ترکاریوں اور پھلوں میں نباتاتی مقویات

104

ڈاکٹر عابد معز

محققین نے ترکاریوں اور پھلوںمیں کئی ایسے مادّوں کی کھوج لگائی ہے جو ہماری صحت بہتر کرنے اور امراض سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ماہرین ان مادّوں کو صحت کی برقراری کے لیے ضروری قراردیتے ہوئے انہیں مغذیات یا مقویات یعنی nutrients کا درجہ دیتے ہیں۔ ترکاریوں اور پھلوں سے ملنے والے ان مادّوں کو Phytonutrients یعنی نباتاتی مقویات یا نباتاتی غذائی اجزا کہتے ہیں۔ نباتاتی مقویات کو Phytochemicals یا Pigments یعنی نباتاتی کیمیائی یا رنگ دار مادّے بھی کہا جاتا ہے۔
تحقیق میں نباتاتی مادّوں کو مختلف حالات اور امراض کے خلاف اور ان کے علاج میں کارگر پایا گیا ہے۔ لیکن ابھی ان کے بارے میں حتمی طور پر کوئی بات کہنا اور ان کا دوا ، صحت بخش مادّوں یا مقویات کے طور پر استعمال کی سفارش نہیں کی جاسکتی ہے۔ اس وقت اتنا کہاجاسکتا ہے ان کا استعمال قدرتی حالت میں ترکاری اور پھل کے اجزا کی حیثیت سے صحت بخش ہے۔
غذائی اشتہارات میں نباتاتی مادّوں کی خوبیوں کو بڑھاچڑھاکر پیش کیاجاتا ہے۔آپ کی نظر سے ایسے اشتہارات گزرے ہوں گے۔ سردست مجھے چائے کا ایک اشتہار یاد آرہا ہے جس میں فلاوینائڈس کی خوبیاں بیان کرکے صحت بنانے کے لیے چائے کے زیادہ استعمال کا مشورہ دیا جاتاہے۔
نباتاتی مادّے مختلف رنگ کے ہوتے ہیں۔ پکوان کے طریقوں سے ان مادّوں کا رنگ تبدیل ہوسکتا ہے۔ زیادہ گرم کرنے اور ترش (تیزابی یا acidic) یا القلی (alkaline) ماحول اور آکسیجن سے تعامل کے نتیجے میں ترکاری اور پھل کا رنگ تبدیل ہوتا ہے۔ رنگ میں تبدیلی کے علاوہ پکوان کے دوران رنگ دار مادّے پانی یا روغن میں حل ہوکر غذائی اشیا سے باہر نکل بھی آتے ہیں۔
ترکاری اور پھل میں پائے جانے والے اکثر مادّے مانع تکسید (antioxidants) کے طور پر کام کرتے ہیں۔ جسم میں مختلف استحالی عمل (metabolic process) کے دوران نقصان دہ مادے free radicals وجود میں آتے ہیں۔ مانع تکسید مادے محفوظ طریقے سے free radicals کو جسم سے باہر نکالتے ہیں۔
ترکاریوں اور پھلوں کا رنگ انہی phytonutrients یا phytochemicals کے سبب ہے۔ رنگین پھلوں اور ترکاریوں میںنباتاتی مقویات کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ رنگ دار مادّے (pigments) پانی یا روغن میں حل پذیری کی بنیاد پر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم وہ جو روغن یعنی fats میں حل پذیر ہوتے ہیں۔ ان میں کلوروفل (Chlorophyll) اور کیروٹینائڈس (Carotenoids) شامل ہیں۔ انہیں Fat Soluble Pigments کہا جاتا ہے۔
دوسری قسم پانی میں حل پذیر یعنی Water Soluble Pigments کی ہوتی ہے۔ یہ مادّے پانی میں حل ہوتے ہیں۔ اس قسم کے مادّوں میں فلاونائڈس (Falvonoids)اہم مثال ہے۔ ترکاری اور پھل میں پائے جانے والے مادّوں (Phytochemicals, Phytonutrients یا نباتاتی مقویات) کو رنگوں کی بنیاد پر بھی تقسیم کیاجاتا ہے۔ترکاری اور پھل میں پائے جانے والے اہم مادّوں کے متعلق ذیل میں مختصر بیان کیاجاتا ہے۔
اینتھوسیاننس(Anthocyanins): اس قسم کے مادّے لال، نیلے، ارغوانی یا بیگنی رنگ کے ہوتے ہیں۔ انہیں Lycopene بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مادّے مانع تکسید (antioxidant) صلاحیت رکھتے ہیں اور دل کے امراض اور چند قسم کے کینسر سے محفوظ رکھنے میں معاون ہوتے ہیں۔ یہ مادّے لال ، نیلے اور ارغوانی رنگوں کی مختلف ترکاریوں اور پھلوں جیسے ٹماٹر، چقندر، لال گوبھی،بیگن، rhubarb، لال انگور، انار، انجیر، تربوز، cherries، strawberries، cranberries وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔
کیروٹینائڈس (Carotenoids): یہ مادّے روغن میں حل پذیر ہیں اور ان کا رنگ پیلے سے نارنگی ہوتا ہے۔ اس قسم کے مادّہ کو پہلی مرتبہ گاجر سے کشیدکیا گیا تھا، اس لیے ایسے مادّوں کو Carotenoids کا نام دیا جاتا ہے۔ کیروٹینائڈس کے بہترین ذرائع زرد یانارنگی رنگ کے میوے اور ترکاریاں اور ہرے پتے والی ترکاریاں ہیں۔ ان میں خوبانی، خربوزہ، آم، لیمو، سنترہ، مالٹا، پپیتا، آڑو، انناس، چکوترا، کدو، رتالو،وغیرہ شامل ہیں۔ کیروٹینائڈس ہرے پتے والی ترکاریوں میں بھی پائے جاتے ہیں لیکن ہرے رنگ کی موجودگی سے ان کا زرد رنگ دب جاتا ہے۔ زردی مائل یا زعفرانی ہرا رنگ کیروٹینائڈس کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
کیروٹینائڈس مانع تکسید(antioxidant) صلاحیت رکھتے ہیں۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کیروٹینائڈس دل کے امراض اور چند قسم کے کینسر سے محفوظ رکھتے ہیں اور مامونیاتی نظام (Immune System) میں بہتری کا باعث بھی بنتے ہیں۔کیروٹینائڈس گروہ کا ایک مادّہ بی ٹا کیروٹین (beta carotene) ہے۔ انسانی جسم بی ٹا کیروٹین کو وٹامن اے میں تبدیل کرسکتا ہے اور یہ وٹامن اے کا نباتی ذریعہ ہے۔ اسے بدل وٹامن اے (Provitamin A) بھی کہاجاتا ہے۔ ماہرین یومیہ 5سے 10ملی گرام بی ٹاکیروٹین کی ضرورت بتاتے ہیں۔
کلوروفل (Chlorophyll): ہرے رنگ کا روغن میں حل پذیر یہ مادّہ کئی ترکاریوں میں پایاجاتا ہے۔ ترکاریوں اور پھلوں کا ہرا یا گہرا ہرا رنگ اسی مادّوں کے سبب ہوتا ہے۔
کلوروفل مختلف ترکاریوں اور پھلوں جیسے ہرا سیب، ناشپاتی، مگرناشپاتی، ہرے انگور، کیوی پھل، پالک، ہرے پتے دار ترکاریاں، broccoli، کھیرا، پتا گوبھی، مٹر وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔ کلوروفل کا استعمال سانس کی بدبو کے خلاف عرصہ سے ہوتا رہا ہے۔ تحقیق میں کلوروفل کو مختلف حالات اور امراض میں مفید پایا گیا ہے۔
لیوٹین (Lutein): ہرے پتے والی ترکاری میں ایک اور مادّہ Lutein پایا جاتا ہے۔ یہ مادّہ ایک دوسرے مادّہ Zeaxanthin جو مکئی، لال مرچ، سنترہ، انگور اور انڈے کی زردی میں پایا جاتا ہے سے مل کر بینائی اور آنکھوں کی صحت بہتر کرنے میں معاون ثابت ہوا ہے۔ ان دو مادّوں کو موتیا (Cataract) اور عمر کے ساتھ ہونے والے macular degeneration کو روکنے میں بھی مددگار پایا گیاہے۔
فلاونائڈس (Flavonoids): پانی میں حل پذیر یہ زرد رنگ کے مادّے کئی قسم کی ترکاریوں اور پھلوں میں پائے جاتے ہیں۔ انہیں Bioflavonoids بھی کہاجاتا ہے۔ فلاونائڈس مادّوں کو مانع تکسیدصلاحیت رکھنے کے علاوہ الرجی، التہاب اور کینسر کے خلاف بھی کارگرپایا گیا ہے۔ موز، ترنجی پھل، مختلف berries، چائے بالخصوص ہری چائے فلاونائڈس کے اچھے ذرائع ہیں۔ بازار میں ان کے supplements بھی ملتے ہیں۔
اینتھوزانتنس (Anthoxanthins): یہ ایک قسم کے فلاونائڈس مادّے ہیں جو پیلے، سفید اوربے رنگ ہوتے ہیں۔ یہ مادّے آلو اور پھول گوبھی جیسی سفید اور پیلی رنگ کی ترکاریوں میں پائے جاتے ہیں۔
Tannins: یہ بے رنگ مادّے ہوتے ہیں جو ہوا کے رابطے میں آنے پر بھورارنگ اختیار کرجاتے ہیں۔چائے اور دوسرے پودوں کے تنوں میں tannins موجود ہوتے ہیں۔
دیگر مرکبات (Other Substances): ترکاری اور پھل میں نباتاتی مقویات جیسے مانع تکسید مادّے (antioxidants)، pigments کے علاوہ بھی چند دوسرے کیمیائی مادّوں کی موجودگی کا پتا لگایا گیاہے۔ ترکاری اور پھل میں مختلف خامرے (Enzymes) جیسے papain, phenolases, glycosidase, perioxidases وغیرہ پائے جاتے ہیں۔ خامرے پروٹینی مادّے ہوتے ہیں جو زیادہ گرمی سے بے اثر ہوجاتے ہیں۔
ترکاری اور پھل میں Flavor Compounds بھی ہوتے ہیں جو ان کے مخصوص ذائقے اور خوش بو کا سبب بنتے ہیں۔ ان مادّوں کا مختلف کیمیائی گروپس جیسے aldehydes, alcohols, ketones, organic acids, sulfur compounds وغیرہ سے تعلق ہوتا ہے۔ ان کیمیائی مادّوں کی مختلف خوبیاں بتائی جاتی ہیں اور ان کے استعمال کے بھی الگ الگ فائدے گنائے جاتے ہیں جن کے متعلق وثوق سے ابھی کہنا مشکل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ