بات چیت کا در کھلا رہنا چاہیے 

115

جلال نُورزئی

بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال کہہ چکے ہیں کہ وہ یا ان کی حکومت باہر بیٹھے بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات نہیں کرے گی ۔ یہ کہ ان کے پیشرو وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور نواب ثناء اللہ زہری نے ان سے ڈائیلاگ کرکے وقت ضائع کیا۔ انہیں یہاں کے یعنی صوبے کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے تھی۔ دیکھا جائے تو ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی حکومت اس حوالے سے سنجیدہ تھی، جنہوں نے بلواسطہ اور بلاواسطہ بیرونی ممالک میں بیٹھے بلوچ رہنماؤں سے روابط قائم کئے تھے۔ ملاقاتیں ہوئیں ان کے مطالبات ، گلے شکوے جو بھی تھے سن رہے تھے۔ نیشنل پارٹی کی شکایت یہ تھی کہ ان کی مفاہمتی کوششوں کو کامیاب ہونے نہیں دیا گیا۔ مسئلہ نظر انداز کرکے فراموش کردیا گیا۔ رہی بات نواب ثناء اللہ زہری کی، وہ ضرور لندن گئے تھے خان آف قلات سلیمان داؤد سے ملاقات بھی کی تھی ۔مگر نواب زہری اس مشن میں سنجیدہ نہ تھے ۔ چونکہ ڈاکٹر عبد الماک بلوچ وزیر اعلیٰ تھے،ن لیگ اتحادی تھی ۔اور ن لیگ کا دعویٰ تھا کہ اکثریتی پارٹی کی حیثیت سے وزارت اعلیٰ پر ان کا حق ہے ۔اس بناء نواب زہری کی نیشنل پارٹی سے لگتی نہیں تھی ۔ان کے لئے مسائل بناتے ۔جب ڈاکٹر عبد المالک نے ناراض بلوچوں کو منانے کی خاطر جنبش کی تو ان کے علی الرغم نواب زہری بھی لندن گئے ۔ تاہم یہ ایک وقتی و سطحی ملاقات تھی ۔ بہر حال نیشنل پارٹی کی قیادت پُراُمید تھی کہ ان کی یہ کوشش رنگ لائے گی ۔ حکومت ختم ہونے کے بعد بارہا ان کی جانب سے تنقید ہوئی کہ مذاکرات اور مفاہمت کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے۔رہی جام کمال کی یہ بات کہ اس وقت کی حکومت وقت ضائع کرنے کی بجائے صوبے کے مسائل پر توجہ کرتی ، ظاہر ہے حکومت دن رات ڈائیلاگ میں تو لگی نہیں تھی کہ صوبے کے مسائل ادھورے رہ گئے۔ حکومتی اور انتظامی معاملات چلتے رہے ۔ ڈائیلاگ کا وقت اور طریقہ ہوتا ہے جس پر وہ اپنی حیثیت کے مطابق عمل پیرا تھے۔ اچھی بات ہوگی کہ جام کمال اس مسئلے کو بھی اپنی ترجیح میں شامل کریں۔ یہ بلوچستان کا ایک اہم اور نازک مسئلہ ہے ۔ انہیں ڈائیلاگ سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔اگر یہ کام جام کمال کے بس اور دائرہ اختیار میں نہ ہے تو حسن تدبیر و مصلحت کے طور اس بابت اظہار خیال بھی نہ کریں ۔اور اس گمبھیر مسئلہ کو وقت و حالات پر چھوڑا جائے ۔ جام کمال بیشک اپنے ارادوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ صوبے کے مسائل و ترقی پر توجہ دیں۔ مگر ماننا پڑے گا کہ شدت پسندی ایک حل طلب مسئلہ ہے۔ اس امر میں بھی دو رائے نہیں ہے کہ مذاکرات و مفاہمت پاکستان کی کتابِ آئین کے چار کونوں کے اندر ہوں۔ اور بلا شبہ ان تنظیموں نے صوبے کے اندر دہشتگردی اورزد و کُشت کی رویوں کو فروغ دیا جو قابل مذمت ہے۔ اس سوچ اور رویے نے معاشرے کوخرابیوں و تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے ۔ خطے کے بدلتے حالات کا تقاضا ہے کہ بلوچستان میں بلوچ انسرجنسی کا خاتمہ ہو۔ اس وقت پاکستان کے تعلقات امریکہ کے ساتھ اطمینان بخش نہ ہیں۔ امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ بھارت کو ساتھ لیکر خطے کی معیشت، تجارت و سیاست پر اثر انداز ہو۔ گویا امریکہ اور بھارت دفاعی معاہدوں اور اتحاد میں جڑ چکے ہیں ۔ بھارت افغانستان کے اندر اہم شراکت دار ہے چنانچہ ان دونوں ممالک کی نیندیں افغانستان کے اندر مزاحمت سے حرام ہوچکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ پاکستان کے کردار کو مشکوک ٹھہراچکا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو دورہ پاکستان کے بعد بھارت گئے وہاں انہیں خاصی پذیرائی ملی ہے۔ وہاں امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میتھس بھی ساتھ تھے۔ جیمز میتھس نے افغانستان کا دورہ بھی کیا۔ صدر اشرف غنی اور دوسرے فوجی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان ہی اسے افغانستان کے دلدل سے نکال سکتا ہے اور سمجھتا ہے کہ افغان طالبان کی مزاحمت پاکستان کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ اس خاطر امریکہ پاکستان پر برابر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لے آئیں۔ ظاہر ہے کہ افغانستان کا مسئلہ گنجلگ اور پیچیدہ ہے۔ اگر محاسبہ ہو تو امریکہ ہی اس کے لیے قصوروار ہے ۔ غرض اگر افغانستان میں نتیجہ و حالات یونہی رہے تو امریکہ پاکستان پر عملاً دباؤ ڈالنے کے ساتھ تخریب و انتشار کے مختلف منصبوں پر درپردہ عمل پیرا ہو گا۔ بھارت اس شر و فساد میں علیٰ حالِہٰ معاون رہے گا ،بلکہ بھارت ہی در اصل پیش پیش ہو گا ۔ گویا خطہ مزیدبے قراری اوراضطراب کی طرف بڑھے گا ،امن کے سنگین مسائل پیدا ہوں گے۔ 6ستمبر کو بھارت اور امریکہ کے درمیان اہم فوجی معاہدے پر دستخط ہوچکے ہیں ۔ اب بھارت امریکہ سے مزید اہم دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کرسکے گا۔ گویایہ سارے اشارے پاکستان کے حق و مفاد میں نہیں ہیں۔بلوچستان اور افغانستان کی سرحد 1268 کلومیٹر پر مشتمل ہے ۔ لہٰذا اس تناظر میں بلوچستان کا خطہ ہر لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔ بلوچستان کی انسرجنسی ہو یا مذہبی دہشتگرد گروہ سب کی پناہ گاہیں افغانستان میں ہیں جو بھارت کی را اور افغانستان کی این ڈی ایس کے پیرول پر ہیں۔ ان گروہوں میں مذہب کی شناخت وا لے گروہ اب بھی فعال ہیں۔ البتہ بلوچ شدت پسندوں کی سابقہ حیثیت تو نہ رہی لیکن ان کی موجودگی سے انکار بھی نہیں، ان کا نیٹ ورک پھر سے فعال ہوسکتا ہے۔ جب ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کی تین سو ملین ڈالر امداد کی بندش کا اعلان کیا تو اس پر بلوچ شدت پسند رہنماؤں نے مسرت کا اظہار کیا۔ بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر نے تو امریکہ اور مغربی ممالک سے امداد کی بندش سمیت پاکستان کے خلاف راست اقدامات اٹھانے کی اپیل کردی اور امریکہ و نیٹو کو یہ توجہ دلانے کی کوشش کی کہ یہ ممالک تجزیہ کریں کہ افغانستان میں دو دہائی سے چلنے والی جنگ اپنے انجام تک کیوں نہیں پہنچتی۔ یعنی امریکہ کو یہ بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کے مذہبی عناصر کو ہتھیار اور دوسری امداد دے کر افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے اور پاکستان کے ساتھ افغانستان میں امن و سلامتی کی بحالی کا اتحاد مغرب کا ناکام فیصلہ تھا۔ اور ان ممالک سے آزاد بلوچستان کی تحریک کی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔ گویا مشکلات کم سے کم کرنے کی سعی ہونی چاہیے ۔ اس کیلئے پسند و ناپسند اور ترجیح کا معاملہ ملک کو نقصان سے دوچار کرسکتا ہے۔ افغانستان کے مسئلے پر اگر پاکستان اور امریکہ کی نہ بنی تو بلوچستان میں حالات پھر سے پرانی نہج پر آجائیں گے۔حالات سازگار ہوں گے تو سردار اختر مینگل کے چھ نکات میں لاپتہ افراد کی بازیابی کا نکتہ نہیں رہے گا ۔سردار اختر مینگل کو بھی چاہیے کہ بلوچستان میں امن کی واپسی کی خاطر اپنے بھائی جاوید مینگل کو ملک آنے پر آمادہ کریں ۔اگر صوبے میں علیحدگی اور شدت پسندی نہ ہوگی تو یقینی طور پر کوئی بندہ لاپتہ بھی نہیں ہو گا۔خان آف قلات سلمان داؤد کی واپسی ممکن ہے ۔وہ ڈاکٹر عبدالمالک کے دور وزارت اعلیٰ میں آنے کی ہامی بھر چکے تھے۔ اچھا ہوا کہ گزین مری کی واپسی ہوئی وہ سیاسی عمل میں شریک ہوئے۔ انتخابات میں حصہ لیا حالانکہ ان کی آمد کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے تھے۔سچی بات یہ ہے کہ وہ جو اغراض اور جاہ و منصب کی خاطر محب وطن بنے پھرتے ہیں دراصل نہیں چاہتے کہ مفاہمت و بات چیت کا آغاز ہو ا۔ چناں چہ جام کمال کو چاہیے کہ وہ مذاکرات و بات چیت کا در کھلا رکھیں، اسی میں صوبے کی بھلائی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ