کلثوم نواز انتقال کر گئیں ، تدفین جاتی امرا میں ہوگی

252
لندن: سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز بیگم کلثوم کی 12جولائی 2018ء کو آخری ملاقات کی تصویر
لندن: سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز بیگم کلثوم کی 12جولائی 2018ء کو آخری ملاقات کی تصویر

لندن/اسلام آباد(خبرایجنسیاں +مانیٹرنگ ڈیسک ) سابق وزیراعظم نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نواز طویل علالت کے بعد لندن کے نجی اسپتال میں انتقال کرگئیں۔وہ گزشتہ برس17 اگست کو علاج کے لیے لندن گئی تھیں اور 5روز بعد یعنی22اگست کو انہیں گلے میں کینسرکی تشخیص کی گئی تھی جس کے بعد ان کی کئی کیمو تھراپیز ہوچکی تھیں۔68 سالہ کلثوم نواز کو گزشتہ رات طبیعت بگڑنے پر دوبارہ وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں، بیگم کلثوم ایک سال 25 دن تک ہارلے اسٹریٹ کلینک میں زیر
علاج رہیں۔ نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حسین نواز نے کلثوم نواز کی وفات کی تصدیق کی۔بیگم کلثوم عمر میں نواز شریف سے ایک برس چھوٹی تھیں۔ ان کا خاندان کشمیر سے تعلق رکھتا ہے جبکہ ان کی پیدائش 1950ء کو لاہور میں ہوئی۔ ان کے سوگواران میں ان کے شوہر نواز شریف، بیٹیاں مریم صفدر اور عاصمہ اور 2 بیٹے حسن اور حسین نواز شامل ہیں۔کلثوم نواز نے گزشتہ سال لاہور کے حلقے این اے 120 کے انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن اپنی طبیعت کی خرابی کی وجہ سے وہ انتخابی مہم نہیں چلا پائی تھیں بلکہ انہوں نے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے حلف بھی نہیں اٹھایا تھا۔نوازشریف کو ان کی اہلیہ کے انتقال سے متعلق اڈیالہ جیل میں آگاہ کیا گیا جس کے بعد نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک ہی کمرے میں منتقل کردیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بیگم کلثوم کے انتقال کی خبر پر نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر آبدیدہ ہوگئے۔صدر ن لیگ شہباز شریف نے اڈیالہ جیل میں نواز شریف سے ملاقات کرکے بیگم کلثوم کی تدفین سے متعلق مشاورت کی۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ کلثوم نواز کی میت کی پاکستان منتقلی میں 3سے 4دن لگ سکتے ہیں ۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کلثوم نواز کی میت پاکستان منتقل کرنے کے لیے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کواحکامات موصول ہوگئے ہیں، پاکستانی ہائی کمیشن نے ایک افسر کو شریف خاندان کی معاونت کے لیے مقرر کردیا ہے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق بیگم کلثوم نواز کی میت کو پاکستان لایا جائے گا ، ان کی آخری رسومات لاہور ادا کی جائیں گی جب کہ تدفین جمعہ کو جاتی امرا میں ہو گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ میت روانہ کرنے سے قبل قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی، اس سلسلے میں ہارلے اسٹریٹ کلینک نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا ہے۔بیگم کلثوم نواز کی میت لندن کے ریجنٹ پارک کے علاقے میں واقع مسجد کے سرد خانے منتقل کردی گئی ہے۔شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز میت وصول کرنے آج بدھ کو لندن کے لیے روانہ ہوں گے۔شریف خاندان نے بیگم کلثوم نواز کی میت پاکستان لانے کے سلسلے میں حکومتی تعاون لینے سے شکریہ کے ساتھ معذرت کرلی ہے۔ شریف خاندان کا کہنا ہے کہ وہ میت کی واپسی اور تدفین سمیت تمام انتظامات خود کررہے ہیں۔خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ کلثوم کی میت کے ساتھ 10 افرادپاکستان جائیں گے۔ ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق نماز جنازہ اور تدفین کے لیے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی پیرول پر رہائی کی اجازت دے دی گئی ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ، وزیراعظم عمران خان ، چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سمیت تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کی جانب سے بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر افسوس اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بیگم کلثوم نواز کی وفات پر تعزیتی پیغام جاری کرتے ہوئے انہیں ‘بہادر خاتون’ قرار دیا ہے۔ عمران خان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شریف خاندان اور ان کے سوگواران کو قانون کے مطابق تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
کلثوم نواز انتقال

Print Friendly, PDF & Email
حصہ