چندے کی سبیل اور ڈیم کبھی نہیں بنتے

252

 

سید محمد اشتیاق

گزشتہ برس سے عہد کیا ہوا تھا، ہو نہ ہو اگلے برس ایسی سبیل بنائیں گے کہ اصغر اور اس کے حواریوں کا منہ ہماری عظیم الشان سبیل دیکھ کر ان کے حقیقی سیاہ رنگ سے زیادہ سیاہ ہو۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ پڑوس کے ننھے منے بچے محنت کرکے محض ثواب دارین حاصل کرنے کے لیے سبیل بنائیں اور آپ بچوں کی جانب سے سبیل کی تعمیر کے بعد اس سے بہتر و خوب صورت سبیل کی تعمیر کرکے ان کے سینوں پر مونگ دلیں۔ گزشتہ برس سے پیچ و تاب تو کھائے بیٹھے تھے، جب محرم کے آغاز سے قبل سبیل بنانے کا قصد کیا تو یہ عقدہ کھلا کہ کوئی نامعلوم فرد ہماری گلک سے انتہائی ہوشیاری کے ساتھ رقم خورد برد کرکے گلچھرے اڑا بیٹھا ہے۔ بوقت ضرورت تنکے کی مدد سے گلک سے سکے نکالنے کا وسیع تجربہ ہم کو بھی تھا، لیکن جب بھی تنکے کی مدد سے سکے نکالے، اس عہد کے ساتھ نکالے کہ کہیں سے بھی رقم بہم پہنچے گی تو گلک میں دوبارہ ڈال دیں گے۔ اب رقم پلے نہ ہو اور سبیل ایسی بنانی ہو کہ اس کو دیکھ کر پڑوسی اصغر کے سینے پر سانپ لوٹ جائیں۔ مسئلے کی گمبھیرتا دیکھ کر ہم نوا پڑوسی بچوں کو گھر کی سیڑھیوں پر ہنگامی ملاقات کا پیغام دیا۔ ملاقاتیوں کی خاطر و تواضع کے لیے بھنے چنے اور ٹھنڈے پانی کا بندوبست کیا، اس اہتمام میں گلک پھوڑنے کے بعد جو چند سکے نکلے تھے، وہ بھی ٹھکانے لگ گئے۔ شرکائے ملاقات کے چنے پھانکنے میں جب تسلسل آ گیا اور دو چار پانی کے گھونٹ بھی انہوں نے بھر لیے، تو اس سے قبل کے ملاقات سے ان کا دل بھرتا، ہم نے ملاقات کا یک نکاتی ایجنڈا ان کے سامنے رکھا، بھائیوں گزشتہ برس نا چیز نے تم سب کے سامنے یہ عہد کیا تھا، کہ اگلے برس اصغر سے بہتر سبیل بناؤں گا، کیوں کہ ہماری سبیل اصغر کی سبیل کے سامنے ہم سب کو منہ چڑا رہی تھی۔ اصغر کی سبیل پر پانی پینے والوں کا رش
بھی تھا، جب کہ ہم سب اپنی سبیل کا پانی پی کر ٹھنڈی آہیں بھرا کرتے تھے اور اس وقت کو کوسا کرتے تھے، جب اصغر کی سبیل سے پہلے سبیل بنائی۔ شرکائے بحث نے سب سے پہلے تو یہ نکتہ اٹھایا کہ اصغر کا گھر کونے کا ہے، گلی میں جب بھی کوئی تھکا ماندہ داخل ہوتا ہے اور جب اس کی نظر دونوں سبیلوں پر پڑتی ہے، تو اصغر کی سبیل کی چکا چوند دیکھ کر اور مٹکے میں پڑی برف کا ٹھنڈا پانی پینے کا سوچ کر ہم لوگوں کے معصوم چہروں و سبیل کی پروا نہ کرتے ہوئے، اصغر کی سبیل پر ہی ٹھیر جاتا ہے اور تنقیدی نظروں سے ہمارا اور ہماری سبیل کا جائزہ لیتے ہوئے، اپنے فیصلے کی دل ہی دل میں داد دے رہا ہوتا ہے کہ اچھا ہوا، اصغر کی سبیل پر ہی ٹھیر گیا۔
دوسرا نکتہ یہ اٹھایا گیا کہ اصغر نو دس محرم کو دودھ کا شربت جس میں بھرپور طریقے سے بادام و پستے بھی موجود ہوتے ہیں، سبیل پر منوں کے حساب سے محلے داروں کو پلاتا ہے۔ تیسرا و آخری نکتہ یہ تھا کہ اصغر کی ایک سبیل پر جو ہار پھول لگتے ہیں، وہ ہماری اب تک بنائی جانے والی سب سبیلوں سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اگر اصغر سے بہتر سبیل بنانی ہے اور محلے داروں کو ٹھنڈا برفیلا پانی اور بادام و پستے والا دودھ کا شربت بھی پلانا ہے، تو ایک خطیر رقم کی ضرورت ہے۔ خطیر رقم کے حصول پر جب اتفاق ہو گیا، تو فیصلہ کیا گیا، سبیل کی تعمیر کے لیے خطیر رقم چندہ کر کے جمع کی جائے۔ چندے کا آغاز تمام شرکاء اپنی روزانہ کی سو فی صد پاکٹ منی سے کریں گے۔ گلک اس عظیم الشان کام کی انجام دہی میں مدد گار ثابت نہیں ہوگی، اس لیے چندے کی پیٹی کا بندوبست کیا جائے۔ اور چھوٹے و بڑے بہن بھائیوں، والدین اور عزیز و اقارب کو بھی اس کار خیر کی طرف راغب کرکے جنت کی بشارت دی جائے اور کار خیر میں تعاون نہ کرنے کی صورت میں قیامت کے عذاب سے ڈرایا جائے۔ دل و جان سے چندے کی مہم کا آغاز کیا گیا، پاکٹ منی سے سب سے پہلے چندے کی پیٹی خریدی گئی۔ کنبے کے جن افراد نے قیامت کے عذاب سے تھر تھر کانپتے ہوئے، چندہ دیا۔ اس سے ہار پھول اور سجیلے مٹکے خرید لیے گئے۔ لیکن جب سب مال و اسباب پر نظر ڈالی اور نظروں ہی نظروں میں اپنی اور اصغر کی سبیل کا ایمان دارانہ تصور کیا، تو اصغر کی گزشتہ سال کی سبیل زیادہ بہتر نظر آئی۔ فوری طور پر فیصلہ کیا کہ چندے کی پیٹی پورے محلے میں پھرائی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر آس پاس کے محلوں سے بھی مدد مانگی جائے گی۔ محلہ در محلہ چندہ جمع کرنے کے لیے چھوٹے سائیکل والے کی دکان سے کرائے کی سائیکلیں بھی لی گئیں۔
چندہ جمع ہوگیا، اور انتظار شروع ہوگیا کہ اصغر سبیل بنائے تو ہم اس کی نقل کرتے ہوئے، اس سے بہتر سبیل بنائیں۔ اصغر نے حسب معمول گزشتہ برس سے بھی بہتر سبیل بنائی اور کرسی بچھا کر سبیل میں طمطراق سے براجمان ہوگیا۔ ہم سب نے بھی سبیل کے لیے سامان خریدا اور تعمیر شروع کر دی، جیسے جیسے سبیل تعمیر ہوتی جاتی، شرکائے تعمیر دل برداشتہ ہو کر آئندہ سبیل بنانے سے تائب ہوتے جاتے۔ دل تو ہمارا بھی ٹوٹا، اور ہم نے سارا سامان
لپیٹا اور دیکھا دیکھی کی سبیل کی تعمیر سے توبہ کی۔ اور اپنا ذہن و دل اصغر کی طرف سے صاف کرکے کورے کاغذ کی طرح اس کی سبیل میں جا کر بیٹھ گئے اور پیاسوں کو پانی پلانے لگ گئے۔ اصغر عمر میں ہم سے بڑا تھا اور ہم بچوں کی ساری کارستانیوں کو دیکھ اور سمجھ بھی رہا تھا، اس نے جب ہم کو سبیل میں بیٹھے دیکھا، تو بہت خوش ہوا اور کہنے لگا یہ تمہاری بھی سبیل ہے۔ اور پتے کی بات یہ بتائی کہ ہم گھر والے سبیل چندے سے نہیں بناتے، اپنے قوت بازو، بچت اور عزم و ہمت سے بناتے ہیں۔ اصغر کی بات دل میں گھر کر گئی اور یہ بات بھی سمجھ میں آ گئی کہ اپنے قوت بازو پر بھروسا کرنا ہی کامیاب زندگی اور مستقبل کی ضمانت ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے، اقوام عالم میں ان ہی قوموں نے ترقی کی منازل طے کیں، جنہوں نے اپنے قوت بازو پر بھروسا کیا، عزم و ہمت اور محنت سے اپنے اپنے ممالک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا۔ وطن عزیز بھی تسلسل کے ساتھ سیاسی و اقتصادی، معاشی و سماجی عدم استحکام کا شکار ہے۔ قلت آب اب ایک عالمی مسئلہ اختیار کر گیا ہے، جس کی زد میں وطن عزیز بھی ایک زمانے سے ہے۔ اس آبی قلت سے نمٹنے کا واحد طریقہ ڈیموں کی تعمیر ہے۔ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے معاملے کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈ قائم کیا اور اب محترم وزیر اعظم عمران خان نے بھی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ڈیم کی تعمیر کے لیے چندے کی اپیل کی ہے۔ دنیاوی تاریخ میں کسی بھی ملک نے چندے کی رقم سے ڈیموں کی تعمیر نہیں کی ہے۔ لہٰذا حکومت وقت ڈیموں کی تعمیر کو کوئی عام فلاحی منصوبہ نہ سمجھے۔ ڈیموں کی تعمیر قومی منصوبہ ہے نہ کہ مخصوص سطح اور مقصد کا فلاحی منصوبہ۔ اور تجربہ و مشاہدہ یہی ہے کہ سبیلوں اور ڈیموں کی تعمیر چندے سے نہیں ہوتی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.