پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن پر توجہ سے ڈیم بن سکتاہے

81

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے اربوں کے اثاثے ہونے کے باوجود ادارے کا سالانہ منافع 11لاکھ روپے ہے،بے جا اخراجات اور ملازمین کی زیادتی ہے، سیاحوں کے لیے بجلی، نیٹ، سڑک اوررہائشی سہولتیں بہتر نہیں ہیں،رواں برس 17لاکھ سیاح آئے، نائن الیون کے بعد سے شعبہ بری طرح متاثرہوا، ادارے کے اثاثوں سے ڈیم کے لیے آدھی رقم مہیا ہو سکتی ہے، کمیٹی کا ہوٹلز کو سہولات کی فراہمی کیلیے وزیر اعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ ۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کو بتایا گیا کہ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ملازمین کی تعداد 537جبکہ سالا نہ منافع
11لاکھ روپے ہے، جس پر سینیٹر محمد جاوید عباسی نے کہا کہ پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے تمام موٹل میرے حوالے کر دیں 50کروڑ روپے سالانہ دوں گا، کارپوریشن کی پراپرٹی سے ڈیم کے لیے آدھی رقم مل سکتی ہے، پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے سربراہان کو بھی طلب کر لیا ہے، کمیٹی نے پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کو وفاق کے زیر اہتمام کرنے کی سفارش کر دی جبکہ سینیٹر محمد طاہر بزنجو نے اس کی مخالفت کی۔ منگل کے روز پارلیمنٹ لاجز میں اجلاس کی صدارت سینیٹر طلحہ محمود نے کی ، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کئی سو ارب روپے کی جائداد رکھنے والی کارپوریشن کا روزانہ کا منافع صرف 2500روپے ہے، گلگت بلتستان کے علاقوں میں موبائل سروس نہیں ہے اور نہ نیٹ کی سہولت ،بعض جگہوں پر سڑک اور بجلی کا نظام ٹھیک نہیں۔ خان پور ڈیم ایک بہترین جگہ ہے جہاں سیاح جانا چاہتے ہیں، وہاں پر بدھ مت کی عبادت گاہ ہے وہ پونے 2 ارب روپے لگانے کو تیار ہے لیکن صوبوں کی وجہ سے پیسہ واپس جلا گیا، سینیٹر محمد جاوید عباسی نے کہا کہ کارپوریشن کے پاس بہترین محل وقوع ہے، 100افراد کی جگہ600بندے رکھے ہوئے ہیں۔ سینیٹر نصیب اللہ نے کہا کہ زیارت میں سیاحوں کے لیے رہائش کی سہولیات نہیں ٹینٹ لگا کر رہتے ہیں،زیارت میں صنوبر کے درخت کا بہت بڑا ذخیرہ ہے ۔ سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ ہم ٹورازم کو وفاق کے زیر انتظام کرنے کی مخالفت کرتے ہیں، پاکستان ٹورازم حکام نے بتایا کہ اس سال 1.7 ملین سیاح آتے تھے، ہمارا بجٹ 206ملین روپے ہے، جس میں سے188 ملین تنخواہوں میں چلا جاتا ہے، 18ملین دیگر اخراجات پر خرچ کیا جاتا ہے، کارپوریشن کی آمدنی 3کروڑ روپے سالانہ ہے اور منافع 11لاکھ روپے ہے، ناران کاغان میں1978ء میں ہوٹل بنایا گیا تھا جس کا رقبہ 280 کنال ہے جس کے 63 کمرے ہیں11 سوٹس ہیں، 11ستمبر کے حملوں کے بعد ٹورازم بہت متاثر ہوا، صورتحال یہ تھی کہ سیاح تو کیا رشتہ دار بھی نہیں آتے تھے، 9ترقیاتی منصوبے روک دیے گئے، ہمارے 39 موٹل ہیں فلٹس ہیں ہوٹل راولپنڈی کی جائداد تقریباً72ارب روپے کی ہوگئی جس کے 17کمرے 22چھوٹے سوٹس اور تین وی آئی پی سوٹس ہیں جبکہ 2 ہالز ہیں، کمیٹی نے کارپوریشن سے مسائل کے حل کے لیے تجاویز اور قانونی حیثیت کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
پاکستان ٹورازم

Print Friendly, PDF & Email
حصہ