سے رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے تفتیشی افسر کو سول اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے شہری محمود اعظم کی گمشدگی پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن ویسٹ کو طلب کیا۔عدالت نے آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز، محکمہ داخلہ اور دیگر سے 11 اکتوبر کو پیش رفت رپورٹس طلب کرلیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ