ازبکستان: حجاب اور ڈاڑھی کی حمایت کرنے پر امام برطرف

41

تاشقند(انٹرنیشنل ڈیسک) ازبک صدر شوکت مرزایوف سے خواتین کے حجاب اوڑھنے اور مرد وں کے ڈاڑھی رکھنے پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والے پیش امام کو برطرف کردیا۔ شوکت مرزایوف 2016ء سے ازبکستان کے صدر ہیں۔انہوں نے سیاسی اصلاحات اور آزاد معیشت کے ایجنڈے کے تحت شہریوں کوبرائے نام مذہبی آزادیاں دے رکھی ہیں۔ ازبکستان میں کئی سال سے مذہبی ملبوسات اور خاص طور پر اسکولوں میں طالبات کے حجاب لینے پر پابندیاں عائد ہیں، لیکن ان کی حکومت نے ان تمام پابندیوں کو برقرار رکھا ہے۔ اس پر سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک پیش امام فضل الدین پارپیوف نے تنقید کا سلسلہ شروع کیا تھا، جس کی پاداش میں انہیں برطرفی کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے گزشتہ ہفتے فیس بُک پر ایک وڈیو بھی پوسٹ کی تھی اور اس میں صدر شوکت مرزایوف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حالیہ اصلاحات کے باوجود مسلمانوں کو ڈاڑھی رکھنے اور حجاب اوڑھنے کے معاملے پر جبر واستبداد کا سامنا ہے ۔انھوں نے صدر سے کہا تھا کہ وہ ضمیر کی آزادی کو برقرار رکھنے کے معاملے میں مدد کریں۔ پارپیوف نے اتوار کو اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا کہ انہیں ازبکستان کے مسلم بورڈ نے ان کے منصب سے ہٹا دیا اور بعض حکام نے ان سے کہا کہ وہ اپنے بیان سے لا تعلقی کا اظہار کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ