عمران خان تین ماہ تو دو!

127

جدید جمہوری مملکتوں کو صحیح سمت میں چلانے کے لیے مملکت کے چارستونوں میں میڈیا ایک اہم ستون ہے۔ میڈیا اگر حقیقت پسندی سے کام لے اور مملکت کو دوسرے کاموں پر فوقیت دے تو مملکت میں مطلوبہ مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ مگر کیا کیا جائے بیرونی دنیا کے مقروض ترقی پسند ممالک کا کہ جس میں آزاد میڈیا کہاں ہے؟ پاکستانی میڈیا کے محب وطن عناصر اس کی نشان دہی برسوں سے کرتے آئے ہیں۔ امریکا نے پاکستان کو اپنی مرضی سے چلانے کے لیے میڈیا کے لیے کثیر رقم اپنے بجٹ میں رکھی تھی۔ جس کا ایک بڑا حصہ پاکستانی میڈیا کو ملتا رہا ہے۔ امریکی امداد لینے والے میڈیا کو پاکستان کے محب لوگ امریکی فنڈڈ میڈیا لکھتے آئے ہیں۔ امریکا بہادر مختلف طریقوں سے ملک کے نظاموں کو تبدیل کرنے کے لیے مختلف ناجائز حربے استعمال کرتا رہتا ہے۔ مثلاً کیری لوگر بل کو ہی لے لیجیے۔ اس امداد کے ذریعے پاکستان کو اپنی پالیسیاں کے تحت چلاتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ غریب ملکوں کو قرضے دینے والے ادارے اس کے کنٹرول میں ہیں۔ اسلحہ بنانے والے بڑے بڑے اداروں پر اس کی اجاراداری ہے۔ وہ گریٹ گیم کہ ملکوں کے نظاموں کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتا ہے۔ پاکستان کی ہی مثال لیں۔ امریکا بھارت کی طرفداری کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی خاموشی سے حمایت کرتا رہا ہے۔ پاکستان کی معیشت کو پہلے دہشت گردی سے تباہ کیا۔ پھر بھاری قرضے دلوا کر اس کو پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ ڈو مور کے لیے کہتا رہتا ہے۔ اب عمران خان کی نئی حکومت کو ڈو مور کا پیغام اپنے وزیر خارجہ کے ذریعے دیا۔
عمران خان نے پاکستان میں بین لااقوامی معیار کے فلاحی ادارے قائم کر کے انہیں کامیابی سے چلایا۔ اس سے پاکستان کے عوام میں اس کے لیے ہمدردی پیدا ہوئی۔ 2013ء کے انتخابات میں ووٹوں کے لحاظ وہ نون لیگ کے بعد دوسرے نمبر پر اور پیپلز پارٹی تیسرے نمبر پر تھی۔ مگر سیٹیں زیادہ لینے کی وجہ سے پیپلز پارٹی پاکستان کی پارلیمنٹ میں حزب اختلاف بنی۔ گو کہ عمران خان کی پارلیمنٹ میں کارکردگی اچھی نہیں رہی، پارلیمنٹ میں حاضری بھی کم تھی۔ وہ پارلیمنٹ کے لیے نازیبا الفاظ بھی استعمال کرتے رہے۔ مگر پاکستان کے اسلای تشخص، یعنی علامہ اقبال ؒ کے خواب اور قائدؒ کے وژن، اپنی ذات میں کرپشن سے پاک ہونے، خیبر پختون خوا میں بہتر کارکردگی، اپنے کرپٹ ارکان کے خلاف سخت ایکشن، کرپشن سے پاک انداز میں اپنے قائم کردہ ادارے چلانے کی وجہ سے پاکستان کے عوام نے عمران خان کے الیکشن میں کامیاب کیا۔ اصل میں کرپشن کے مارے پاکستانی عوام کسی مسیحا کی تلاش میں تھے جن کو عمران خان مل کیا۔
کم لوگوں کا دھیان اس طرف گیا ہے کہ سیاسی لیڈروں کے عام سیاسی وعدوں سے ہٹ کرعمران خا ن نے اپنی مہم کے دوران پاکستان کی 90 فی صد خاموش آبادی کو ملک کے سب سے بڑے مسئلہ کرپشن کے ساتھ ساتھ ان کی اسلام سے محبت کی امنگوں کے مطابق پالیسی اختیار کی۔ اس نے کہا کہ میں علامہ اقبال ؒ کے خواب اور بانی پاکستان قائد اعظم ؒ کے وژن کے مطابق پاکستان کی حقیقی منزل مدینہ کی فلاحی اسلامی ریاست قائم کرنے کی کوشش کروں گا۔ جب کہ سیاست دانوں نے پاکستانی عوام کو کبھی روٹی کپڑا مکان اور اسلامی سوشلزم کے پر فریب نعرے لگا کر اس کی اصلی منزل سے دور کیا۔ کبھی فوجی ڈکٹیٹروں نے جابرانہ حکومت کی۔ ایک ڈکٹیٹر نے تو امریکا کا ساتھ دے کر ملک کا بیڑا غرق کیا۔ اس نے ملک کو پٹے ہوئے سلوکن روشن خیال کے تحت چلانے کی کوشش بھی کی۔ نواز شریف نے بانی پاکستان قائد اعظم ؒ کے دو قومی نظریہ کی کھل کر مخالفت کی اور کہا کہ میں سیکولر ہوں۔ اس نے پاکستان کے بنیادی نظریہ کی مخالفت اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے کی۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے۔ مودی نے بنگلا دیش میں بیان دیا تھا کہ بھارت نے پاکستان توڑا ہے۔ اس کا وزیر داخلہ کہتا ہے کہ پہلے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے اب دس ٹکڑے کریں گے۔ پورے بھارت میں دہشت گرد مودی نے پاکستان مخالف جنگی جنون پیدا کیا ہوا ہے۔ نواز شریف نے اسے ریڈ کارپٹ دے کر بغیر ویزے کے لاہور اپنی رہائش گاہ جاتی عمرہ بلایا۔ بھارت کے اسٹیل ٹائکون کو بغیر ویزے کے مری میں بلایا۔ عوام کی خواہشات کے برعکس مغرب کی خوشنودی کے لیے عاشق رسول ممتاز قادری کو پھانسی پر چڑھایا۔ آج نواز شریف بھی ان ہی غلطیوں کی وجہ سے، مکافات عمل سے گزر رہا ہے۔
سیاست دانوں کو یہ بات پلو سے باندھ لینی چاہیے کہ پاکستان میں وہی سیاست دان کامیاب ہو سکتا ہے جو پاکستان کی 90 فی صد خاموش آبادی کی نمائندگی کرے۔ عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں اس وژن کا اعادہ بھی کیا کہ مدینہ جیسی ریاست بنائی جائے گی۔ اس وقت عمران خان کے پاس وہی پرانی سیاسی لوگ ہیں۔ ان سے غلطیاں سر زد ہو رہی ہیں۔ وقت آنے پر جلد ہی عمران خان ان لوگوں تبدیل کر دے گا۔ پھر وہی لوگ رہ جائیں گے جن کو عمران خان کے وژن سے مکمل لگاؤ ہو گا۔ مملکت کے چوتھے ستون میڈیا کو بھی مثبت تنقید ضرور کرنی چاہیے۔ تنقید سے ہی ملک صحیح سمت چلا کرتے ہیں۔ اگر تنقید پاکستان کے آئین اور اس کی احساس مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے ہو گی تو سر آنکھوں پر۔ اگر میڈیا کے کچھ سیکولر عناصر اپنی پرانی روش پر چلیں گے تو یہ مناسب نہیں۔ اس سے پاکستان کی منزل دور ہو جائے گی۔ اب پاکستان اس کے لیے تیار بھی نہیں۔ مملکت کا چوتھا ستون میڈیا، عمران خان کی حکومت کو کم از کم تین ماہ کا عرصہ دے تاکہ وہ اپنی منزل کا راستہ متعین کر لے۔ پھر آپ کھل کر تنقید کریں۔ اللہ پاکستان کی منزل آسان کرے۔ آمین

Print Friendly, PDF & Email
حصہ