محرم اور شہادت حسینؓ

216

 

محمد جہان یعقوب

اسلامی تقویم کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے جو کہ اسی فطری نظام کائنات کے تحت جیسا کہ خالق کائنات نے مقرر فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے: ’’یقیناًمہینوں کی تعداد تو اللہ کے نزدیک بارہ ہے اللہ کی کتاب (لوح محفوظ) میں جس دن کہ پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور ان میں چار حرمت والے مہینے ہیں یہی سیدھا درست دین ہے۔‘‘ عیسوی شمسی سال کے برعکس اسلامی قمری سال کا آغاز ولادت النبی کے بجائے ہجرت النبیؐ سے کرنے میں زبردست حکمت ومصلحت ہے جب امیرالمومنین سیدنا عمر فاروقؓ کے سامنے اسلامی تقویم کا معاملہ آیا اور اسلامی سال شروع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ نے ہجرت کو معیار بنایا، کیونکہ اس سے اسلامی عظمت کا آغاز ہوتا ہے اسلامی اتحاد کی ابتدا ہوتی ہے اور اسلامی اخوت ومساوات کی شروعات ہوتی ہے۔
ماہ محرم کی اہمیت وفضیلت:
ماہ محرم الحرام کی تاریخی اہمیت مُسلم ہے احادیث و روایات اور آثار سے اس کے فضائل و برکات ثابت ہیں روایات کی روشنی میں اسی محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدمؑ کی تخلیق فرمائی۔ یوم عاشور ہی کو جنت پیدا فرمائی۔ یوم عاشور ہی کو سفینہ نوح جودی پہاڑ پر ٹھہرا۔ یوم عاشور ہی کو سیدنا موسیؑ اور ان کی قوم نے فرعون سے نجات حاصل کی اور اللہ نے فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کیا۔
یوم عاشور کا روزہ:
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا رمضان کے بعد بہترین روزہ محرم کا روزہ ہے اور فرض نماز کے بعد بہترین نماز تہجد کی نماز ہے۔ (مسلم شریف، ریاض الصالحین)
سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ محرم کی دسویں تاریخ کو خود بھی روزہ رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔ (بخاری ومسلم)
سیدنا حسینؓ کی شہادت کا دلدوز واقعہ بروز جمعہ دس محرم الحرام سن 61 ہجری کو پیش آیا۔ اس وقت آپ کی عمر 58 سال کے قریب تھی۔
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ بارش کے فرشتے نے اللہ کے رسولؐ کی خدمت میں حاضر ی کی اجازت چاہی آپ نے اسے شرف باریابی کا موقع دیا، ام سلمہؓ سے فرمایا کہ دروازے کی طرف دھیان دینا کوئی اندر نہ آنے پائے، لیکن سیدنا حسینؓ کودتے پھاندتے اللہ کے رسولؐ تک پہنچ گئے اور آپؐ کے کندھے مبارک پر کودنے لگے۔ فرشتے نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں۔۔۔ فرشتے نے کہا کہ آپ کی امت اسے قتل کردے گی اور اگر آپ چاہیں تو وہ مٹی لاکر آپ کو دکھلا دوں جہاں اسے قتل کیا جائے گا۔ پھر فرشتے نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور لال رنگ کی ایک مٹھی مٹی اللہ کے رسولؐ کی خدمت میں رکھ دی۔ (مسند احمد) باقی صفحہ 9پر
مسند احمد ہی میں سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ٹھیک دوپہر کے وقت اللہ کے رسولؐ کو ہم نے خواب میں دیکھا کہ آپ کے بال اور چہرہ مبارک غبار آلود ہے اور آپ کے ساتھ ایک شیشی ہے جس میں خون ہے، ہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسولؐ میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں یہ کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا کہ یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے۔ اس معنی میں ایک روایت سیدہ ام سلمہؓ سے سنن الترمذی میں موجود ہے۔ اس حدیث کے راوی عمار بیان فرماتے ہیں کہ جب اس کا حساب لگایا تو سیدنا حسینؓ کی شہادت کا واقعہ اسی دن پیش آیا تھا۔
طبقات ابن سعد میں ہے: ہم لوگ سیدہ ام المومنین ام سلمہؓ کے پاس موجود تھے کہ باہر سے ایک لونڈی کے چیخنے کی آواز سنائی دی اور اسی حالت میں وہ ام سلمہؓ تک پہنچ کر کہنے لگی کی سیدنا حسین کو شہید کردیا گیا۔ ام المومنین نے فرمایا: بدبختوں نے ایسا کردیا۔ اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھردے یہ کہہ کر وہ بے ہوش ہوکر گرگئیں۔ یہ دیکھ کر ہم لوگ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔
تاریخ بغداد میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالی نے محمدؐ کی طرف وحی کی کہ ہم نے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے بدلے ستر ہزار بنی اسرائیل کو قتل کیا تھا اور حسین کے بدلے ستر ہزار اور ستر ہزار قتل ہوں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ