اداروں کے درمیان پھر لڑائی

270

ایک عرصے سے سنجیدہ حلقوں کی جانب سے حکمرانوں، قومی اداروں اور سیاسی رہنماؤں کو مشورہ دیا جارہا تھا کہ تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہیں، اگر ایک دوسرے کے دائروں میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی تو معاملات نہ صرف خراب ہوں گے بلکہ ملکی نظام میں بھی بدنظمی پیدا ہوگی۔ یہ عجیب رویہ ہے کہ ہر ادارہ انفرادی طور پر تو اس بات کا حامی اور وکیل ہے کہ تمام اداروں کو اپنے اپنے دائرے میں رہنا چاہیے لیکن جب دوسرے اداروں کا معاملہ آتا ہے تو اس کے معاملات میں مداخلت شروع کردی جاتی ہے عام سیاستدان ہوں، حکمران ہوں، اپوزیشن ہو یا عدلیہ، فوج اور دیگر ادارے۔۔۔ ہر ادارے کی جانب سے کسی نہ کسی کے بارے میں قابل اعتراض تبصرے اور اگر طاقت ہو تو براہ راست مداخلت کردی جاتی ہے۔ سیاستدان تو تبصرے کرتے ہیں، بیانات دیتے ہیں، حکمران قانون سازی کرتے ہیں اور فوج، عدلیہ اور دیگر ریاستی ادارے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہیں۔اوّل الذکر پھنس جائیں تو معافی مانگ لیتے ہیں۔ چوں کہ ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے حوالے سے اتفاق رائے کے باوجود ادارے باز نہیں آتے جس کے نتیجے میں خرابیاں بڑھ رہی ہیں۔ تازہ ترین واقعہ یہ ہوا کہ سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے چیف جسٹس کے ریمارکس اور بعض باتوں سے اختلاف کی بنیاد پر یہ تبصرہ کردیا کہ چیف جسٹس اپنی سیاسی جماعت بنالیں۔ ظاہری بات ہے یہ پاکستان کی سب سے اعلیٰ عدلیہ کے سربراہ کے بارے میں ایسا تبصرہ ہے کہ اس پر خاموشی ممکن نہیں تھی۔ چناں چہ اگلے دن چیف جسٹس نے سیاسی جماعت بنانے کے مشورے اور ڈیم کے بارے میں مخالفانہ تبصروں پر برہمی کا اظہار کیا اور آخری وارننگ جاری کردی ہے۔ یہ ایک نہ ایک دن ہونا تھا۔ خورشید شاہ نے بھی یوں ہی بوریت کی وجہ سے یہ بیان نہیں داغا بلکہ بہت سی چیزیں پہلے سے پک رہی تھیں، کسی نہ کسی وقت یہ لاوا پھٹنا تھا۔ اب جب کہ چیف جسٹس نے آخری وارننگ دی ہے تو یہ محض بیان اور تبصرہ نہیں ہوگا آئندہ کوئی ایسی بات کرے گا تو وہ اس کا نوٹس بھی لیں گے اور کارروائی بھی کریں گے۔ لیکن خورشید شاہ صاحب سے بھی پوچھنا ہوگا کہ انہوں نے ایسی بات کیوں کی؟۔ یقینی طور پر خورشید شاہ کے پاس ایسی بات کرنے کا جواز تو ہوگا، یہ بات کوئی خفیہ اور ڈھکی چھپی نہیں ہے، عدالت عظمیٰ کے فیصلوں اور ججوں کے تبصروں میں فرق ہوتا ہے اور ججوں کے بعض تبصرے ایسے ہوتے ہیں کہ ان پر کوئی بھی جواب دے سکتا ہے۔ سماجی ذریعہ ابلاغ یا سوشل میڈیا تو اس کے بعد شتر بے مہار یا بے سمت میزائل کی طرح کام کرتا ہے پھر خرابیاں مزید بڑھنے لگتی ہیں۔ ایک بار پھر خرابی یہاں تک پہنچی ہے کہ چیف جسٹس اور سابق اپوزیشن لیڈر آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ اس میں خورشید شاہ کا کچھ زیادہ نہیں بگڑے گا اگر اس کا نوٹس لے لیا گیا کہ خورشید شاہ نے چیف جسٹس کو پارٹی بنانے کا مشورہ کیوں دیا۔ تو چیف جسٹس کے ریمارکس بھی زیر بحث آئیں گے اور اس میں نقصان بڑے کا ہی ہوگا۔ لہٰذا ہمارا مشورہ تو یہی ہے کہ یہ بات یہیں روک دی جائے لیکن یہ بات بھی یاد رہے کہ ایسی نوبت آنے کیوں دی جاتی ہے۔ صرف سیاسی جماعت بنانے کے مشورے اور وارننگ والی بات روکنے سے فائدہ نہیں ہوگا بلکہ تمام سیاستدانوں کو چور کہنے، تمام حکمرانوں کو نااہل کہنے یا کسی ڈاکٹر کو دس بارہ لاکھ تنخواہ ملنے پر اعتراض اور تبصرے کرنے سے بھی گریز کرنا ہوگا۔ جو مشورہ نیب کو دیا گیا ہے کہ مقدمات چلائیں بے عزتی نہ کریں اس مشورے پر سب کو عمل کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے اخبارات کو بھی اور ٹی وی چینلوں کو ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ چھوٹی سی بات کو بہت بڑا بنادیا جاتا ہے، ایک کے پیچھے پڑ جائیں تو اپنے طور پر اسے پھانسی سے کم سزا پر راضی نہیں ہوتے۔ دوسرے یہ کہ وہ خفیہ ہاتھ جو خود تو سامنے نہیں آتا اس کے اشاروں پر یا اس سے پیسے لے کر سیاستدانوں کو بدنام کرنے کی مہم بھی بند کرنی چاہیے اور مذہب بیزار صحافی اور صحافتی ادارے کسی ایک فرد کے نام پر دین اور شریعت کے خلاف مہم چلاتے ہیں، اس کو روکنے کی ضرورت ہے۔ چوں کہ الزام لگا کر ثبوت نہ دینے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا، اس لیے میڈیا نے اس کا خوب فائدہ اٹھایا ہے جس کی چاہتا ہے پگڑی اچھالتا ہے اور بریکنگ نیوز بنا کر خوب ریٹنگ بڑھائی جاتی ہے۔ ایک اور تاثر میڈیا کے ذریعے بھی دیا جارہا ہے اور ڈیم کے لیے چندہ جمع کرنے والے بھی یہی سمجھنے لگے ہیں کہ جو ڈیم کے لیے چندے کی مخالفت کررہا ہے وہ ڈیم کا مخالف ہے، ملک کا غدار ہے اور ایسے آدمی کو سزا ملنی چاہیے یا کم از کم اسے بُرا سمجھا جانا چاہیے۔ چیف جسٹس نے بھی یہی تاثر لیا۔ کم از کم ان کے بیان کا تو یہی مطلب ہے، وہ کہتے ہیں کہ ڈیم کی مخالفت کرنے والے کسی اور کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ عدالت کو بدنام کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے، گویا وہ بھی یہی سمجھ رہے ہیں کہ کوئی بھی ڈیم کے لیے چندے کی مخالفت کرے گا تو وہ ڈیم کا مخالف تصور کیا جائے گا۔ اس موضوع پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ چندے سے ڈیم نہیں بنتے ان کے پاس اس کے حق میں دلائل ہیں۔ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ڈیم بنانے سے قبل اس کے مقام کو دیکھیں، پانچ سال میں ڈیم نہ بنا تو واپڈا کو ذمے دار قرار دیا جائے گا۔ یہ کسی 400 گز کے مکان کی تعمیر تو نہیں کہ آج حکم دیا کل سے تعمیر شروع ہوگئی۔ اس کے لیے بھی درجنوں لوازمات پورے کرنے پڑتے ہیں۔ اگرچہ کام سرکاری ہو پھر بھی بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ دیامر بھاشا تک سڑک کی تعمیر، بھاری مشینری پہنچانا اور انجینئروں کی ایک پوری بستی بسانا پڑے گی، اس کے بعد وہاں کام شروع ہوگا اور اس میں پانچ برس گزر جائیں گے۔ تمام اداروں کو سنجیدگی اختیار کرنی چاہیے جو سامنے کھڑے کردیے گئے ہیں وہ بھی اور جو پیچھے سے ڈور بھی ہلا رہے ہیں وہ بھی سنجیدگی اختیار کریں۔ایک خبر ایجنسی نے خورشید شاہ کے بیان اور چیف جسٹس کے تبصرے اور وارننگ کی خبر میں صرف ایک جگہ چھوٹی سی ترمیم یا تحریف کردی ۔ جس سے بات از خود تبدیل ہونے لگی۔ خبر ایجنسی نے خبر یہ جاری کی کہ عدالت عظمیٰ کو سیاسی جماعت بنانے کا مشورہ دینے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ حالاں کہ کئی اخبارات میں خبر یہی لگی ہے کہ چیف جسٹس اپنی سیاسی جماعت بنالیں۔ عدالت اور چیف جسٹس کہنے میں بھی فرق ہے۔ گویا میڈیا کی جانب سے ادارے کو گھسیٹنے کی کوشش کی گئی۔ اس سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ