نجی میڈیکل کالجوں میں اضافی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت

26

اسلام آباد (صباح نیوز)چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نجی میڈیکل کالجوں میں اضافی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ غیر معیاری میڈیکل کالج سے آنے والے ڈاکٹروں کو بلڈ پریشر دیکھنا نہیں آتا۔نجی میڈیکل کالجوں کے بغیر میڈیکل کا
شعبہ آگے چل نہیں سکتا۔ کالجز کے وکیل نے کہاکہ نئی ریگولیشنز نجی میڈیکل کالجوں کی مشاورت سے نہیں بنائی گئیں ۔چیف جسٹس نے کہاکہ نجی کالجوں میں داخلہ کا معاملہ 9 لاکھ 50 ہزار روپے میں طے ہوا ہے ، اس پر وکیل نے کہاکہ فیس 9لاکھ 50 ہزار سے کم کرنا ممکن نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیکل کالجز میں داخلے بھی شروع ہیں تاہم ریگولیشنز کا معاملہ آئندہ پیر تک طے کر لیں، عدالتی حکم سے فیس کی مد میں 755 ملین روپے میڈیکل کالجوں نے واپس کیے ، اس پر وکیل نے موقف اپنایا کہ آغا خان میڈیکل کالج کی فیسیں بھی کم کی جائیں ، چیف جسٹس نے کہاکہ جب آپ آغا خان کا معیار اپنا لیں تو وہی معیار آپ کے لیے بھی ہوگا ، جو میڈیکل کالجز معیار کو بہتر نہیں بنا سکے ان کو بند اور بھاری جرمانے بھی کریں گے۔ پی ایم ڈی سی کے وکیل نے کہا جو کالج معیار بہتر کریں گے ان کی انسپکشن کریں گے۔عدالت نے حکم میں کہاکہ فریقین کے مطابق پامی اور پی ایم ڈی سی کے مابین معاہدہ طے پا گیا ہے ۔پامی کا موقف ہے کہ ریگولیشنز کی سفارشات پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔عدالت نے قراردیاکہ اٹارنی جنرل کی سربراہی میں تمام فریقین کا اجلاس بلاکرمسئلے کا متفقہ حل نکالا جائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ