ڈیم اور سیاست 

359

پانی زندگی ہے۔ پانی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ پانی کی اہمیت پاکستان کے لیے یوں بھی بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان کے تمام ہی دریا بھارت سے ہو کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ بڑے دریاؤں میں سے صرف دریائے کابل افغانستان سے اور دریائے ہنزہ چین سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ تقریباً ان سارے دریاؤں کا منبع خطہ کشمیر یا گلگت و بلتستان سے پھوٹتا ہے۔ ان دریاؤں کا منبع چاہے آزاد کشمیر ہو یا مقبوضہ کشمیر، گلگت ہو یا بلتستان، یہ بھارت کے زیر تسلط علاقے سے گھوم کر ہی پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ بھارت آبی جارحیت پر آمادہ ہے اور وہ ان دریاؤں پر اب تک دو ہزار سے زاید ڈیم بناچکا ہے۔ جب کہ سیکڑوں یا تو کاغذی کارروائیوں سے گزر رہے ہیں یا زیر تعمیر ہیں۔ ان بھارتی ڈیموں کی وجہ سے چناب و راوی تقریباً سوکھ چکے ہیں اور نیلم و جہلم کا بھی یہی عالم ہونے والا ہے۔ بھارت کی تجویز پر افغان حکومت بھی دریائے کابل پر ڈیم بنارہی ہے۔ اس طرح پاکستان میں داخل ہونے والا ہر دریا پاکستان میں معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ آنے والے آئندہ برسوں میں پاکستان کو ایک زرعی ملک کے بجائے ایک صحرا میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر تیزی کے ساتھ کام جاری ہے۔ نہ صرف یہ کام جاری ہے بلکہ اس گھناؤنے منصوبے پر بڑی حد تک عمل بھی کیا جاچکا ہے۔
حالاں کہ یہ بات بھی انتہائی خطرناک ہے کہ پاکستان میں داخل ہونے والے ہر دریا کا پانی روکا جارہا ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ جب بارشیں زیادہ ہوجائیں یا اگر پاکستان کو تباہ کرنے کا سوچ لیا جائے تو ان ڈیموں کے اسپل ویز کھول دیے جائیں اور یوں پاکستان خشک سالی کے ساتھ ایک نئی مصیبت سے دوچار ہوجائے۔ یعنی پاکستان کی آدھی سے زاید آبادی قحط کا سامنا کررہی ہو تو دریا کے ساتھ ساتھ کی آبادی میلوں تک سیلاب کا سامنا کررہی ہو۔ ان کا جمع جتھا بہہ گیا ہو اور وہ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا رہے ہوں۔
اس صورت حال کو دیکھیں اور پاکستان میں ڈیموں کی مخالفت کو دیکھیں تو اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ ان مخالفین کے بینک اکاؤنٹ اور لائف اسٹائل ہی دیکھ لیا جائے تو بہت کچھ پتا چل جائے گا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے تمام لوگوں کو سب نے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ جو چاہیں کریں اور جیسے کریں۔ یہ مزے کررہے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرکے ان کے ہی مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ پاکستان نے تو اُن تمام غداروں کو بھی کھلا چھوڑ دیا جنہوں نے بین الاقوامی فورمز میں پاکستان کا دفاع کرنے کے بجائے بھارت کو واک اوور دیا۔ بھارت ڈیم بنانے کے لیے بین الاقوامی فورمز پر ایک ہی تو دلیل دیتا ہے کہ اتنا پانی سمندر میں گر کر ضائع ہوجاتا ہے یعنی اس کی پاکستان کو ضرورت نہیں ہے اس لیے ہم اس پانی کو کام میں لارہے ہیں۔ اگر پاکستان ڈیم بنا چکا ہوتا اور سمندر میں گرنے والے فاضل پانی کو کام میں لارہا ہوتا تو بھارت کے پاس یہ دلیل نہیں ہوتی۔
ڈیموں کی اہمیت جاننے کے بعد اب یہ بات آتی ہے کہ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو کیا کرنا چاہیے۔ یہاں پر دو طرفہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ پہلی حکمت عملی تو یہ ہے کہ کسی محب وطن اور لائق پاکستانی کو پاکستان کا مقدمہ لڑنے کے لیے منتخب کیا جائے۔ دوسری حکمت عملی یہ ہے کہ پاکستان بھی پوری منصوبہ بندی کے ساتھ ڈیموں کی تعمیر شروع کردے۔
یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ پاکستان کو بھی ڈیم تعمیر کرنے چاہئیں۔ معاملات اس کے بعد گڑبڑ ہوتے ہیں کہ کون سے ڈیم تعمیر کیے جائیں، ان کی گنجائش کیا ہو۔ تعمیر ہونے والے یہ ڈیم پاکستان کے لیے کتنے کارگر ہوں گے اور کتنا سفید ہاتھی ثابت ہوں گے۔ ان ڈیموں پر گفتگو سے قبل ایک اور وضاحت۔ بھارت کی جانب سے ہزاروں ڈیم بنانے کے بعد پاکستان کے لیے دیگر ممالک کے مقابلے میں صورت حال یکسر تبدیل ہوچکی ہے۔ پاکستان کو ڈیم صرف پانی کا ذخیرہ کرنے اور اسے زراعت کے لیے استعمال کرنے کے لیے تعمیر نہیں کرنے ہیں بلکہ دفاعی نقطہ نظر سے بھی تعمیر کرنے ہیں کہ اگر بھارت یا افغانستان کبھی بھی آبی جارحیت کرتے ہیں اور پاکستان کو سیلاب سے دوچار کردیتے ہیں تو پاکستان کے پاس کیا راستہ ہوگا؟ سب سے پہلے اس آپشن پر بات کرتے ہیں۔ اس کے بعد ڈیموں کے سائز، ان کی نوعیت اور اس پر آنے والے اخراجات پر بات کریں گے۔
پاکستان میں رواں برس بارشیں کم ہوئی ہیں مگر اس برس بھی اگست کے اوائل میں ہیڈ مرالہ سیالکوٹ کے مقام پر دریائے توی اور دریائے چناب میں درمیانے درجے کا سیلاب تھا۔ اس کی واحد وجہ ان دریاؤں میں بھارت سے آنے والا پانی تھا۔ گزشتہ مرتبہ جب پاکستان شدید سیلاب کی لپیٹ میں آگیا تھا اور پنجاب کے ساتھ ساتھ سندھ بھی سیلاب زدہ ہوگیا تھا، اس وقت بھی سیلاب کی بڑی وجہ بھارت کی جانب سے بلا اطلاع دریا میں اچانک پانی چھوڑ دینا تھا۔ بات صرف اتنی نہیں ہے کہ بھارت کی جانب سے اچانک پانی چھوڑ دیا جاتا ہے اور پاکستانی علاقے سیلاب میں ڈوب جاتے ہیں بلکہ بات اس سے بھی زیادہ سنگین ہے کہ پنجاب دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ دریا کے جانب کا ایک حصہ وہ جس کی سرحد بھارت کے ساتھ لگتی ہے اور دریا کے دوسری جانب بقیہ پنجاب جس کے زمینی راستے دیگر علاقوں کے ساتھ ملتے ہیں۔ اس طرح بھارت کی جانب سے سیلابی صورت حال کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر سے متصل پاکستانی پنجاب کا حصہ بھارت کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ اب اگر کبھی بھارت پاکستان پر حملہ کرنے کی ناپاک منصوبہ بندی کرتا ہے تو اس کے لیے پہلا آسان کام دریائے چناب و توی وغیرہ میں سیلابی پانی چھوڑنا ہے اور اس کے بعد اس علاقے میں اپنا قبضہ مستحکم کرنا ہے۔ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے دفاعی نقطہ نظر سے بھی اور سیلابی پانی کو کنٹرول کرکے پاکستان کے لیے آب رحمت میں تبدیل کرنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ دریائے چناب کے راستے میں ڈیم بنایا جائے۔ یہ ڈیم تجویز بھی کیا گیا۔ ماہرین نے چنیوٹ کے مقام پر اس ڈیم کے لیے دس برس قبل منصوبہ بنایا تھا۔ اس اہم ترین ڈیم کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ اس پر گفتگو آئندہ کالم میں ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ