وزارت آئی ٹی کابجلی چوری کی روک تھام کی ٹیکنالوجی بنانے کا دعویٰ

47

اسلام آباد (خبر ایجنسیاں)وزارتآئی ٹی نے بجلی چوری کی روک تھام کی ٹیکنالوجی بنانے کا دعوی کر دیا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔اجلاس میں وزارت آئی ٹی کے حکام نے بجلی چوری کی روک تھام کی ٹیکنالوجی بنانے کا دعوی کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی (آرٹی فیشل انٹیلی جنس)کی مدد سے کام کرے گی۔حکام نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کے موجد
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) پشاور کے پروفیسر ڈاکٹر گل محمد ہیں، جنہیں وزارت آئی ٹی کے ذیلی ادارے ‘اگنایٹ’ نے سہولت فراہم کی۔حکام کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی سے90 فیصد لائن لاسز اور بجلی چوری کی روک تھام کی جاسکتی ہے جبکہ اس ٹیکنالوجی سے صارفین کو پی ٹی سی ایل کی طرح بلنگ کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کا تجربہ ایم ای ایس پشاور اور ایم ای ایس راولپنڈی میں کیا گیا جس سے ایک سال میں35 فیصد بجلی چوری روکی جاسکی۔حکام نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی اسمارٹ میٹرز اور اسمارٹ گرڈ سے بہتر ہے اور نئی حکومت اسے وزارت توانائی کے حوالے کرے تو فائدہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ سابق حکومت میں اس ٹیکنالوجی سے متعلق اس وقت کے وزیر خزانہ اسحق ڈار اور وزیر مملکت انوشہ رحمن کو بریف کیا، مگر انہوں نے کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی۔قائمہ کمیٹی کے بیشتر ارکان اس نئی ٹیکنالوجی کا سن کر حیران ہو گئے اور کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ مانگ لی۔ حکومت نے ٹیلی مواصلات کے شعبے کی ترقی اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے 5G سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذرائع کے مطابق 3G اور 4G موبائل براڈ بینڈ ٹیکنالوجی کے کامیابی سے اجرا کے بعد 5G سروس شروع کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں جس سے اس شعبے میں نئی سرمایہ کاری لانے میں مدد ملے گی۔ وزارت نے جدید دور کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ٹیلی مواصلات کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے سرمایہ کاروں کو پرکشش سہولیات کی فراہمی کے پیکج کی تیاری پر بھی غور شروع کردیا ہے جس کے تحت ملک میں مزید نئے منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ