کسی مدرسے کی رجسٹریشن منسوخ نہیں کی جارہی ، وزیر مذہبی امور

30

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ کسی مدرسے کی رجسٹریشن منسوخ نہیں کی جا رہی‘ شکست خوردہ عناصر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں تاکہ حکومت کے خلاف مسائل پیدا کیے جاسکیں‘ شیعہ، سنی، دیو بندی، اہل حدیث اور بریلوی تمام مکاتب فکر کو اس حد تک قریب آنا چاہیے تاکہ کوئی انہیں استعمال نہ کر سکے‘ آپس کی صفوں میں اتحاد و یگانگت لانا ہو گی کیونکہ ہماری منزل ایک ہے۔ وہ منگل کو پی ٹی آئی علما و مشائخ
ونگ کے زیر اہتمام اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر مذہبی امور نے کہا کہمسلمانوں کے ساتھ جو کھیل کھیلا جا رہا ہے‘ وہ ہم عراق، یمن اور دیگر مسلمان ملکوں میں دیکھ رہے ہیں‘ ایک مسلمان کے خلاف مسلمان کھڑا کیا جا رہا ہے‘ ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آپس کی صفوں میں اتحاد و یگانگت لانا ہو گی تاکہ سنی، شیعہ، دیو بندی، اہلحدیث اور بریلوی مسالک کے نام پر کوئی ہمارے خلاف سازش نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف جب مرنے مارنے پر پہنچ جاتا ہے تو اس سے انتشار جنم لیتا ہے‘ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے کو رسول اﷲ نے کفار کا عمل قرار دیا ہے‘ اس لیے ہمیں اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کا حکم ہے‘ یہ راستہ ربیع الاول اور محرم الحرام کے دوران ہی نہیں‘ یہ طرز عمل پورے سال کے لیے ہمیں اختیار کرنا ہو گا کیونکہ دین اﷲ کے حکم کو بجا لانا اور اﷲ کی مخلوق کے ساتھ شفقت اور نرمی کرنے کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اس قوم کے لیے جو بیڑا اٹھایا ہے‘ اگر ہم متحد ہو جائیں تو اس میں ہمارا حصہ بھی شامل ہو جائے گا۔ نور الحق قادری نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن منسوخ نہیں کی جا رہی‘ وزیراعظم عمران خان نے مدارس میں اعلیٰ اور جدید تعلیم شامل کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے جس میں قاری حنیف جالندھری اور مفتی منیب الرحمن شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے توہین آمیز خاکوں کے حوالے سے جو کردار ادا کیا ہے وہ انتہائی گرانقدر ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ