ملک بھر سے ٹیکسٹائیل کی یونینزکا ایک اہم اجلاس

124

 

ملک بھر سے ٹیکسٹائیل کی یونینزکا ایک اہم اجلاس 10ستمبر کو پائلر سینٹر کراچی میں منعقد ہوا جس میں چاروں صوبوں سے  مندوبین 25 نے شرکت کی۔ اس موقع پر ملکی سطح کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی ایک قومی یونین بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس حوالے سے ایک کوآرڈینیشن کمیٹی بنائی گئی ہے، جس کے کنوینرپائلر کے سربراہ کرامت علی ہوں گے۔اس میں تمام صوبوں کی نمائندگی رکھی گئی ہے۔
بدھ کی سہہ پہرکراچی پریس کلب میں منعقد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کرامت علی، مزدور رہنما اسلم معراج، نیاز خان، سلطان خان، بشیر شاکر، امتیاز علی پیرزادہ، زہرہ خان ، خالد محمود، .ریحانہ حکیم، ذوالفقار علی، شیرزادہ نے کہا کہ چاروں صوبوں سے رہنما اس کمیٹی میں شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں پنجاب سے بشیر شاکر، اسلم معراج، نیاز خان ؛ سندھ سے ریحانہ یاسمین، زہرا خان اور ناصر منصور؛ بلوچستان سے خان زمان، سلطان خان، حاجی عبدالحکیم، رخسانہ خالد؛ خیبر پختونخواہ سے تاج مینہ، شیرزادہ، سعادت شاہ اور ابراللہ شامل ہیں۔ کمیٹی کی ذمہ داریوں میں ایک ماہ کے اندریونین کا ڈھانچہ، دستور اور نام کے حوالے سے بنیادی فیصلے کرنا شامل ہے۔ کووآرڈینشن کمیٹی کے اراکین چاروں صوبوں کے اندردیگر یونین کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے اور ان کو اس قومی یونین میں شامل کرنے کی دعوت دی جائے گی۔ ایکماہ کے بعد اس نئی یونین کے نام کا باقائدہ اعلان کیا جائے گا۔ ٹیکسٹائل کے شعبے میں موجود تمام یونینز اور ان کے ممبران کی تفصیلات پر مبنی ایک ڈائریکٹری چھاپی جائے گی۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ایک مہینے کے اند ر ٹیکسٹائل کے شعبے کو درپیشمسائل کے حل کے لیے تمام اسٹیک ہولڈر جن میں صوبائی حکومتوں اور آجروں کے نمائندے شامل ہوں گے ایک متفق چارٹر آف ڈیمانڈ مرتب کیا جائے گا۔ تمام تنظیمیں ایک ادارے میں ایک یونین سے لے کر ہر صنعت میں ایک یونین کے اصول پر کام کریں گی اور اپنی ملحقہ یونینوں اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گی۔
اس موقع پر ٹیکسٹائل شعبے کے مسائل پر تفصیل سے بات چیت کی گئی ۔ مزدوروں کو درپیش مسائل سامنے رکھتے ہوئے مندرجہ ذٰیل مطالبات سامنے آئے۔
۔ آزادانہ یونین سازی اور اجتماعی سودہ کاری کے حق کو غیر مشروط طور پر تسلیم کیا جائے ۔
۔ کم از کم اجرت کو لونگ ویج میں تبدیل کرکے طے کیا جائے اور اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
۔ ٹھیکداری سسٹم، بچوں سے مشقت اور جبری مشقت کا خاتمہ کیا جائے۔
۔ ملک میں کام کرنے والے تمام مزدوروں کو سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشنز، ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئرفنڈاداروں سے رجسٹرد کیا جائے۔
۔ صحت وسلامتی کے مجوزہ قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
۔ جنسی ہراسگی کے حوالے سے قانوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
۔ کام کے قانونی اوقات کار 8 گھنٹے اور اوور ٹائیم کے قانون پر عمل درآمدکیا جائے۔
۔ مزدوروں کے حقوق سے متعلق جو قوانین آئی ایل او کے کنوینشنز سے متصادم ہیں کو تبدیل کرنے اور موجودہ قوانین پر عمل درآمد کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں مزدور رہنماؤں کو بھی نمائندگی دی جائے۔
۔ جی ایس پی۔ پلس سے متعلق کنوینشنز بالخصوص8بنیادی لیبر اسٹینڈرز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے ۔
۔ یونین کی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر جن مزدوروں کو ملازمتوں سے برخاست کیا گیا ہے ان کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔
۔ عدالتیں مزدوروں کے مقدمات کا فیصلہ دو مہینے کے اندر کریں۔؛
اجلاس میں مندرجہ ذیل یونینزْ شرکت کی:
1۔ آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن، 2۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، 3۔ ہوم نیٹ پاکستان، لاہور، 4۔ بلوچستان لیبر فیڈریشن، 5۔ محنت کش لیبر فیڈریشن ،خیبر پختون خواہ، 6۔ آل پاکستان لیبر فیڈریشن، 7۔ لیبر ایجوکیشن فاؤنڈیشن، لاہور، 8۔ لیبر قومی موومینٹ، فیصل آباد، 9۔ ٹیکسٹائل گارمینٹ پاور لومزورکرز یونین، 10۔ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن، 11۔ آل پاکستان فیڈریشن آف یونائیٹڈ ٹریڈ یونینز، 12۔ پاکستان ٹیکسٹائل ورکرز فیڈریشن، 13۔ نیشنل آرگنائیزیشن فار ورکنگ کمیونٹیز، کراچی، 14۔ اتفاق مزدور یونین ، کریسنٹ باہومان، پنڈی بھٹیاں، 15۔ المنصور پاور لومز ورکرز یونین قصور، 16۔ ہوم بیسڈ ورکرز فیڈریشن ، 17۔ ہوزری گارمینٹس ورکرز جنرل یونین ، سندھ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com