پاکستان میں راز داری کیلیے خطرات بڑھ گئے ، قوانین میں ابہام ہے، اقوام متحدہ

85

نیو یا رک (آن لائن)اقوامِ متحدہ کے ماہر نے ریاستی نگرانی اور ڈیجیٹل سیکورٹی کی کمی کی وجہ سے رازداری کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات پر تحفظات کا اظہار کردیا۔ اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں رازداری کے حوالے سے جرائم کو روکنے کے لیے بنائے گئے قوانین میں ابہام ہے۔اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے 39ویں سیشن کے دوران پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ ادارے کے مندوبِ خاص نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان، چین، روس، ایران اور ترکی سمیت متعدد ممالک خفیہ کاری کے خلاف اور آزادی اظہارِ رائے کے لیے انٹرنیٹ صارفین کی حفاظت کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں نبھانے میں کوتاہی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔رپورٹ میں یہ نمایاں کیا گیا کہ رازداری ایک بنیادی انسانی حق ہے جو یونیورسل ڈکلیئریشن آف ہیومن رائٹس کے آرٹیکل 12، انٹرنیشنل کوویننٹ سول اینڈ پولیٹکل رائٹس کے آرٹیل 17 اور دیگر بین الاقوامی اور علاقائی قواعد و ضوابط میں وضع کیا گیا ہے۔اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ کچھ حکومتوں کی جانب سے ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جو انہیں کسی کی جاسوسی کرنے میں مزید طاقت ور بنادیتے ہیں۔مذکورہ رپورٹ میں ڈیجیٹل دور میں پوری دنیا کو رازداری حقوق کے حوالے سے پیش آنے والے مسائل پر روشنی ڈالی گئی اور بتایا گیا کہ کئی ممالک نے انٹرنیٹ کے ذریعے جاسوسی اور اس کے طریقہ کار کے عدم پھیلاؤ کے لیے قوانین نافذ کردیے ہیں۔پاکستان کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان میں الیکٹرنک جرائم سے روکنے کے لیے ایکٹ (پیکا) 2016ء میں لایا گیا تھا تاہم اس میں صارفین کے حقوق کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ آزاردی اظہارِ رائے کی عزت اور ان کی رازداری کی ذمے داری ریاست پر عاید ہوتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ