حکومت مدارس سے متعلق جنگ نہ چھیڑے ، مولانا فضل الرحمٰن

280
اسلام آباد، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان رکنیت سازی کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں
اسلام آباد، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان رکنیت سازی کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں

اسلام آباد (صباح نیوز) جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت مدارس سے متعلق جنگ نہ چھیڑے، ورنہ پھر اس کے دن بھی گنے جاچکے ہیں، اس سلسلے میں،میں نے وفاق المدارس کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کیا ہے، اس کی سنگینی سے بھی اس کو آگاہ کیا ہے اور اس کو یہ بھی بتایا کہ مدارس کی تمام تنظیموں کو رابطے میں لیا جائے تاکہ اس پر ایک واضح ردعمل دیاجائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تنظیم سازی کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں صوبائی سطح پر بھی مدارس کے اجتماعات منعقدکیے جائیں گے، ایک جامع پالیسی مرتب کی جائے گی،جو اقدامات جارحانہ، ناجائز، غیرقانونی، غیرآئینی ہیں اس کے مقابلے میں اپنی پالیسی وضع کریں گے اور اس کا بھرپور ردعمل دیں گے، اب بھی وقت ہے کہ حکومت اپنے فیصلے
واپس لے اگر فیصلے واپس نہیں لے گی تو میاں عاطف کی طرح وہ فیصلے پھر ہم واپس کروائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دینی مدارس باقاعدہ، منظورشدہ رجسٹرڈنیٹ ورک ہے،تمام مکاتب فکرکے مدارس اسی ایک نیٹ ورک کے ساتھ وابستہ ہیں لیکن یک طرفہ طورپر حکومت نے پورے ملک کے مدارس کی رجسٹریشن کومنسوخ کردیا ہے اور پھر تعلیمی اداروں کا معاملہ نیکٹا کے حوالے کردیا گیا ہے، نیکٹا تو دہشت گردی کو کاؤنٹر کرنے کا ایک ادارہ ہے، حکمرانوں نے دینی تعلیمی ادارے اس کے حوالے کیے، ہم اس کو تسلیم نہیں کریں گے، نئے فارم جو چھپے ہیں ہم ان فارموں کو سربازار پھاڑیں گے، اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ہم اس پر مکمل مزاحمت کے لیے تیار ہیں، حکومت بتائے کتنی تیار ہے، غریب طلبہ جو لوگوں کے صدقات اور زکواۃ کے مستحق ہیں اگر عیدالاضحی کے موقع پرکسی مدرسے کو قربانی کی کھالیں دیتے ہیں تو ان مدارس کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی گئی ہے اور سنا ہے کہ اب توکچھ مدارس کے مہتمین کے خلاف عدالتوں نے ایک، ایک سال قیدکی سزا بھی سنادی ہیں۔ یہ کونسا پاکستان ہے، یہ ریاست مدینہ ہے؟۔ کیا ہم ریاست مدینے کی طرف بڑھ رہے ہیں، یا ریاست مدینہ کے تصور کو ختم کرنے کی طرف جا رہے ہیں، ہم پوری آزادی کے ساتھ زندگی گزاریں گے، اپنے اداروں کا تحفظ کریں گے، ان کے لیے قربانیاں دیں گے۔ حکومت کے پاس کوئی وژن نہیں ہے صرف خواب ہیں، اس لیے ہم سفارتی محاذ پر پاکستان کے مستقبل کو تاریک دیکھ رہے ہیں، عوام نے دیکھا کہ قادیانی نیٹ ورک متحرک ہوگیا ہے اور عالمی اسٹیبلشمنٹ اس کی پشت پر ہے، ملکی معیشت کو عالمی معیشت کے تابع کیا جا رہا ہے جو کہ اس وقت یہودی لابی کے کنٹرول میں ہے، بہت بڑے نظریاتی تصادم کی طرف جا رہے ہیں۔ ابھی تو آغاز ہی ہے، مہنگائی چند ہی دنوں میں آسمان کو چھونے لگی، غریب آدمی کے استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کے سہارے نہیں بلکہ ان کو ناراض کرکے آگے بڑھے ہیں، ہم ملکی نظام پر اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی کے خلاف ہیں، ہم نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کا غرور توڑا، موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی اضطراب کا شکار ہے، پاکستان کا آئین ہی میثاق ملی ہے، آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے تمام فرائض سرانجام دیے جائیں، جس سے تمام اداروں اور عوام کے درمیان احترام اور اعتماد کا رشتہ برقرار رہے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ