بلجیم کی چار بڑی سیاسی جماعتوں نے ملک میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے کوشاں

62

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) بلجیم کی چار بڑی سیاسی جماعتوں نے ملک میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے کوشاں ’اسلام‘ پارٹی پرپابندی لگانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ عرب ٹی وی کے مطابق بلجیم کی دائیں بازو،اعتدال پسند اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی 4 سیاسی جماعتوں نے دستور میں ایک ترمیمی بل پیش کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں مذہبی بنیادوں پر سیاست میں سرگرم اور اسلامی شریعت کے نفاذ کامطالبہ کرنے سے روکنے کی سفارش کی جائے گی۔ اس مجوزہ آئینی ترمیم کا مقصد ملک کے دستور کے لیے خطرہ بننے والی جماعتوں پر پابندی عاید کرنا ہے۔ بلجین رکن پارلیمان رچرڈ میللر کا کہنا ہے کہ اسلام پارٹی کے نمائندوں نے ملک کا عدالتی نظام تبدیل کرکے اسلامی شرعی عدالتی نظام نافذ کرنے کی خواہش اظہار کیا ہے ، تاہم ان کے غیرجمہوری نظریات پر منفی رد عمل کے خدشے کے پیش نظرانہوں نے اپنے پروگرام کے بعض نکات تبدیل کیے ہیں۔ ’اسلام‘ پارٹی کے سربراہ نے اپنے حامیوں کی بلجیم کے معاشرے میں اسلامی شرعی قوانین کے نفاذ کوششوں کا برملا اظہار کیا ہے۔ ’اسلام’ پارٹی کے مراکشی نژاد رُکن عبدالحی بقالی طاہری نے ’العربیہ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری جماعت کا منشور بلجیم کے دستور کو اسلامی سانچے میں ڈھالنا اور معاشرے میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی کوشش کرنا ہے ‘ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اسلامی شرعی قوانین دنیا کے کئی دوسرے ملکوں میں بھی رائج ہیں۔ ہم اسلامی قوانین کو ایک رول ماڈل کے طورپر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ملک کی چار بڑی جمہوری سیاسی جماعتوں سوشلسٹ پارٹی،ہیومن ڈیموکریٹک پارٹی، ریفارمر موومنٹ اور چیلنج پارٹی نے ’اسلام‘ پارٹی کی راہ روکنے کی کوششیں تیزکردی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.