افکار سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ

167

 

الدین کا مفہوم
عربی زبان میں لفظ ’’دین‘‘ کئی معنوں میں آتا ہے۔ اس کے ایک معنی غلبہ اور استیلاء کے ہیں۔ دوسرے معنی اطاعت اور غلامی کے۔ تیسرے معنی جزاء اور بدلے کے۔ چوتھے معنی طریقے اور مسلک کے۔ یہاں یہ لفظ اسی چوتھے معنی میں استعمال ہوا ہے، یعنی دین سے مراد وہ طریق زندگی یا طرزِ فکر وعمل ہے جس کی پیروی کی جائے۔ لیکن یہ خیال رہے کہ قرآن محض دین نہیں کہہ رہا ہے بلکہ الدین کہہ رہا ہے۔ اس کے معنی میں وہی فرق واقع ہو جاتا ہے جو انگریزی زبان میں This is a way of life کہنے کے بجائے This is the way of life کہنے سے واقع ہوتا ہے۔ یعنی قرآن کا دعویٰ یہ نہیں ہے کہ اللہ کے نزدیک اسلام ایک طریق زندگی ہے بلکہ اس کا دعویٰ یہ ہے کہ اسلام ہی ایک حقیقی اور صحیح طریق زندگی یا طرز فکروعمل ہے۔ (دین حق)
*۔۔۔*۔۔۔*
زمین کا انتظام
مالک ہونے کی حیثیت سے اس کی خواہش یہ ہے کہ اس کی دنیا کا انتظام ٹھیک کیا جائے۔ اس کو زیادہ سے زیادہ سنوارا جائے۔ اس کے دیے ہوئے ذرائع اور اس کی بخشی ہوئی قوتوں اور قابلیتوں کو زیادہ سے زیادہ بہتر طریقے سے استعمال کیا جائے۔ وہ اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرتا اور اس سے یہ توقع کی بھی تو نہیں جا سکتی کہ وہ کبھی اسے پسند کرے گا کہ اس کی دنیا بگاڑی جائے، اُجاڑی جائے، اور اس کو بدنظمی سے، گندگیوں سے اور ظلم و ستم سے خراب کر ڈالا جائے۔ انسانوں میں سے جو لوگ بھی دنیا کے انتظام کے امیدوار بن کر کھڑے ہوتے ہیں، جن کے اندر بنانے کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت ہوتی ہے، انہی کو وہ یہاں انتظام کے اختیارات سپرد کرتا ہے۔ (بناؤ بگاڑ)
*۔۔۔*۔۔۔*
امامتِ صالحہ
دین میں امامتِ صالحہ کے قیام اور نظامِ حق کی اقامت کو مقصدی اہمیت حاصل ہے اور اس چیز سے غفلت برتنے کے بعد کوئی عمل ایسا نہیں ہو سکتا جس سے انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کو پہنچ سکے۔ غور کیجیے، آخر قرآن و حدیث میں التزامِ جماعت اور سمع و طاعت پر اتنا زور کیوں دیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جماعت سے خروج اختیار کر لے تو اس سے قتال واجب ہے خواہ وہ کلمۂ توحید کا قائل اور نماز روزے کا پابند ہی کیوں نہ ہو؟ کیا اس کی وجہ یہ اور صرف یہی نہیں ہے کہ امامتِ صالحہ اور نظامِ حق کا قیام و بقا دین کا حقیقی مقصود ہے اور اس مقصد کا حصول اجتماعی طاقت پر موقوف ہے، لہٰذا جو شخص اجتماعی طاقت کو نقصان پہنچاتا ہے وہ اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرتا ہے جس کی تلافی نہ نماز سے ہو سکتی ہے اور نہ اقرار توحید سے؟ (تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادی)
*۔۔۔*۔۔۔*

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.