ڈیم فنڈ کو بھیک کہنے والوں کو شرم کرنی چاہیے، چیف جسٹس

47

اسلام آباد(صباح نیوز+مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ڈیم کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں انہیں ایسا کہتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔عدالت عظمیٰ میں پنجاب کڈنی لیورانسٹیٹیوٹ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈیم کی تعمیر قومی مفاد کے لیے ہے،ہم نے قومی جذبے کے تحت کام شروع کیا لیکن کم ظرف لوگ جھوٹے الزام لگا رہے ہیں،اپنی مدد
آپ کے تحت کام کرنا بھیک مانگنا نہیں، بھیک مانگنے کا الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہیے۔ سماعت کے دوران ترقیاتی کام کرنے والے ٹھیکیدار نے ڈیم بنانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ جو ڈیم مجھ سے بنواناہے اس منصوبے کی دستاویزات دیں، ڈیم کو اصل لاگت سے کم خرچ پر بناؤں گا۔جس پر چیف جسٹس نے ٹھیکیدار کو ہدایت کی کہ حساب کتاب لگا کر تحریری طور پر آگاہ کریں۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنے کے لیے بھیک مانگنا نہیں ہوتا جو لوگ کہتے ہیں ڈیم کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں انہیں شرم آنی چاہیے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ قومی مفاد کے لیے کام کر رہے ہیں اور کم ظرف لوگ تنقید کر رہے ہیں،مخالفین کو کچھ نہیں ملا تو ڈیم کی تعمیر پر مخالفت شروع کر دی،کم ظرف لوگ ہیں جو اس طرح کی سوچ رکھتے ہیں،ہم نے یہ کام قومی جذبے کے تحت شروع کیا ہے، جو لوگ قومی جذبے کے تحت اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہے ہیں ان پر بلاوجہ الزام لگائے جا رہے ہیں، اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنا بھیک مانگنا نہیں ہوتا اور قومی جذبے کے تحت کام کرنے والوں کو بھکاری کہنے والے کم ظرف لوگ ہیں اور ایسے لوگوں کو شرم آنی چاہیے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قومیں اپنی مدد آپ کے تحت ہی کام کر کے آگے بڑھتی ہیں۔چیف جسٹس نے تنقید کرنے والے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قسم کی الزام تراشی سے باز آ جائیں۔
چیف جسٹس ڈیم فنڈ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ