رزق حلال اور ہماری زندگی شیریں زادہ خدوخیل

112

 

غذا تمام جان داروں کی طرح انسان کی بھی بنیادی ضرورت ہے۔ اگر غذا صحیح، متوازن اور اچھی ہو تو اس کے اثرات دیگر جان داروں کی طرح انسانی صحت پر بھی اچھے مرتب ہوں گے۔ اس کی نشوونما اچھی اور جسم تندرست و توانا ہوگا۔ وہ امراض و عوارض اور موسم کی سختیوں کو اچھی طرح جھیلے گا لیکن غذا اگر ناقص اور غیرمتوازن ہوگی تو اس کے نتائج بھی اسی طرح ظاہر ہوں گے۔
عام جان داروں اور انسانی غذا میں سب سے اہم اور بنیادی فرق حلال و حرام کا ہے۔ عام جان دار جیسے نباتات، حشرات، حیوانات وغیرہ حلال و حرام کی حدود سے ماورا ہیں لیکن انسان اشرف المخلوقات ہے۔ اس لیے اچھی اور متوازن غذا کے ساتھ ساتھ اس کا حلال ہونا بھی بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ جس طرح غیرمتوازن اور ناقص غذا کے منفی اثرات انسانی صحت پر پڑتے ہیں، بالکل اسی طرح رزق حرام کے منفی اثرات بھی انسانی روح اور قلب پر پڑتے ہیں۔ اس کی روحانی اور قلبی نورانیت کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ روحانی طور پر کمزور اور بیمار پڑتا ہے۔ اس میں بْرائیوں کے خلاف قوت مدافعت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ وہ جلد غلط کاموں کی طرف راغب ہوجاتا ہے۔ رزق کے اثرات کی وجہ سے انسان ذہنی اور قلبی ابتری کا شکار ہوجاتا ہے۔
رزقِ حلال کی اہمیت و برکات
قرآن حکیم اور رسولِ اکرمؐ نے رزقِ حلال کی بہت تاکید کی ہے۔ صحابہ کرامؓ اور سلف صالحین نے لقمۂ حرام سے پرہیز کی یادگار مثالیں رقم کیں ہیں۔ ان کی زندگی قرآن اور حدیث کی عملی تفسیریں تھیں۔ سورۂ بقرہ میں ارشاد خداوندی ہے:’’لوگو! جو چیزیں زمین میں حلال و طیب ہیں وہ کھاؤ‘‘۔ (168)
دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور عملِ نیک کرو‘‘۔ (المومنون 51) باقی صفحہ 9پر

کتاب و سنت میں رزقِ حلال اور پاکیزہ غذا کھانے پر اس لیے زور دیا گیا ہے کہ غذا کا اثر انسان کے قلب و دماغ پر پڑتا ہے۔ اس کا اثر انسان کے جذبات پر پڑتا ہے۔ اس کا اثر اولاد پر پڑتا ہے۔ اس کا اثر انسان کے اعمال پر پڑتا ہے۔ رزقِ حلال کے طفیل دل میں رقت و لطافت پیدا ہوتی ہے، یا دل وحشت سے لبریز ہوجاتا ہے۔ اس میں شکر وصبر اور استغفار کے جذبات پرورش پاتے ہیں۔ ذہن ودماغ میں پاکیزہ خیالات جنم لیتے ہیں، انوار کی بارش محسوس ہوتی ہے لیکن اگر رزق حرام ہوگا تو معاملہ اس کے برعکس ہوگا۔ نور کے بجاے ظلمت دل و دماغ پر چھا جائے گی۔ نیکی اور قبولِ ہدایت کی صلاحیت اور استعداد ختم ہوجائے گی۔ دل اور دماغ پر منفی اثرات غالب آئیں گے۔
اللہ نے اپنے تمام انبیا کو، اور انبیا کی معرفت ان کی پیرو اْمتوں کو یہ اصولی ہدایت دی کہ: اے میرے رسولو! پاکیزہ روزیاں کھاؤ اور عملِ صالح پر کاربند رہو۔ چھے سات الفاظ کا یہ مختصر ارشاد ایسا ہے کہ اْصولی طور پر قریب قریب پورے دین کا منشا اس میں آگیا ہے۔ اگر کوئی شخص رزقِ حلال وطیب کی پابندی کے ساتھ عملِ صالح میں زندگی گزارتا ہے، تو گویا اس نے حسنۂ دنیا کو بھی پالیا اور حسنۂ آخرت کو بھی! اس مختصر سے کلمے میں یہ نمایاں اشارہ موجود ہے کہ پاکیزہ روزی یا حلال رزق کے بغیر اعمالِ حسنہ اور اخلاقِ عالیہ کا ہونا ممکن نہیں، اور اسی طرح اعمالِ حسنہ یا اخلاقِ حسنہ سے جس شخص کی زندگی خالی ہو، یہ تصور ہی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے دامنِ معیشت کو حرام کی آلایشوں سے بچائے گا اور رزقِ حلال کمانے کے لیے غیر معمولی جْہد ومشقت کرے گا۔ حضورؐ نے بروایت عبداللہ بن مسعودؓ فرمایا کہ رزقِ حلال کا کسب فرض ہے۔ (تحریکی شعور، نعیم صدیقی، ص 167)
امام غزالیؒ کیمیاے سعادت میں لکھتے ہیں کہ غذا سے بدن کا گوشت اور خون پیدا ہوتا ہے۔ پس اگر غذا حرام ہو تو اس سے قساوت، یعنی سختی پیدا ہوتی ہے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ عبادت کے 10 جز ہیں۔ ان میں نو کا تعلق رزقِ حلال سے ہے۔
طبرانی کی روایت ہے کہ ایک دن حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے کھڑے ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! میرے لیے دْعا کیجیے کہ اللہ مجھے مستجابْ الدعوات بنا دے۔ آپؐ نے فرمایا: اے سعد! اپنی خوراک کو پاکیزہ کرلو، تمھاری دعائیں قبول ہونے لگیں گی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! بندہ جب ایک لقمہ حرام کا اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو اللہ تعالیٰ 40 دن تک اس کا کوئی عمل قبول نہیں کرتا۔
حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: بلاشبہہ کسی جان کو اس وقت تک موت نہ آئے گی جب تک کہ وہ اپنا رزق پورا نہ کرلے۔ خبردار! اللہ سے ڈرو اوررزق طلب کرنے میں احسن طریقہ اختیار کرو۔ رزق کا دیر میں ملنا تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے ذریعے رزق طلب کرو، کیوں کہ جو کچھ ہے اللہ کے پاس ہے۔ (مشکوٰۃ)
ہماری بدقسمتی کہ ہم جلد از جلد آگے بڑھنے کی حرص میں مشیت الٰہی کا انتظار نہیں کرتے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دل و دماغ کو حرام کا چسکا لگ جاتا ہے اور پھر ہمارا مزاج اس قدر بگڑجاتا ہے کہ وہ حلال غذا قبول ہی نہیں کرتا۔ بالکل اس بیمار کی طرح جو ہاضمے کی خرابی کے باعث اچھی غذا کو ہضم نہیں کرسکتا اور ہم بابِ رحمت خود اپنے ہاتھوں سے اپنے اْوپر بند کرواد یتے ہیں۔
امام غزالیؒ لکھتے ہیں کہ رسول اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص متواتر حلال روزی کھاتا ہے جس میں حرام کی آمیزش نہ ہو، حق تعالیٰ اس کے دل کو پْرنور کردیتا ہے اور حکمت کے چشمے اس کے قلب سے جاری کردیتا ہے۔
ایک بزرگ کا قول ہے کہ ہر چیز کا تقویٰ ہے اور پیٹ کا تقویٰ رزقِ حلال ہے۔ امام غزالیؒ مزید رقم طراز ہیں کہ رسول اکرمؐ کا فرمان ہے: ’’بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کا طعام و لباس حرام ہے اور وہ ہاتھ اْٹھا کر دْعا مانگتے ہیں۔ ایسی دعائیں بھلا کب قبول ہوں گی؟‘‘
حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ تو یہاں تک نماز پڑھے کہ پیٹھ ٹیڑھی ہوجائے اور اس قدر روزے رکھے کہ بال کی طرح باریک ہوجائے۔اس کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ یہ قبول ہوں گے جب تک حرام سے پرہیز نہ کرے۔ اس کی وضاحت میں امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص 40 دن تک شبہہ کا مال کھاتا ہے اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے اور اسے زنگ لگ جاتا ہے۔
حضرت تْستریؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص حرام کھاتا ہے اس کے عضو گناہ میں پڑتے ہیں خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے، جب کہ جو شخص حلال کھاتا ہے اس کے تمام اعضا اطاعت میں رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ اسے خیر کی توفیق دیتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں نے رزق کے معاملے میں نہایت احتیاط سے کام لیا ہے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے حلال کے 10 حصوں میں سے 9 کو اس لیے چھوڑ دیا کہ کہیں حرام میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ (کیمیاے سعادت، ص225-228 )

Print Friendly, PDF & Email
حصہ