کراچی میں2ہزار گرین بسیں زمین کھا گئی یا سمندر نگل گیا‘ عدالت عظمیٰ: سندھ حکومت پر30ہزار روپے جرمانہ

79

اسلام آباد(صباح نیوز)کراچی میں200 گرین بسیں زمین کھا گئی یا سمندر نگل گیا،عدالت عظمیٰ کا سندھ حکومت پر 30 ہزار جرمانہ۔تفصیلات کے مطابق عدالت عظمیٰ نے کراچی میں چنگ چی رکشے چلانے کی اجازت سے متعلق عدالت عظمی کے فیصلہ پر عمل نہ کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے حکومت سندھ کی رپورٹ مسترد کردی ہے اور عدلیہ کی حکم عدولی پر حکومت سندھ کے محکمہ ٹرانسپورٹ پر 30ہزار جرمانہ عایدکرتے ہوئے ہدایت کی کہ جرمانہ کی رقم چنگ چی رکشہ یونین کے عدالت میں موجود تین لوگوں میں برابر تقسیم کی جائے کیونکہ وہ حکومتی عدم عملدرآمد کے باعث پیشی پر آتے ہیں ، عدالت نے آیندہ سماعت پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ سندھ، ڈی آئی جی ٹریفک کراچی اور سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سندھ کونوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ تینوں افسران عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی رپورٹس پیش کریں ۔ جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ بغیر تیاری کے پیش ہوئے جس پر عدالت نے ان کی سخت سرزنش کی اور انہیں خبردار کیا کہ اگر عدالتی حکم نامے پر عملدرآمد نہ ہوا تو سیکریٹری ٹرانسپورٹ سمیت 10 لوگ نوکری سے جائیں گے ، جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سندھ حکومت عدالتی حکم عدولی کر رہی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے کراچی میں ٹرانسپورٹ کی سہولت کے لیے کچھ نہیں کیا،کراچی میں 1955ء کی بسیں چل رہی ہیں، 200نئی گرین بسیں لائی گئی تھیں جو ایک ہفتے میں غائب ہوگئیں بسوں کو زمین کھا گئی یا سمندر نگل گیا،ساری بسیں بیچ کر کھا گئے۔، جسٹس گلزاراحمدکا کہنا تھا کہ کراچی میں نہ ٹرین چلی اور نہ ہی بسیں،رکشے والوں سے بھی روزگار چھینا جارہا ہے۔ اس دوران محکمہ ٹرانسپورٹ کے فوکل پرسن نے بتایاکہ چنگ چی رکشوں میں ریورس گیئر نہ ہونے کی وجہ سے اجازت نہیں دی جارہی ، جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ موٹر سائیکل میں ریورس کہا سے لگے گا ،چین سے کسی کو بلوانا پڑے گا۔ عدالت نے چنگ چی رکشوں کی انسپکشن نہ کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ 5افراد پر مشتمل بورڈ نے رکشوں کی انسپکشن ہی نہیں کی ، صرف چھ رکشوں کا جائزہ لے کر رپورٹ جمع کرادی گئی عدالت کو گمراہ نہ کیا جائے عدالت نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.