قادیانیوں کی پشت پناہی کرنے والے عناصر کوبے نقاب کیا جائے

147

محمد سمیع

قادیانیوں کی ملک دشمنی ہماری ملکی تاریخ سے عیاں ہے۔ یحٰی خان کے دور میں جب ملک شکست و ریخت سے دوچار ہوا تو کہا جاتا ہے کہ اس وقت اقتصادی منصوبہ بندی کے ڈپٹی چیئر مین ایم ایم احمد جن کی پالیسیوں نے مشرقی پاکستان کے باشندوں میں احساس محرومی کو جنم دیا ۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد ہی یہ احساس محرومی تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو اس کے بعد سے گاہے بگاہے ان کی ملک دشمن سرگرمیاں سامنے آتی رہتی ہیں۔باوثوق ذرائع سے معلوم ہواہے کہ انہوں نے تل ابیب میں باضابطہ ایک دفتر قائم کررکھا ہے جو اسلام دشمن سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔قادیانیت کی بنیاد برصغیر میں برطانوی دور حکومت میں اس کی پشت پناہی
میں پڑی ۔آج مغرب کی اسلام دشمن قوتیں جس طرح اسرائیل کو سپورٹ کررہی ہیں اسی طرح وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے قادیانیوں کی بھی سرپرستی میں مصروف ہیں۔وہ قانون جس کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ، ان اسلام دشمن قوتوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اور وہ ہماری حکومتوں پر دباؤ ڈالتی ہیں کہ اس قانون کا خاتمہ کیا جائے ۔حکومتوں میں شامل مخصوص عناصر مغرب کی ان قوتوں کی خوشنودی کے حصول کی خاطر ایسے ایسے فیصلے کرواتی رہتی ہیں جس کے نتیجے میں قادیانیوں اور قادیانیت کو تقویت ملتی ہے۔
یہ عناصر ہر دور حکومت میں سرگرم رہتے ہیں ۔سابقہ حکومت کے دور میں بھی حکومتی سطح پر مختلف ایسے فیصلے کئے گئے جس کے خلاف عوامی ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔ اس میں نوبل پرائز یافتہ ڈاکٹر عبد السلام کے نام سے جو ملک کو خیرباد کہہ چکا ہے ، ہمارے ایک ملکی ادارے کو منسوب کیا جاچکا ہے ۔ انتخابی اصطلاحات کی آڑ میں قادیانیوں کے حلف میں ردوبدل کیا گیا جس پر دینی جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور اس ضمن میں ایک دھرنے کے نتیجے میں جو فیض آباد پل پر ہو، اسلام آبادشہر کو کئی دنوں کے لئے بلاک کردیا گیا اور اس سے نہ صرف شہریوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا بلکہ دھرنے کے دوران ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے۔
موجودہ حکومت جوپاکستان کو مدینے کی طرز کی ریاست بنانے کا عزم ظاہر کرتی ہے ، اس کی صفوں میں ایسے عناصر موجود ہیں جوقادیانیوں کو نوازنے کے لئے اس قسم کے فیصلے کرواتے رہتے ہیں۔ حلف کے الفاظ میں تبدیلی میں موجودہ وفاقی وزیر تعلیم کے ملوث ہونے کا الزام تو پچھلے دور حکومت میں لگایا گیا تھا ۔ابھی پچھلے دنوں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کے حوالے سے بھی ایک خبر اخباروں کی زینت بنی جس میں کہا گیا کہ ان کی اور ریجنل پولیس افسر فیصل آباد قادیانیوں کی معصوم مسلمانوں پر فائرنگ کے بارے میں آفیشل وہاٹس اپ گفتگو میں جو مذکورہ وزیر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کی ہے ، قادیانیوں کو سنی مکتبۂ فکر کے ساتھ مسلمانوں کا فرقہ لکھ کر انہیں غیر آئینی، غیر اسلامی اور غیر قانونی طور پر مسلمان ظاہر کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ختم نبوت کا لائرز فورم کے ملک ذیشان احمد اعوان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر وفاقی وزیر انسانی حقوق سے استعفی لیا جائے کیونکہ ان کی یہ ناپاک جسارت آئین کی دفعات کا کھلا مذاق ،آئین ، اسلام اور قانون سے کھلی غداری ہے ۔انہوں نے مذکورہ ریجنل پولیس افسر کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
قومی اقتصادی کونسل میں ایک قادیانی کو رکنیت دی گئی جس پر علماء کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔وزیر اعظم کو جو ملک کو مدینہ کی طرز پر ریاست کو ڈھالنے کا عزم رکھتے ہیں غور کرنا چاہئے کہ کیا کسی ایسے فرد کو جو ریاست مدینہ کے اصل سربراہ محمد ﷺ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتا ،کیا اسے حکومتی سیٹ اپ میں شامل کیا جانا چاہئے؟ مدینے کی ریاست میں منافقین کو تو برداشت کیا گیا جو اسلام دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے لیکن نبوت کے جھوٹے دعویداروں کے خلاف تو خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے تو قتال کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ اگر خوش قسمتی سے کبھی پاکستان مدینے کے طرز کی اسلامی ریاست بن جائے تو یہاں مرتدین کے خلاف سزا کے نفاذ کے لئے قانون سازی کرنی پڑے گی۔ حکومت کو اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ قادیانی مسئلہ ملک کے عوام کے نزدیک ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے لہٰذا کسی بھی اس قسم کا فیصلہ کرنے سے پہلے اسے غور کرنا چاہئے کہ اس کے نتیجے میں کیا ردعمل سامنے آسکتا ہے۔اسے ایسے عناصر کو بے نقاب کرنا چاہئے جو قادیانیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں اور اپنے مقاصد کے حصول کے لئے وہ اس قسم کے فیصلے حکومت سے کرواتے رہتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ