شہید المحرابؓ کا قبولِ اسلام!

93

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان

اللہ تعالیٰ اپنے جن بندوں کو نبوت ورسالت کے لیے منتخب فرماتا ہے، ان کا تو کوئی ثانی نہیں ہوتا۔ وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ سے رہنمائی پاتے ہیں، مگر کچھ خوش نصیب روحیں ایسی بھی ہوتی ہیںکہ وہ نبی تو نہیں اُمتی ہوتے ہیں مگر اللہ ان پر بھی اپنی نعمتوں کی بارش کرتاہے۔ سیدنا عمر ؓ بھی تاریخ کی ایسی ہستیوں میں سے اعلیٰ درجے پر فائز اور نمایاں کردار کے حامل ہیں ۔ آپ شروع میں اسلام کے سخت ترین دشمنوں میں سے تھے مگر نبی پاک ؐ آپ کے لیے ہدایت کی دعائیں کررہے تھے۔
یہ وہ دور تھا جس میں کفار کی طرف سے صحابہ کرامؓ بلکہ بعض اوقات خود نبیٔ محترم ؐ کو جسمانی اذیتیں پہنچانا معمول بن چکا تھا۔ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات، غلام اور کنیزیں اسلام کی طرف راغب تھے، مگر قبول اسلام کے بعد ان پر جو قیامت ڈھائی جاتی، اس کا حال پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بلالؓ، خبّابؓ، عمارؓ، یاسرؓ، سمیّہؓ، زنیرہؓ اور اسی طرح بے شمار صحابہ وصحابیات بدترین مظالم کا نشانہ بنائے گئے۔ سیدہ سمیہؓ تو مکہ میں ظلم وستم سے شہید کردی گئیں۔ سیدنا یاسرؓ بھی مظالم برداشت کرتے کرتے دنیا سے کوچ کرگئے۔ باقی مستضعفین صحابہؓ کو بھی مار ڈالنے کی کوششیں ہوئیں، مگر اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی۔
سردارانِ قریش نے نبی اکرم ؐ کے قتل کے منصوبے بنائے۔ دارالندوہ میں مشورہ ہوا کہ کوئی شیردل نوجوان جائے اور جاکر محمدؐ کا کام تمام کردے۔ کون یہ کام کرسکتا ہے؟ یہ سوال بڑا اہم تھا۔ کئی نوجوانوں نے خود کو اس خدمت کے لیے پیش کیا، مگر سردارانِ قریش نے ہر ایک سے کہا کہ یہ کام اس کے بس میں نہیں ہے۔ آخر عمر بن خطاب کھڑا ہوگیا۔ اس نے کہا: سردارانِ قریش! میں ابھی یہ کام کرکے تم لوگوں کو خوش خبری سناتا ہوں۔ ابوجہل نے کہا: ’’ہاں یہ نوجوان یقینا اس کٹھن کام کو سرانجام دے سکتا ہے۔‘‘ فیصلہ ہوجانے کے بعد عمر بن خطاب دارالندوہ سے نکلا۔ اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی، چہرے پر عجیب غصے کی کیفیت کے ساتھ خود کلامی کے انداز میں کچھ کہتا ہوا چلاجارہا تھا۔ اچانک راستے میں نعیم بن عبداللہ سے آمنا سامنا ہوگیا۔
نعیمؓ کا تعلق بھی بنوعدی سے تھا۔ وہ اسلام لاچکے تھے، مگر ابھی تک اپنے اسلام کا اظہار نہیں کیا تھا۔ ابن حجر العسقلانی کے مطابق قبول اسلام میں ان کا دسواں نمبر ہے۔ نعیمؓ نے پوچھا: ’’عمر! کیا بات ہے؟ بڑے غصے میں نظر آرہے ہو۔‘‘ عمر نے کہا: ’’ ہاں میں آج اس شخص کو قتل کرنے جارہا ہوں جس نے باپ دادا کا دین بگاڑ دیا ہے۔‘‘ نعیمؓ بن عبداللہ نے بڑی حکمت کے ساتھ کہا: ’’اچھا اگر یہ بات ہے تو پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تمہاری بہن فاطمہؓ بنت خطاب اور تمہارا بہنوئی سعیدؓ بن زید بھی آبائی دین کو چھوڑ کر صحابی بن چکے ہیں۔‘‘
(الاصابہ ص۵۶۷)
یہ سننا تھا کہ عمر کے غصے میں اور اضافہ ہوگیا۔ اب دارِ ارقم جانے کے بجائے بہن کے گھر کی راہ لی۔ وہاں پہنچ کر دیکھا کہ گھر کا دروازہ بند ہے اور اندر سے کسی چیز کے پڑھنے کی آواز آرہی ہے۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو بہن نے دروازہ کھولا۔ نبی اکرم ؐ پر انھی دنوں سورۂ طٰہ نازل ہوئی تھی۔ اسی کی تلاوت اور حفظ کی مشق کی جارہی تھی۔ سیدنا خباب بن ارتؓ جو آپؐ سے قرآن سن کر یاد کرلیا کرتے تھے، بھی گھر میں موجود تھے۔ عمر کی آہٹ اور آواز سنتے ہی سیدنا خبابؓ کو گھر میں چھپا دیا گیا۔ عمر نے بہن اور بہنوئی سے پوچھا: تم کیا پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: کچھ بھی نہیں۔ اس پر عمر کا غصہ بھڑک اٹھا۔ بہنوئی کو زدوکوب کرنا شروع کیا، بہن بچانے کے لیے آئیں تو انہیں بھی خوب مارا پیٹا یہاں تک کہ وہ لہولہان ہوگئیں۔ اس موقع پر فاطمہ بنت خطاب نے اپنے بلند جذبۂ ایمانی سے بڑی جرأت اور استقامت سے بولتے ہوئے کہا: ’’عمر! سن لو ہم مسلمان ہوچکے ہیں، ہم نے شرک اور بت پرستی سے برأت کا اظہار کردیا ہے۔ تم جو کچھ کرنا چاہو کرلو، ہماری ہڈیاں توڑ سکتے ہو، مگر اسلام سے برگشتہ ہرگز نہیں کرسکتے۔‘‘ (ایضاً، ص۴۶)
بہن کی زبان سے یہ سننا تھا کہ عمر کے دل پر چوٹ لگی اور وہ زمین پر بیٹھ گئے۔ پھر کہا: مجھے وہ صحیفہ سناؤ جو تم پڑھتے ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم اس صحیفے کی توہین برداشت نہیں کرسکتے، نہ ہی کسی مشرک کو دے سکتے ہیں کیوںکہ اسے صرف پاکیزہ لوگ ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اچھا مجھے خود سناؤ، میں اس کی کوئی توہین نہیں کروں گا۔ اس وعدے کے بعد سیدنا خبابؓ کو اندر سے باہر بلایا گیا اور انہوں نے سورۂ طٰہ کی آیات کی تلاوت کی۔ چھوٹی چھوٹی آیات میں اتنا موثر پیغام سمودیا گیا ہے کہ اعجازِ قرآنی پر انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اہلِ ایمان کے ایمان میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔
قرآن پورے سوز کے ساتھ پڑھا جارہا تھا اور عمر کے دل کی دنیا میں عظیم الشان انقلاب برپا ہورہا تھا۔ قرآن تو ہے ہی کتابِ انقلاب، فرد سے لے کر معاشرے تک اس کے پیدا کردہ انقلاب کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ عمرؓ نے آیات قرآنی سنیں اور پھر خاموشی سے گھر کا دروازہ کھول کر نکل گئے۔ اب بھی منزل دارِ ارقم ہی تھی، مگر ارادہ بدل چکا تھا۔ یہ وہ عمر نہیں تھا جو دارالندوۃ سے نکلا تھا، یہ وہ عمر تھا جس کے حق میں نبی ٔ مہربان ؐ کی دعائیں دربارِ ربانی میں قبول ہوچکی تھیں۔ قرآن کی اثرآفرینی کے ساتھ بہن کی استقامت نے بھی کفر کو مات دی تھی۔
جب عمر بن خطاب دارِ ارقم پہنچے اور دروازے پر دستک دی تو ایک صحابی نے دروازے کے سوراخ میں سے ان کے ہاتھ میں ننگی تلوار دیکھ کر دروازہ کھولنے کے بجائے واپس آپؐ کے پاس آکر سرگوشی کے انداز میں کہا: ’’یارسول اللہ ؐ عمربن خطاب دروازے پر کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہے۔‘‘ سیدنا حمزہؓ جو صرف تین دن پہلے مسلمان ہوئے تھے، انہوں نے بھی یہ بات سن لی اور فرمایا: اللہ کے بندے دروازہ کھول دو۔ اگر عمر نیک ارادے سے آیا ہے تو سرآنکھوں پر اور اگر اس کا کوئی اور ارادہ ہے تو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں میں اس کا سر اسی کی تلوار سے قلم کردوں گا۔ دروازہ کھلا، عمراندر آئے، سیدھے آپؐ کے پاس پہنچے۔ آپؐ نے ان کی چادر پکڑ کر کھینچا اور کہا عمر! کیسے آئے ہو؟ عرض کیا اسلام قبول کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ پھر کلمۂ شہادت پڑھا اور اسلام میں داخل ہوگئے۔ آپؐ کی زبانِ مبارک سے تکبیر کا نعرہ بلند ہوا۔ سبھی صحابہؓ نے بھی آپ کی تقلید میں اللہ کی کبریائی کا اعلان کیا اور دارِارقم تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھا۔
(سیرۃ ابن ہشام، جلددوم، ص۳۴۶)
اس عرصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل دعا کرتے رہے تھے: اَللّٰہُمَّ انْصُرِالْاِسْلَام بِاحَدِ عُمَرَیْنِ۔ یعنی اے اللہ مکہ کے دوعمروں میں سے کسی ایک عمر کو اسلام کا مددگار بنادے۔ یعنی عمربن خطاب کو اسلام کی آغوش میں لے آ، یا عمرو بن ہشام (ابوجہل) کو ایمان کی توفیق بخش دے۔ آپ کی دعا کے یہ الفاظ بھی نقل کیے گئے ہیں۔ اَللّٰہُمَّ أَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِاَحَبِّ ہٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ اِلَیْکَ بِأَبِیْ جَہْلٍ اَوْ بِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابٍ۔ (صحیح بخاری، جامع ترمذی) اے اللہ! ان دو مردانِ کار، ابوجہل اور عمربن خطابؓ میں سے جو بھی تجھے زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو عزت وقوت عطا فرما۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے عمربن خطاب کے بارے میں دعائے نبویؐ کو شرف قبولیت بخشا۔ آپؐ کی اس دعا میں بڑی حکمت ہے۔
آپؐ کا ارشاد ہے: خِیَارُکُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ خِیَارُکُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقِہُوا۔ یعنی تم میں سے جو لوگ جاہلیت میں اگلی صفوں میں کام کرتے ہیں، قبولیت اسلام کی توفیق مل جائے تو خدمت اسلام میں بھی وہ اگلی صفوں ہی میں ہوں گے اگر دین کا صحیح فہم حاصل کرلیں۔ (متفق علیہ، روایت: عبدالرحمن بن صخر)۔ ابوجہل اور عمربن الخطاب آپس میں ماموں بھانجا تھے۔ یہ دونوں شخصیات اپنی بہادری اور جرأت نیز فہم وفراست اور اوصافِ قیادت میں نمایاں تھیں۔ ابوجہل بدبخت وبدنصیب ہے، مگر اس میں شک نہیں کہ وہ اپنے کفر پر اتنا مضبوط تھا کہ دنیا کا کوئی فرعون ونمرود مشکل ہی سے اس کی مثال پیش کرسکتا ہے۔
سیدنا عمرؓ نے قبول اسلام کے بعد آپؐ سے عرض کیا: یارسول اللہ ؐ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: یقینا ہم حق پر ہیں۔ اس پر عرض کیا: پھر ہمیںدارِ ارقم کے بجائے بیت اللہ شریف میں جا کر نماز پڑھنی چاہیے۔ چناںچہ اس روز مسلمان دارِ ارقم سے دو صفیں بنا کر نکلے۔ ایک صف کے آگے آگے حمزہ بن عبدالمطلبؓ اور دوسری صف کے آگے عمربن خطابؓ تھے۔ مسلمان اس شان کے ساتھ حرم شریف میں آئے اور وہاں نماز پڑھی اور سیدنا عمرؓ نے سردارانِ قریش کو متنبہ کردیا کہ وہ اسلام میں داخل ہوگئے ہیں۔ اس خبر سے قریش کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ یوں اہلِ علم کے نزدیک سیدنا عمربن خطابؓ مرادِ رسول ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ