نواز شریف جیل کیا گئے کلثوم نواز دنیا سے چلی گئیں

100

کراچی (تجزیہ: محمد انور) سابق وزیراعظم، مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز طویل علالت کے بعد68 سال کی عمر میں منگل کو لندن میں انتقال کر گئیں۔ ان کی وفات اس وقت ہوئی جب نواز شریف اڈیالہ جیل میں اپنے کیے کی سزا بھگت رہے ہیں۔ کلثوم انواز کے بارے میں
خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ میاں نواز شریف کی شریک حیات ہونے کے ساتھ ان کی سیاسی اور کاروباری مشیر اول بھی تھیں۔ ان کی بیماری سے قبل نواز شریف ان سے مشورہ کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا کرتے تھے گوکہ نواز شریف کی کامیاب زندگی کی پشت پر بیگم کلثوم کا اہم کردار رہا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران نواز شریف اور ان کے خاندان نے جو تکالیف بھگتیں ان میں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے عہدے سے نااہلی اور عام انتخابات میں ان کی خاندانی پارٹی مسلم لیگ شکست بھی شامل ہے۔2018ء نواز شریف کے لیے اس لحاظ سے بھی برا گزر رہا ہے کہ اس سال 6 جولائی کو انہیں اور ان کی بیٹی و داماد کو قید اور جرمانوں کی سزائیں دی گئیں جس کے بعد وہ 13 جولائی کو لندن میں اپنی بیمار بیوی کو چھوڑ کر واپس ملک آگئے، یہاں انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ خاندانی ذرائع اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ نواز شریف کے لیے کلثوم نواز کی موت کا صدمہ بہت گہرا ہے۔ وہ اس صدمے کو قید کی حالت میں مشکل ہی سے برداشت کر پائیں گے۔ امکان ہے کہ نواز شریف اپنی اہلیہ کی وفات کے صدمے میں ملکی سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کردیں گے۔ کلثوم نواز کے انتقال کے بعد نواز شریف بھی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی طرح رنڈوا ہوگئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ