قائمہ کمیٹی: ایل او سی پر بھارتی فائرنگ کی مذمت، یوم سیاہ پر سیمینار کا اعلان

45

اسلام آباد (صباح نیوز) سینیٹ قائمہ کمیٹی نے لائن آف کنڑول پر بھارتی فوج کی فائرنگ کی مذمت اور حریت رہنما یاسین ملک کو اپنی سالی کی شادی میں شرکت کے لیے پاکستان نہ آنے دینے کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی، کمیٹی نے 27 اکتوبر یوم سیاہ پر سیمینار کا اعلان کرتے ہوئے تمام حریت رہنماؤں، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو دعوت دینے کا فیصلہ کیا ہے، کمیٹی کی جانب سے تحریک
انصاف کے ڈاکٹر عامر لیاقت کو چیئرمین کشمیر کمیٹی بنانے کی تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تجویز پر افسوس کا اظہار کیا گیا، کمیٹی نے چیئرمین ہائرایجوکیشن کو گلگت بلتستان کے طلبہ کے کوٹے اور اسکالر شپ پر اگلے اجلاس میں طلب کرلیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس منگل کو چیئرمین پروفیسر ساجد میر کی زیر صدارت ہوا۔ کمیٹی کو وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کے سیکرٹری طارق محمود پاشا نے وزارت کے بنیادی مقاصد، ڈھانچے اور کارکردگی کے بارے میں بتایا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کونسل کا سربراہ وزیراعظم پاکستان ہوتا ہے، جس میں وفاق اور متعلقہ علاقوں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے آئین میں 13ویں ترمیم اورگلگت بلتستان آرڈر 2018ء کے بعد دونوں علاقوں کو مالی طور پر خودمختاری دی گئی، وزارت امور کشمیر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کیلیے پالیسی، پلاننگ اور ترقی کیلیے گلگت بلتستان اور کشمیر کی حکومتوں کے ساتھ تعاون کرنا ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ کوئی بھی قانون ہمیں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے سے نہیں روک سکتا، مسئلہ کشمیر صرف دفتر خارجہ کا معاملہ نہیں، وزارت امور کشمیر بھی مسئلہ کشمیر اجاگرکرنے کیلیے کردار ادا کرے۔ ہمیں ہیومین رائٹس کمیشن کے 85% پر ضرور توجہ دینی چاہیے مگر جو 15% ہمارے بارے میں ہیں اس کو قطعاً نظر انداز نہیں کرسکتے۔ سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو این ایف سی کے تحت کیوں فنڈز نہیں مل سکتے؟ اگر آئین میں نہیں تو ترمیم کرسکتے ہیں، وفاقی حکومت ان علاقوں کیلیے گرانٹ میں اضافہ کرے۔ وفاق ان علاقوں میں گڈگورننس کو بہتر بنانے کی بات کرتا ہے لیکن جب بھی ان علاقوں کو مالی خود مختاری دینے کی بات ہوتی ہے تو وفاق پیچھے ہٹ جاتا ہے، کشمیر اور گلگت بلتستان کیلیے ایسا مالی سسٹم ہونا چاہیے کہ مستقبل میں ان کو ہاتھ پھیلانا نہ پڑے۔ سینیٹر شاہین خالد بٹ نے کہا کہ انتظامی معاملات کے ساتھ ساتھ کشمیر کاز پر بھی بات ہونی چاہیے۔ ہر کمیٹی کے چیئرمین وزیراعظم ہیں مگر وزیراعظم کے پاس وقت ہی نہیں، آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو سال تک وزیراعظم سے ملاقات کیلیے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کمیٹی نے وزارت امور کشمیر کو مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا تک پہنچانے کیلیے سیمینار کے انعقاد کا حکم دیا اور سیمینار میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے نمائندوں، ایمنسٹی انٹرنیشنل، چینی نمائندوں، مقبوضہ کشمیر کے رہنماؤں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے رہنماؤں سمیت طلبا و طالبات کو بھی مدعو کرنے کی ہدایت کردی۔
سیمینار کا اعلان

Print Friendly, PDF & Email
حصہ