پینے کے پانی میں مردہ کتا! 

137

روزنامہ جسارت نے 3 جولائی کو خبر دی تھی کہ: ’’کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ حکام نے پانی کی تقسیم کا نظام بہتر بنانے کے لیے جونیئر اور کم گریڈ کے انجینئر کو او پی ایس کی بنیاد پر اہم ذمے داری دے دی ہے‘‘۔ تفصیل کے مطابق واٹر بورڈ کے ڈائریکٹر پرسنل نے ’’آفس آرڈر‘‘ جاری کیا ہے جس کے مطابق الیکٹریکل اینڈ میکینکل کے اے ای ای مظہر حسین کو فوری طور بحیثیت ایگزیکٹیو انجینئر شہر کے تمام اضلاع کے پمپنگ اسٹیشنوں کا انچارج بنادیا گیا ہے اور انہیں پمپنگ کانظام بہتر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مذکورہ انجینئرکی تعیناتی سے پانی کی تقسیم کا نظام بہتر کیے جانے کے شواہد تو نہیں ملے البتہ 8 ستمبر کو یہ اطلاع ملی کہ واٹر بورڈ کے سخی حسن پمپنگ اسٹیشن کے ٹینک میں ایک کتا مردہ حالت میں پایا گیا۔ جسے بورڈ کے ملازمین نے ایک گھنٹے جدوجہد کے بعد باہر نکال لیا۔ سخی حسن ہائنڈرنٹ کے جس پمپنگ اسٹیشن میں یہ کتا گرا اور ڈوب کر مرگیا اس کی خبر بھی عملے کو اتفاقاً اس وقت ہوئی جب ایک ملازم ٹینک سے پانی نکال کر پینے لگا تو اسے پانی میں بدبو محسوس ہوئی۔ بدبو محسوس ہونے پر ٹینک کے اندر بغور جھانکنے سے پتا چلا کہ اس میں تو کتا مرا پڑا ہے۔ کتے کی ٹینک کے اندر موجودگی کے انکشاف کے بعد فوراً اسے نکال لیا گیا لیکن کتا پمپنگ اسٹیشن میں داخل کیسے ہوا اور داخل ہوکر ٹینک تک کیسے پہنچا، یہ سب فوری طور پر نہیں معلوم چل سکا بلکہ اتفاق اور شہریوں کی خوش قسمتی سے معلوم ہوگیا۔ ایم ڈی واٹر بورڈ نے روایتی کارروائی کرتے ہوئے اس امر کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنادی۔ واٹر حکام کا بس نہیں چلا کہ کتے کی لاش نکال کر اس کا پوسٹمارم کرانے کے لیے لاش اسپتال بھجوا دیتے۔ بس صرف تحقیقات کا حکم دیدیا۔ اب یہ نہیں پتا کہ تحقیقات کون اور کن نکات پر کرے گا سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ جب اس طرح کی تحقیقات کی خبر جاری کرنے کے بعد آج تک متعلقہ اداروں کی جانب سے تحقیقات کے نتائج واضح نہیں کیے گئے تو پھر اس واقعے کی تحقیقات یا انکوائری کرائے جانے کی ’’ڈرامے بازی‘‘ کیوں؟۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایم ڈی خالد محمود شیخ بہت خوش اخلاق اور ہنس مکھ شخص ہیں۔ وہ دیگر مگر بیش تر سرکاری افسران کی طرح ’’اوپر کی آمدنی‘‘ کے منتظر بھی نہیں رہتے اور نہ ہی اس مقصد کے لیے فرائض کے نام پر سرگرم رہتے ہیں۔ مگر پینے کے پانی کے ٹینک میں کتا گرنے کے واقعے پر انہوں نے کسی ایک ملازم یا افسر کے خلاف کارروائی تک نہیں کی۔ البتہ خوشی اس بات کی ہے کہ انہوں نے ادارے کے تمام انجینئرز کو تمام پمپنگ اسٹیشنوں کے ٹینک اور ریزرو وائر کو مناسب طریقے سے بند کرنے یا کور کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ اس بات سے شہریوں کو یقین ہوگیا کہ اب تک واٹر بورڈ کا کوئی ٹینک اور ریزروائر پانی کتوں بلیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ’’کور‘‘ ہی نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کتے بلیوں کے ٹینکوں وغیرہ میں گرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہوگا!۔ شاید یہی وجہ تھی کہ کسی چوکیدار یا دیگر متعلقہ ملازم اور افسر کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی۔ جب ایسے واقعات معمول ہوں تو پھر کیسی کارروائی اور کیوں کارروائی!۔ خیال ہے کہ اس واقعے پر کم ازکم اس ایگزیکٹیو انجینئر کو تو معطل کردیے جانا چاہیے تھا جسے خصوصی طور پر تمام پمپنگ اسٹیشنوں کا انچارج بنایا ہے۔ اس مقصد کے لیے مذکورہ اے ای ای کو خصوصی طور پر اور عدالت عظمیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’’او پی ایس‘‘ کی بنیاد پر اعلیٰ عہدے پر لگایا گیا ہے۔
سخی حسن ہائینڈرنٹ سے منسلک جس پمپنگ اسٹیشن کے ریزرو وائر یا ٹینک سے کتا ملنے کا واقعہ سامنے آیا ہے اس کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ٹینک میں کتے کی موجودگی کی نشاندہی قریب ہی واقعہ واٹر بورڈ کی کالونی کے بچوں نے کی تھی جو وہاں کھیل رہے تھے۔ واقف حال کا کہنا ہے کہ مذکورہ ٹینک کا ڈھکن تو بہت عرصے سے ٹوٹا ہوا ہے۔ جب کہ اس اسٹیشن پر واٹر بورڈ کے ایم ڈی سمیت کئی اعلٰی افسران معائنہ بھی کرچکے ہیں اس کے باوجود کسی افسر نے اس ٹینک کو مناسب طریقے سے بند کرنے کا حکم نہیں دیا۔ واٹر بورڈ کی سی بی اے یونین کے ایک انسان دوست مزدور رہنما کا کہنا ہے کہ بیش تر پمپنگ اسٹیشن اور ریزرو وائر کھلے ہوئے ہیں جن میں کتے بلیوں اور چوہوں کی موجودگی نئی بات نہیں ہے مگر ان کی برسوں صفائی نہیں کرائی جاتی۔ یاد رہے کہ کراچی میں 185 پمپنگ اسٹیشن ہیں ان اسٹیشنوں کے ساتھ واٹر بورڈ ملازمین کی کالونیاں بھی ہیں۔ کھلے ٹینکوں کی وجہ سے ان کالونیوں کے بچوں کا ٹینکوں میں گرنے کا بھی خدشہ لگا رہتا ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ پمپنگ اسٹیشنوں کے بعد پانی لائنوں کے ذریعے گھروں تک پہنچ جاتا ہے۔ اس طرح پانی کی فلٹریشن کا عمل پمپنگ اسٹیشنوں تک پہنچنے سے پہلے تک ہی محدود رہتے ہے۔ پمپنگ اسٹیشنوں کے ٹینک میں کتے بلی اور چوہوں کے گرنے کے بعد ناپاک ہونے والے پانی کی صفائی نہیں کی جاتی۔ سخی حسن ہائیڈرنٹ کے ٹینک میں کتے کی موجودگی کا جس روز پتا چلا خیال ہے کہ کم ازکم تین روز قبل اس میں کتا گرا ہوگا۔ اس طرح سیکڑوں ملین گیلن ناپاک پانی لوگوں کے گھروں بلکہ ہائنڈرنٹ تک بھی پہنچ کر عام افراد کو فراہم کردیا گیا ہوگا۔ ہائی کورٹ کے حکم پر صاف و شفاف اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق پانی کی فراہمی کو یقینی بننے کے لیے قائم واٹر کمیشن کے لیے بھی پمپنگ اسٹیشن کے ٹینک سے کتے کی برآمدگی یقیناًتشویش کا باعث ہوگی اس لیے قوی امید ہے کہ واٹر کمیشن کی جانب سے بھی اس واقعہ کا سخت نوٹس لیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ