شریف فیملی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر فریقین سے جمعرات تک جواب طلب

84

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سنائی گئی سزاؤں کے خلاف سابق وزیر اعظم نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن(ر)محمد صفدر کی اپیلوں اور سزا معطلی کی درخواستوں کی سماعت آج بروز بدھ تک ملتوی کر دی۔ دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ خواجہ
حارث نے سزا معطلی کی درخواستوں پر میرٹ پر زیادہ دلائل دیے ، اب میرٹ پر بات کیے بغیر اپنا کیس پیش کریں ، سزا معطلی کی درخواستوں کو جلد از جلد نمٹانا چاہتے ہیں۔ عدالت نے حکم دیا خواجہ حارث بدھ اور نیب پراسیکیوٹر پیر تک دلائل مکمل کریں ، نیب نے مزید التواء مانگا تو فیصلہ سنا دیں گے ۔ عدالت نے سزا معطلی و ضمانت پر رہائی کی درخواستوں پر فریقین سے جمعرات تک تحریری جوابات بھی طلب کر لیے ۔جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بنچوں نے درخواستوں کی سماعت کی، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی عدالت میں موجود تھے ۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اپنایا چونکہ سپریم کورٹ کی جانب سے احتساب عدالت میں العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت کے لیے چھ ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے تو ہائی کورٹ میں کیس کی پیروی نہیں کر سکوں گا کیونکہ اپیلوں پر سماعت لمبا عمل ہے اس لیے سزا معطلی کی درخواستیں پہلے سنی جائیں۔ عدالت نے پراسیکیوٹر نیب اکرم قریشی سے رائے مانگی تو انہوں نے ایک ہفتے کا التوا مانگا جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ اس جملے سے آپ کے ادارے کے حوالے سے برا تاثر جائے گا۔ اکرم قریشی نے بتایا نیب نے سردار مظفر کی جگہ مجھے کیس میں پراسیکیوٹر مقرر کیا ہے ، وکیل صفائی کی درخواست پر تحریری جواب جمع کرنے کا موقع دیا جائے ۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا آپ آ گئے ہیں ہمیں خوشی ہے ، خواجہ حارث سے سزا معطلی سے متعلق کچھ مزید رہنمائی چاہیے ، بدھ تک وکلاء صفائی کو سنیں گے ، اس کے بعد نیب دلائل پیش کرے ۔دوسری جانب نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلوں کی پیروی کے لیے کامران قریشی کو اسپیشل پراسیکیوٹر تعینات کر دیا،کامران قریشی لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج ہیں۔
ایون فیلڈ ریفرنس

Print Friendly, PDF & Email
حصہ