شہادت عمر فاروق ؓ

306

مولانا حافظ عبد الرحمن سلفی

آپ کا نام عمر اور لقب فاروق اور کنیت ابو حفص تھی، آٹھویں پشت میں آپ کا نسب رسول اکرمؐ سے جا ملتا ہے کعب کے دو فرزند تھے، مرّہ اور عدی مرّہ سے آپؐ اور عدی سے فاروق اعظم ہیں۔ واقعہ فیل سے تیرا سال بعد پیدا ہوئے۔ عمر سال نبوت کے چھٹے سال 27 برس کی عمر میں اسلام لائے اور آپ سے پہلے چالیس مرد اور گیارہ عورتیں مشرف باسلام ہو چکے تھے۔
آپ امام عادل، خلیفہ راشد امیرالمومنین فاروق اعظمؓ ہیں۔ آپ کا سانحہ شہادت اسلامی تاریخ کا نہایت المناک اور عبرت انگیز باب ہے۔ وہ زندگی میں بھی اپنے آقا فخر کونینؐ کے مقرب اور جلیل القدر صحابی رہے اور شہادت کے بعد بھی رسالت مآبؐ کے سایہ رحمت میں آسودہ خواب ہیں۔
سیدنا عمر فاروقؓ نے اللہ رب العزت سے دعا کی تھی۔ مشکوٰۃ میں ہے: ’’ اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت دے اور اپنے محبوبؐ کے شہر مدینہ میں دفن ہونا نصیب فرما‘‘۔ فاروق اعظمؓ کی یہ دعا اللہ نے شرف قبولیت سے نوازی کہ سیدنا عمر فاروق مسجد نبوی محراب رسول میں جام شہادت نوش فرما کر اپنے آقا سید الکونین کے پہلو حجرہ عائشہ صدیقہؓ ہی میں ابدی آرام فرما رہے ہیں!
آپ بڑے بہادر اور طاقتور تھے، اسلام سے پہلے جیسے شدت کفر میں تھے، اسلام کے بعد ہی ویسے ہی شدت اسلام میں ہوئے۔ آپ کے مسلمان ہونے سے دین اسلام کو قوت حاصل ہوئی رسول اللہ کے زمانہ مبارک میں منصب وزارت پر رہے پر خلافت صدیقی میں وزارت کے ساتھ قاضی مدینہ بھی بنا دیے گئے اور پھر صدیق اکبر کے بعد خود خلیفہ بنا دیے گئے اور پھر اپنے دور خلافت میں جس قدر خدمت اشاعت دین اور اسلام کی اور عظیم فتوحات حاصل کیں جس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔
سیدنا عمرؓ کی طبیعت قوت آپ کی نیک سیرت آپ کے عدل کا کمال، آپ کی خدا ترسی کی مثال آپ کے بعد محال ہے۔ تمام ملک شام، پورا علاقہ مصر، اکثر حصہ فارس آپ کی خلافت کے زمانے میں فتح ہوا۔ سلطنت کسریٰ کے ٹکڑے ہوگئے اور خود کسریٰ کو منہ چھپانے کی جگہ نہ ملی۔ ذلت اور اہانت کے ساتھ بھاگ گیا۔ شام کی سلطنت سے دستبردار ہونا پڑا اور قسطنطنیہ میں جاکر چھپا اس کی سلطنت کی جمع شدہ دولت اور بے شمار خزانے بندگان خدا کے کام آئے۔ جو نیک نفس اور مسکین خصلت بندوں میں تقسیم کر دیے گئے اور اللہ کے وہ وعدے بھی پورے ہوئے جو اس نے اپنے نبیؐ کی زبانی فرما ئے تھے۔ آپ نے دس سال چھ ماہ اور پانچ دن تخت خلافت کو زینت بخشی۔
سیدنا عمر فاروقؓ نے ایک دن دھلا ہوا صاف کر تا پہنا، نبی کریم نے دیکھا تو مسرت کا اظہار فرمایا اور آپ کے حق میں دعا فرمائی۔ تمہیں اچھا لباس اچھی زندگی اور شہدا کی موت نصیب ہو۔
ایک مرتبہ نبی کریمؐ ارشاد فرما رہے تھے اور صحابہؓ فضیلت عمرؓ کا اندازہ لگا رہے تھے ارشاد ہوا ’’اللہ کی قسم شیطان تمہارے راستے پر ہر گز نہیں چلے گا بلکہ شیطان اس راستے ہی کو چھوڑ دیتا ہے جس پر عمرؓ گامزن ہوتے ہیں۔ ابوذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا! ’’اللہ نے عمرؓ کی زبان پر حق رکھ دیا ہے اور جب وہ بولتے ہیں تو گویا حق بولتا ہے‘‘۔ نبی کریم نے ایک مرتبہ آپ کو ابو حفص کہہ کر پکارا حفص کے معنی ’’شیر‘‘ کے ہیں آپ کو یہ کنیت بہت پسند تھی کیوںکہ یہ کنیت رسول اللہؐ نے رکھی تھی اور مسلمان بھی سیدنا عمرؓ کو بعض مواقع پر ابو حفص کے نام سے پکارتے تھے تو آپ خوشی محسوس کرتے تھے۔
سیدنا عمر فاروقؓ کا ننھیال ددھیال دونوں طرف کے شجرہ ہائے نسب میں نبی کریمؐ کے نسب مبارک سے جا ملتا ہے اور سیدنا عمر کا شمار عشرہ مبشرہ جیسے اکابرین میں ہوتا ہے۔
قبول اسلام کی تقریب کچھ ایسے ہوئی کہ آپ ایک روز کفار مکہ کے کہنے سے تلوار لیے نبی کریمؐ کی طرف جا رہے تھے تو راستے میں نعیم صحابی سے ملاقات ہو گئی پوچھا عمرؓ کہاں جا رہے ہو۔ کہا آج جھگڑا ختم کرنے محمد بن عبد اللہ کی طرف جا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا! پہلے اپنے گھر والوں کا حال تو دیکھ لو تمہاری بہن فاطمہؓ اور بہنوئی سعیدؓ مسلمان ہو چکے ہیں۔ ارادہ بدل کر بہن کے گھر پہنچے اور قرآن کی سورۃ طہٰ کی تلاوت سن کر آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ لہٰذا واپس برہنہ شمشیر لیے دار ارقم میں رسول اللہ کے پاس پہنچے تو دین حق کی مزاحمت کے برعکس آقائے دو جہاں کے روبرو مشرف باسلام ہو جاتے ہیں۔ ان کے اس اعلان سے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ اپنے زور بازو میں مزید توانائی محسوس کرنے لگے۔ حق و باطل میں فرق واضح کرنے والا ’’ فاروق ؓ‘‘ کہلاتا ہے۔
مشرکین اور منافقین سراسیمہ اور دم بخود ہوجاتے ہیں۔ ان کی بدولت خانہ کعبہ میں مسلمان برملا نماز پڑھنا شروع کر دیتے ہیں اور توحید الٰہی کے جذبہ سے سر شار مسلمان جو کل تک گھروں میں چھپ کر اپنے رب کے حضور رکوع و سجود کیا کر تے تھے وہ بھی علی الا علان بیت اللہ میں رکوع و سجود کرنے لگے۔ حضرت نافع جو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کر تے ہیں کہ رسول اللہ نے اللہ سے دعا مانگی تھی اے اللہ! عمر بن ہشام یا عمر بن خطاب دونوں میں سے جسے تو زیادہ عزیز رکھتا ہو اس کے ذریعے اسلام کی دستگیری فرما آخر کار حکمت الٰہی کے مطابق وہ فیصلہ کن وقت آہی گیا جب قرآن کریم کی سورہ طہٰ کی آیات پڑھوا کر سنیں اور اللہ کے کلام کی صداقت اور اثر انگیزی نے اپنی جلوہ نمائی کی قرآن کریم کا حسن خطابت تاثیر ہانی اور معجز نما انداز بیان حضرت فاروق اعظمؓ کے دل میں اتر تا چلا گیا۔ ’’طہٰ ہم نے یہ قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ یہ تو ایک یاد دھانی ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرے یہ قرآن تو اس ذات پاک کی طرف سے نازل کیا ہے جس نے زمین کو پیدا کیا اور بلند آسمانوں کو وہ رحمان تو کائنات کے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔ ان سب چیزوں کا مالک ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو اس کے درمیان ہے اور جو مٹی کے نیچے ہے تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو یا چپکے سے کہو بلکہ وہ تو اس سے بھی مخفی تر بات بھی جانتا ہے وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور اسی کے بہترین نام ہیں‘‘۔
یہ سن کر آپ نے بڑے شوق اور والہانہ ذوق سے دعوت اسلام قبول کرلی۔
بلاشبہ سید عمر فاروقؓ دین حق کے لیے سرمایہ افتخار تھے، کمال درجے کی جاں نثاری، عظمت اسلام کے لیے والہانہ جذبات اور باطل کی شکست و ہزیمت کے لیے مضطربانہ جدوجہد میں سیدنا فاروق کا ایک خاص مقام ہے۔ چنانچہ مستدرک حاکم میں فضائل عمر میں مذکور ہے۔ ’’ان خدمات اسلامی کے باعث بار گاہ نبویؐ میں جو تقرب حضرت عمرؓ کو حاصل تھا تو وہ ابو بکر صدیقؓ کے علاوہ کسی اور صحابی کو نہ تھا۔ ایک موقع پر رسول اللہ نے فرمایا ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہو تا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے‘‘۔
سیدنا فاروق کا ربط باہم نبی کریمؐ سے محض ادب و احترام اور تعمیل حکم تک محدود نہ تھا اگر فاروق کی رسول سے محبت کا اندازہ لگانا ہو تو قلب عمرؓ میں حب مصطفی کی تپش محسوس کرنی ہو گی اگر وفات نبویؐ کی اطلاع سن کر عمر فاروق جیسا اولاد لعزم، بلند حوصلہ اور قوی اعصاب شخص نیام سے تلوار کھینچ لیتا ہے تو یہ کم فہمی یا جذبات کی وقتی چنگاری نہ تھی بلکہ حْبّ رسولؐ کے آتش فشاں سے اہل پڑنے والے محبت و رفاقت اور ذہنی فکری وابستگی کا بے اختیار لاوا تھا۔ جسے اپنے محبوب کی محبت میں فنا ہوجانے کا جذبہ صادق رکھنے والا کوئی محب صادق ہی ہو جان سکتا ہے۔ کسی مصلحت یا خوف کی خاطر اپنے مبنی بر حق خیالات اور دلی جذبات کو چھپانا فطرت فاروقی کے بالکل خلاف تھا چنانچہ ایک روایت کے مطابق جب کفار مکہ کے رسیدہ مظلوم مسلمانوں کو ان کے رب کی طرف سے مدینہ منورہ ہجرت کر جانے کا حکم ملا اور مہاجر صحابہ کرام مکہ مکرمہ سے چپ چاپ رخصت ہو نے لگے تو حضرت عمر بن خطابؓ پہلے خانہ کعبہ تشریف لائے وہاں نماز ادا کی اور طواف برائے رخصت کیا اور دوسری طرف انہیں دیکھنے والےہجوم کومخاطب کیا ۔ عمرؓ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا: ’’جو یہاں موجود ہیں وہ غور سے سن لیں اور غیر موجود لوگوں کو آگاہ کردیں کہ جسے اپنی بیوی بیوہ کرنی ہو اولاد کو یتیم کرنا ہو اور والدین کو بے سہارا کرنا ہو تو آکر میرا مقابلہ کر ے دیکھو! سنو! میں مکہ چھوڑ کر مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کر رہا ہوں کل کوئی ہر گز یہ نہ کہے کہ عمرؓ چھپ کر چلا گیا۔ تو قریش آپ کی زبان مبارک سے یہ جملے سن کر خاموش کھڑے ہیں۔ جیسے ان کی قوت گویائی سلب ہوگئی ہو۔
حالات قبل ہجرت: حضرت عمر فاروقؓ کا ایمان لانا رسول اللہ کا معجزہ تھا، تمام صحابہ رسول اللہؐ کے مرید ہیں اور فاروق مراد تھے رسول اللہ نے دعا فرمائی۔ مشیت الٰہی نے کشاں کشاں دربار نبوت میں پہنچا دیا اور پھر کافروں کے سامنے اسلام کا اعلان کیا انہوں نے خوب مارا اور عاص بن وائل نے آخر چھڑایا، آپ کے اعلان کے بعد اور بروز قوت اسلام بڑھتی گئی ابن مسعود نے کہا اسلام عمرؓ فتح اسلام ہے۔
حالات بعد ہجرت: ہجرت مدینہ کے بعد مدینہ منورہ میں سب سے بڑی خدمات مغازی کی تھی آپ تمام غزاوات میں شریک ہوئے غزوہ بدر میں اپنے حقیقی ماموں عاص بن وائل کو اپنے ہاتھوں سے قتل کیا غزوہ احد میں انتشار کے وقت رسول اللہ کے ساتھ رہے۔ جب رسول اللہ کوہ احد پر تشریف لے گئے تو آپ ہمراہ تھے ابو سفیان کے سوالوں کا جواب رسول اللہ کے فرمان سے آپ ہی نے دیا تھا۔ غزوہ خندق میں جس طرح آپ محافظ تھے وہاں یا دگار مسجد بنا دی گئی۔ غزوہ بنی مطلق میں مقدمہ لشکر ان ہی کی ماتحتی میں تھا۔ ایک جاسوس کو گرفتار کیا اس سے دشمنوں کے تمام حالات دریافت کر کے اسے قتل کر دیا جس سے دشمنوں پر رعب طاری ہو گیا اور پھر اعلان فرمایا جو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجائے اسے امان ہے۔ فاروقؓ نے ابو بکر صدیقؓ کی وفات کے بعد 12 ھجری میں منصب خلافت سنبھالا۔
حضرت عمر فاروقؓ نے جب خلافت کی ذمے داریاں سنبھالیں تو اس وقت فوجیں فارس اور روم کی سرحدوں پر اسلام کے مخالف لشکروں سے نبرد آزما تھیں اسلامی فتوحات کا آغاز ہو چکا تھا لیکن دور فاروقی میں ان مشرکوں میں مزید جوش وخروش پیدا ہوا۔ ایران کا فتوحات کا سر چشمہ یہی عہد آفرین دور ہے جنگ قادسیہ کے تین دن خصوصیت سے قابل ذکر ہیںرومیوں سے مقابلے میں دمشق کی فتح کو شہرت حاصل ہے۔ جسے شام و فلسطین کی فتوحات کا پیش خیمہ قرار دیا جا سکتا ہے جنگ قادسیہ میں لشکر اسلامی کے 30 ہزار مجاہدین نے ایک لاکھ بیس ہزار کے ایرانی لشکر کو شکست فاش دیکر شجاعت کی نئی تاریخ رقم کی تھی۔
امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ اپنے دور خلافت میں بہتر نظم و ضبط، بیت المال، ڈاک رسانی، رسل و رسائل، محاصل زکوۃ، یتامیٰ، بیوگان، بوڑھے اور معذور شہیدوں کی مستقل امداد، زراعت کاری کی نئی سہولتوں کو متعارف کرایا اور مدینہ کی اسلامی ریاست کو وسیع و عریض فلاحی حکومت بنایا جہاں نہ حق داروں سے ان کا حق چھینا جا سکتا تھا اور نہ ہی عدل و انصاف کے پیمانے امراء و غرباء کے لیے مختلف تھے۔ 26 ذوالحجہ 23 ھجری تھی کہ سیدنا فاروقؓ معمول کے مطابق نماز فجر کی ادائیگی کے لیے مسجد نبوی میں تشریف لائے جہاں نماز فجر میں مسجد کی حالت میں ابو لولو نامی مجوسی غلام نے جو قتل کے ارادے سے محراب میں چھپا ہوا تھا۔ تین بے دردی سے وار کیے پہلا ہی وار بہت گہرا تھا جس سے آپ کا خون اتنا بہہ گیا کہ مسجد نبوی کے منبر و محراب خون فاروقی سے سرخ ہوگیا۔ تین روز یہی کیفیت رہی جو دوا دی جاتی وہ کٹی ہوئی آنتوں سے باہر آجاتی تھی لہٰذا اپنے بیٹے عبد اللہ کو سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے پاس بھیجا کہ میری خواہش ہے کہ آپ کے حجرہ میں رسول اللہ کے پہلو میں دفن کر دیا جاؤں اجازت ملنے پر خوشی ہوئی اللہ نے تینوں ساتھیوں کو ایک جگہ جمع کر دیا۔ رسول اللہؐ جب بھی کچھ فرماتے تو کہا کر تے تھے میں نے صدیق و فاروقؓ نے ایسا کیا۔ میں ابو بکر و عمر نکلے، میں ابو بکر و عمر آئے۔ یعنی ہر کام میں دونوں کو شریک کیا دنیائے اسلام کا سورج فاروق اعظمؓ موت و زیست کی اس کشمکش میں یکم محرم 22 ھجری کو داعی اجل کو لبیک کہا اور دنیا میں اس زمین کے حصے میں جسے رسول اللہؐ نے جنت کا ٹکڑا کہا تھا ریاض الجنۃ میں رسو ل اللہ اور صدیق کے ہمراہ ابدی نیند سو رہے ہیں۔ آپ کی نماز جنازہ حضرت صہیبؓ نے پڑھائی۔ وفات سے پہلے فرمایا دیکھو میں مر جاؤں تو میری آنکھیں بند کر دینا اور متوسط درجے کا کفن دینا اگر اللہ کے ہاں میری کچھ بھلائی ہے تو مجھے اس سے بہتر لباس ملے گا اگر اس کے سوا کچھ اور ہوا تو یہ بھی چھن جائے گا۔ ابن عباس بولے آپ کو کچھ نہیں ہو گا آپ امیر المومنین و امین المومنین اور سید المومنین ہیںآپ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ سناتے اور تقسیم میں بھی انصاف کا خیال رکھتے تھے یہ الفاظ سن کرتسکین ہوئی اْٹھ کر بیٹھے کہا ابن عباسؓ کیا تم اس کی گواہی دیتے ہو تو ابن عباس نے کہا کہ میں نے با وثوق کہا ہے سیدنا فاروقؓ نے شانے پر ہاتھ پھیرا اور کہا گواہ رہنا آپ کی شہادت دنیائے اسلام کے لیے عظیم المیہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ