ڈیم اور سیاست 

241

چنیوٹ ڈیم کی تعمیر کا اعلان 2009 میں کیا گیا تھا ۔ چونکہ ڈیم ہموار میدانی علاقے میں تعمیر نہیں کیا جاسکتا اس لیے دریائے چناب پر چنیوٹ اور چناب نگر کے درمیان کی جگہ کو ڈیم بنانے کے لیے چنا گیا تھا ۔ اس ڈیم کی بیراج گنجائش دس لاکھ کیوسک اور پانی کا ذخیرہ کرنے کی گنجائش 12 لاکھ 90 ہزار ایکڑ فٹ ہے ۔ اس کی اونچائی 39 فٹ ہے اور پشتوں کی لمبائی 44 میل ہے ۔چنیوٹ ڈیم کی تعمیر کا تخمینہ 24 ارب روپے لگایا گیا تھا ۔ اس ڈیم کی تعمیر کے لیے کسی قرضے یا چندے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ اسے واپڈا کو اپنے وسائل سے تعمیر کرنا تھا ۔اس ڈیم سے 80 میگاواٹ بجلی بھی حاصل ہوتی ۔ اس انتہائی اہم ڈیم کی تعمیر کا اعلان ہر برس ہوتا رہا اور ہر برس پاکستانی قوم سیلاب بھگتتی رہی ۔ جتنے کا ڈیم بننا تھا ، اس سے زیادہ کا نقصان سیلابوں سے ہوگیا مگر اس ڈیم کی تعمیر نہ شروع ہوسکی ۔جتنے کا ڈیم بننا تھا ، اس سے زیادہ یہ قوم نجی بجلی گھروں کو دے چکی ہے ۔ آخری مرتبہ اس ڈیم کو تعمیر کرنے کا اعلان 2016 میں کیا گیا تھا اور اسے 31 اگست 2018 کو مکمل ہوجانا تھا ۔ بدقسمتی سے اس کی تعمیر ابھی تک شروع نہیں کی جاسکی ۔ بھارت سے دریائے چناب میں اچانک پانی چھوڑنے کے علاج کے لیے سیالکوٹ میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر بھی پانی کا ذخیرہ کرنے کا چھوٹا منصوبہ بنایا گیا تھا ، اس پر بھی ابھی تک عملدرامد نہیں کیا جاسکا ۔ چنیوٹ ڈیم سے پاکستانی قوم کی ذہنیت اور سنجیدگی کو جانچا جاسکتا ہے ۔ پاکستانی سیاست اور سیاست دانوں کو کو گائیڈ کرنے اور ریموٹ کنٹرول سے چلانے کا دعویٰ کرنے والوں کا سارا زور اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے اور کمپنیاں چلانے پر رہتا ہے ۔ اسی طرح سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کا زور کمیشن بنانے اور آف شور کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک اثاثے بنانے پر رہتا ہے ۔ منڈا ڈیم اور دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر ابھی شروع ہوئی نہیں ہے کہ ان میں سیکڑوں ارب روپے کی کرپشن کے الزامات سامنے آگئے ہیں ۔
مسئلہ ڈیم بنانے کا نہیں ہے ، مسئلہ ڈیم بنانے کے لیے وسائل جمع کرنے کا بھی نہیں ہے ۔ مسئلہ ان افراد کا ہے جنہیں یہ وسائل خرچ کرنے کے لیے فراہم کیے جائیں گے ۔ کیا سیاستداں، کیا بیوروکریٹ، کیا فوج و عدلیہ کے نمائندے ، ان میں سے کس پر اعتبار کیا جاسکتا ہے ؟ کرپشن کے حمام میں سب کے سب ایک جیسے ہیں ۔
جدید دور میں ڈیم کا صرف ایک مقصد ہوتا ہے اور وہ ہے پانی کا ذخیرہ کرنا ۔ اس لیے اب ان کی ہیئت و نوعیت بھی تبدیل ہوگئی ہے ۔ ڈیم بنانا کوئی ہنسی کھیل نہیں ہے اس کے لیے بڑے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ڈیم بننے کے بعد کے مسائل الگ ہوتے ہیں ۔ اس سے علاقے میں زیر زمین پانی کی سطح بلند ہوجاتی ہے ۔ ہزاروں ایکٹر قابل زراعت زمین کی قربانی دینی پڑتی ہے ۔ ڈیم بنانے کے لیے اہم ترین بات وسائل کی فراہمی ہے ۔ دیامر بھاشا ڈیم کے بننے کا مقام دیکھنے میں انتہائی آئیڈیل ہے ایک طرف اونچائی سے بہتا ہوا دریا آرہا ہے ۔ دو طرف بلند و بالا پہاڑ ہیں ۔ بس ایک طرف کی دیوار و پشتے کی تعمیر کی ضرورت ہے ۔تاہم اس ٹکڑے میں آنے والی شاہراہ قراقرم کو از سر نو تعمیر کرنا پڑے گا۔ مگر جب حقائق کی طرف جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس مقام تک بھاری مشینری پہنچانے کے لیے راستہ بنانے میں ہی پانچ سال کا عرصہ لگ جائے گا۔ پھر اس کی بھاری بھرکم لاگت۔ اس وقت اس کی تعمیری لاگت کا تخمینہ 12 ارب ڈالر یا 15 سو ارب روپے ہے ۔ اس رقم کے لیے لازما سود خوروں کے پاس جانا پڑے گا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی تعمیری لاگت کئی گنا بڑھ چکی ہوگی ۔ ڈیم کی اپنی ایک عمر ہوتی ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ ڈیم میں مٹی جمع ہوتی رہتی ہے اور ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بتدریج کم ہوتی جاتی ہے ۔ پھر یہ ڈیم ایک سفید ہاتھی کی صورت اختیار کرجاتا ہے ۔
اس سے بہتر یہ ہے کہ ملک بھر میں درمیانے اور چھوٹے ڈیموں کا جال پھیلادیا جائے ۔ ان چھوٹے ڈیموں کی تعمیر اپنے وسائل سے ہوتی ہے ، تعمیر کی مدت کم ہوتی ہے اور ان میں مٹی بھر جانے کے بعد اس کو دوبارہ گہرا کیا جاسکتا ہے ۔ چونکہ اس میں پانی کم ذخیرہ ہوتا ہے اس لیے علاقے کی زمین پر پانی کا دباؤ بھی کم ہوتا ہے اور زیر زمین پانی کی سطح بھی ایک حد سے آگے نہیں بڑھ پاتی ہے ۔ بھارت مسلسل ڈیم بنارہا ہے اورصرف ان علاقوں میں بنا رہا ہے جہاں سے پاکستان یا بنگلا دیش کا پانی روکا جاسکے ۔ بھارت کی توجہ کہیں سے بھی اپنے عوام کو پانی کی فراہمی کی طرف نہیں ہے ۔ اس منفی سیاست کا نتیجہ بھی بھارت کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ سب سے پہلے تو وہ روز ایک نئے قرض تلے دب جاتا ہے دوسرا یہ کہ پانی کے یہ ذخائر اس کی پیداوار میں قابل ذکر اضافہ نہیں کرپائیں گے ۔ ایک حد تک پانی ذخیرہ کرنے کے بعد بھارت کو یہ پانی دریاؤں میں چھوڑنا پڑے گا جو پاکستان ہی آئے گا ۔ اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ ڈیموں پر سیاست کرنے کے بجائے مستقبل میں آنے والی اس آفت کو رحمت میں تبدیل کرنے کے انتظامات کرلے ۔
کالاباغ یا دیامر بھاشا ڈیم جیسے بڑے بڑے ڈیموں کے تعمیر کے بجائے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیم بنائے جائیں اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدید متبادل ذرائع استعمال کیے جائیں جس میں سمندری ، دریائی اور نہری لہروں کے ذریعے بجلی پیدا کرنا شامل ہے تو پاکستان مستقبل کی آزمائشوں کا مقابلہ کر پائے گا ورنہ ہر حکومت یہی کہے گی کہ مسائل ورثے میں ملے ہیں ۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ جو لوگ بھی حکومت میں ہیں وہی گزشتہ حکومتوں میں تھے اور یہی مسائل کی جڑ ہیں ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ