36

کراچی (اسٹاف رپورٹر)فیڈریشن آف پا کستا ن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی(ایف پی سی سی آئی) کے نائب صدرکریم عزیز ملک نے کہا ہے کہ مالدیپ کی منڈی پاکستان کی معیاری مصنوعات کی منتظر ہے۔مالدیپ میں پاکستانی اشیاء کی بڑی مانگ ہے ، وہاں کی حکومت کا جھکاؤ بھی پاکستان کی جانب ہے مگر منڈی پر بھارت اورخطے کے دیگر ممالک چھائے ہوئے ہیں۔کریم عزیز ملک نے مالدیپ کے دورے سے واپسی کے بعد کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سو فیصد مسلم آبادی والے اس ملک کی فی کس آمدنی تیرہ ہزار دو سو پچاس ڈالر ہے اور وہاں کاروبارکے بڑے مواقع موجود ہیں جس سے دیگر ممالک فائدہ اٹھا رہے ہیں۔مالدیپ میں پاکستانی چاول گوشت پولٹری پھلوں سبزیوں سیمنٹ اور دیگر اشیاء کی بڑی مانگ ہے مگر وہاں تک سامان تجارت پہنچانا مسئلہ ہے۔بھارت اپنا سامان لانچوں اور دیگر ذرائع سے بھجوا رہا ہے جبکہ پاکستان سے ڈائریکٹ ٹریڈ کی سہولت موجود نہیں ہے۔ پاکستانی برآمدات سری لنکا کے ذریعے جا رہی ہیں جہاں کی بندرگاہ چھوٹی ہونے کی وجہ سے سامان کئی ہفتوں تک وہیں پڑا رہتا ہے جس سے برآمدکنندگان کو نقصان ہوتا ہے جبکہ کھانے پینے کی اشیاء کی برآمد مشکل ہو جاتی ہے۔انھوں نے کہا گیارہ سو پچاس جزیروں پر مشتمل ملک مالدیپ کی بڑی صنعت سیاحت ہے جبکہ انکا انحصار درآمدات پر ہے۔اس ملک کواعلیٰ تعلیم یافتہ ہنر مند اور غیر ہنر مند افرادی قوت کی بھی بڑی ضرورت ہے جس سے فائدہ اٹھا کرپاکستان بے روزگاری کم اور زرمبادلہ کما سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان مالدیپ کا رخ کریں اور ایف پی سی سی آئی اس سلسلہ میں ان سے ہر ممکن تعاون کرے گا۔کریم عزیز ملک نے مالدیپ میں وزراء اور اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں اور پاکستان کے سفیر ائیر وائس مارشل(ر) وسیم اکرم سے ملاقات کے دوران ان کی خدمات کو سراہا اورکہا کہ پاکستانی حکومت مالدیب کے لیے سیاحت اور سامان تجارت پہنچانے کے لیے سمندری راستے سے سروس شروع کرے تو تجارتی حجم میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.