قال اللہ و قال رسول اللہ ﷺ

97

اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سُنا حالاں کہ وہ نہیں سُنتے۔ یقیناًخدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سُننے کی توفیق دیتا (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سُنواتا تو وہ بے رْخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے۔ اے ایمان لانے والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب کہ رسُول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے، اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے۔ اور بچو اُس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف اُنہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (سورۃ الانفال:21تا25)

سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا: ’’مومن کی جان اس کے قرض کی وجہ سے معلق رہتی ہے جب تک کہ اس کی ادائیگی نہ کر دی جائے‘‘۔ (ترمذی)
رسول کریم ؐ نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا کسی دینی بھائی سے ملنے گیا تو اسے ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے۔ تمہاری دنیوی اور اُخروی زندگی مبارک ہو، تمہارا چلنا مبارک ہو تم نے جنت میں ایک گھر حاصل کرلیا۔ (ترمذی، ابن ماجہ)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ