گستاخانہ خاکے: وزیراعظم و دیگر کو نوٹس، جواب طلب

89

اسلام آباد (اے پی پی، خبر ایجنسیاں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے معاملے پر ہالینڈ سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے سے متعلق دائر درخواست پر وزیر اعظم سمیت فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ۔منگل کو عدالت عالیہ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل بینچ نے شہری حافظ احتشام کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی ۔اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل عدالت میں پیش
ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے منتظم گیرٹ والڈرز و دیگر کے خلاف حکومت پاکستان کو عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے اور عدالت ہالینڈ میں گرفتار پاکستانی شہری چودھری جنید لطیف گجر کو قانونی معاونت فراہم کرنے کا حکم دے۔ چودھری جنید لطیف گجر گیرٹ والڈرز کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کے الزام میں ہالینڈ میں گرفتار ہے۔ درخواست گزار نے مؤقف پیش کیا کہ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں پر مشتمل کتاب بھی شائع کر دی گئی ہے لیکن حکومت کی جانب ہالینڈ کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار ہیں، عدالت حکومتِ وقت کو حکم صادر کرے کہ وہ گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہالینڈ سے سفارتی تعلقات ختم کرے اور اس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔عدالت نے درخواست قابل سماعت قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ حکومت کو گستاخانہ خاکوں کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لینا چاہیے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی جذبات کا تحفظ کرے، ہالینڈ میں گستاخانہ اقدام سے پاکستانی شہریوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔عدالت نے وزیراعظم، وفاقی سیکرٹری خارجہ، وفاقی سیکرٹری داخلہ اور وفاقی وزارت آئی ٹی کو نوٹسز جاری کر دیے اور حکم دیا کہ فریقین 15 اکتوبر تک جواب جمع کرائیں اور بتائیں کہ گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ کیس کی سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔
گستاخانہ خاکے

Print Friendly, PDF & Email
حصہ