عدالت عظمیٰ: 7 مرتبہ سزائے موت کے منتظر 2 ملزمان بری

40

اسلام آباد (صباح نیوز) عدالت عظمیٰ نے قتل کا مقدمہ نمٹاتے ہوئے 7 افراد کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث 2 ملزمان کو 10 سال بعد بری کر دیا، اغواء برائے تاوان کے 2 ملزمان کو بھی رہا کردیا گیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے شیخوپورہ میں 2009ء میں 7 افراد کو قتل کرنے کے الزام میں قید ملزمان فدا حسین اور ذوالفقار علی کی اپیلوں پر سماعت کی۔ ملزمان کو ٹرائل کورٹ نے 7 مرتبہ سزائے موت سنائی تھی اور ہائیکورٹ نے یہ سزا برقرار رکھی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ وجہ عناد بھی ثابت نہیں ہو سکی اور فریقین کے درمیان کوئی سابقہ دشمنی بھی موجود نہیں ایسا کوئی ریکارڈ بھی دستیاب نہیں جس پر ملزمان کو سزا دی جا سکے اس لیے فدا حسین اور ذوالفقار کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ دریں اثناء اغواء برائے تاوان کے ایک اور مقدمے کے 2 ملزمان کو بھی عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ بلوچستان کے ضلع جعفرآباد سے تعلق رکھنے والے ملزمان غوث بخش اور علی مراد پر 2 نوجوانوں عنایت اللہ اور سعید احمد کو اغوا کرنے کا الزام تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزمان کو عمر قید سنائی تھی جسے ہائیکورٹ نے برقرار رکھا۔ تاہم عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ ان ملزمان کا اغوا برائے تاوان میں ملوث ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کی سزائیں کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔ ملزمان 2011ء سے زیرحراست تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ