روس نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگی مشقیں شروع کر دی ہیں

41

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روس نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگی مشقیں شروع کر دی ہیں جس میں چینی دستے بھی شرکت کر رہے ہیں۔ اُدھر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے ان مشقوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’کسی بڑے مسلح تنازع ‘ کی تیاری قرار دیا ہے۔ روسی وزارت دفاع نے ایک بیان کے ذریعے ملک کے مشرقی حصے میں بحر الکاہل کے قریب ’ووسٹوک 2018‘ کے عنوان سے منگل کے روز سے وسیع تر جنگی مشقیں شروع کرنے کی تصدیق کر دی ہے ۔ روسی تاریخ کی یہ سب سے بڑی مشقیں ایک ہفتے تک جاری رہیں گی۔ ذرائع ابلاغ پر نشر کردہ وڈیوز میں فوجی گاڑیوں، ہوائی جہازوں، ہیلی کاپٹرز و بحری جہازوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ان مشقوں میں منگولیا اور چین کے فوجی دستے بھی شرکت کر رہے ہیں۔ یہ جنگی مشقیں ایسے موقع پر منعقد ہو رہی ہیں، جب ماسکو حکومت اور مغرب کے درمیان کشیدگی کی ایک نئی لہر جاری ہے۔ مغربی ممالک کا الزام ہے کہ روس یوکرائن اور شام میں مداخلت کر رہا ہے۔ روسی فوج نے ان مشقوں کا موازنہ 1981ء میں سابق سویت دور کی سب سے بڑی ان مشقوں سے کیا ہے ، جن میں ایک سے ڈیڑھ لاکھ فوجیوں نے حصہ لیا تھا۔ حالیہ جنگی مشقوں میں 3 لاکھ فوجی، 36 ہزار فوجی گاڑیاں، ایک ہزار جنگی جہاز اور 80 بحری جہاز شامل ہیں۔ روسی فوج ان مشقوں میں اسکاندر میزائل بھی منظر عام پر لا رہی ہے ، جو جوہری ہتھیاروں سے حملے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔ یہ مشقیں گزشتہ روز سے شروع ہوئیں اور آج بدھ کو اینٹی ائر کرافٹ ٹیکنالوجی کا مظاہرہ ہو گا اور جمعرات کو مشقیں اپنے پورے زور سے ہوں گی۔ واضح رہے کہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے ان مشقوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’کسی بڑے مسلح تنازع ‘ کی تیاری قرار دیا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ