بنگلا دیش کے بعد مصر میں اسلامی قیادت کو منظر سے ہٹانے کا منصوبہ شرمناک ہے ، لیاقت بلوچ

34

لاہور (نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی پاکستان اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ بنگلا دیش کے بعد مصر میں اسلامی قیادت کو منظر سے ہٹانے کا منصوبہ شرمناک ہے ۔ مصر اور بنگلا دیش میں عوام نے جمہوریت اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں، مصر کے فوجی آمر جنرل سیسی کی قیادت میں عدالتیں سزائے موت کے اعلانات کے ذریعے انسانی حقوق کا قتل عام کر رہی ہیں ، دنیا بھر کی جمہوری قوتوں ، انسانی حقوق
کی دعویدار تنظیموں کومصر میں اخوان المسلمون کے رہنماؤ ں کو سنائی جانے والی سزا کیخلاف بھر پور آواز اٹھانی چاہیے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں علما اور وکلا کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ مصر میں مسلسل بے گناہ اور پرامن جمہوری پارلیمانی قدروں کے امین قائدین اور کارکنان کو منظر سے ہٹایا جارہا ہے ۔ مصر کے فوجی آمر جنرل سیسی کی قیادت میں عدالتیں سزائے موت کے اعلانات کے ذریعے انسانی حقوق کا قتل عام کر رہی ہیں ۔ اخوان المسلمون کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع، منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی اور سیکڑوں قائدین اور کارکنان کو سزائے موت کے فیصلے سنائے گئے ہیں اب 75 قائدین اور اخوانی کارکنان کو سزائے موت سنائی گئی ہے یہ ظلم ہے ، عالمی ادارے اور ضمیر اس پر کیوں خاموش ہیں ؟لیاقت بلوچ نے کہاکہ اقوام متحدہ ، او آئی سی اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں مصر میں انسانیت کی تذلیل ، علم و صلاحیت کی توہین اور انسانی حقوق کی پامالی کا فوری نوٹس لیں ۔ بنگلادیش کے بعد مصر میں اسلامی قیادت کو منظر سے ہٹانے کا منصوبہ شرمناک ہے ۔ مصر اور بنگلا دیش میں عوام نے جمہوریت اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں ۔ بھارت اور اسرائیل کی ایما پر امریکی سرپرستی میں اپنے اپنے مفادات ، جمہوریت کے خاتمے اور آمرانہ اقتدار کے استحکام کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ دنیا بھر کی جمہوری قوتوں ، انسانی حقوق کی دعویدار تنظیموں کومصر میں اخوان المسلمون کے رہنماؤ ں کو سنائی جانے والی سزا کے خلاف بھر پور آواز اٹھانی چاہیے ۔
لیاقت بلوچ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ