تہران میں جوہری پلانٹ کو دوبارہ فعال کیاجا رہا ہے

51

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران کی جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہدایت پر یورینیم افزودگی کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے لیے سینٹری فیوجزکی تیاری کے نئے مرکز پلیٹ فارم پرکام شروع کردیا گیا ہے ۔ اخبار’ایران‘ کو دیے گئے انٹرویو میں علی اکبر صالحی کا کہنا تھا کہ تہران میں جوہری پلانٹ کو دوبارہ فعال کیاجا رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جوہری پلانٹ دو سال پہلے والی حالت میں نہیں بلکہ اس سے بہتر اور مکمل شکل میں بنایا جا رہا ہے ۔ اس جوہری تنصیب کی تیاری کے لیے ایک یورپی ملک سے معاہدہ کیا گیا ہے ۔ ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ نے عندیہ دیا کہ تہران جوہری اسلحہ کے تجربات پر پابندی کے پروٹوکول سے باہر نکل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ اگر عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پایا جوہری سمجھوتا ختم ہوتا ہے تو ہمارے لیے اضافی پروٹوکول پرعمل درآمدکرنا ممکن نہیں رہے گا، تاہم اس حوالے سے فیصلہ مجھے نہیں بلکہ جوہری معاہدے کی نگرانی کے لیے قائم کردہ کمیٹی اورریاست کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ حال ہی میں ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای نے سینٹری فیوجز کی تیاری کے جدید مرکز کے قیام کے لیے پلیٹ فارم کوجلد از جلد مکمل کرنے کے احکامات دیے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن پر رعب طاری کرنے کے لیے ایران کو دفاعی اعتبار سے مزید مضبوط بنایا جائے۔ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ اگر 2015ء کو طے پائے جوہری معاہدے سے ایرانی قومی مفادات کاتحفظ نہیں کیاجاسکتا تو اس سے ختم کرنے کی تیاری کی جائے ۔ دوسری جانب خامنہ ای کے اعلیٰ عسکری مشیر یحییٰ رحیم صفوی نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کو جارحیت کا نشانہ بنایا گیا تو وہ صرف زمینی، فضائی اور بحری راستوں سے سرحد کے باہر جواب دینے پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ سمندر پار حملے بھی کرے گا۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایک خطاب میں صفوی کا کہنا تھا کہ ہم انقلاب کے دشمنوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ اگر انہوں نے ایران چڑھائی کی تو ہم صرف سرحد کے باہر تک نہیں بلکہ سمندر پار بھی اُن کا تعاقب کر کے اُنہیں سزا دیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ