شام کے شمال مغربی علاقے ادلب میں شامی اور روسی افواج کے جنگی طیاروں نے فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے

36

دمشق ؍ انقرہ ؍ نیو یارک (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے شمال مغربی علاقے ادلب میں شامی اور روسی افواج کے جنگی طیاروں نے فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ شامی حکومت نے اِدلب میں مزاحمت کاروں کے خلاف جو عسکری کارروائی شروع کر رکھی ہے ، وہ رواں صدی کے ایک بدترین انسانی المیے کا باعث بن سکتی ہے ۔ ادلب پر ممکنہ حملے کے تناظر میں اقوام متحدہ نے عالمی برادری کو اس المیے سے خبردار کرنے کا سلسلہ کئی ہفتوں سے شروع کر رکھا ہے۔ شامی جنگی طیاروں کے حملوں کے شروع ہونے کے بعد سے رواں مہینے کے دوران 30 ہزار سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد شمار کے مطابق اِدلب سے نکلنے والے 30 ہزار سے زائد عام شہری ہمسایہ صوبے حما میں داخل ہوئے ہیں۔ یہ ہزاروں لوگ یکم ستمبر سے 9 ستمبر کے دوران فضائی حملوں کی وجہ سے بے گھری کا شکار ہوئے ہیں۔ اُدھر ترکی کے صدر رجب طیب اِردوان نے باور کرایا ہے کہ شامی فوج کی جانب سے اِدلب پر کیا جانے والا حملہ ترکی، یورپ اور دیگر کے لیے انسانی اور سیکورٹی خطرات کا سبب بنے گا۔ منگل کے روز امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اِدلب کے سلسلے میں حرکت میں آئے جو شام میں اپوزیشن کا آخری گڑھ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حملہ ہوا تو پوری دنیا اس کی قیمت چکائے گی۔ ترکی کے صدر نے مزید کہا کہ عالمی برادری کے تمام ارکان پر لازم ہے کہ وہ ایسے وقت میں اپنی ذمے داریوں کا ادراک کری، بے عملی اور سستی کے بہت سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ دوسری جانب امریکی صدر کے مشیربرائے قومی سلامتی جان بولٹن نے انتباہ دیا ہے کہ اگر بشار الاسد نے ادلب پر حملے میں کیمیکل ہتھیار استعمال کیے تو ایسی صورت میں امریکا ، برطانیہ اور فرانس اس پر زبردست جوابی حملہ کریں گے۔ سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ امریکا نے اس حوالے سے برطانیہ اور فرانس کے عہدیداروں سے مشاورت کرلی ہے ۔ دریں اثنا روس نے الزام عائد کیا ہے کہ شامی مزاحمت کار ایسی فوٹیج پر کام کر رہے ہیں جسے وہ دنیا کے سامنے شامی فوج کی طرف سے ایک مبینہ کیمیائی حملے کی بعد کی صورتحال کے طور پر پیش کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ