کرپٹ دنیا کے کسی بھی حصے میں چھپ جائیں نکال لائیں گے، چئیر میں نیب

136

اسلام آباد(خبرایجنسیاں) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ کرپٹ لوگ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں ڈھونڈ نکالیں گے۔ان کے بقول احتساب سب کا ہوگا‘ جو کرے گا وہ بھرے گا،لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے گی ،کوئی جتنا بھی طاقتور ہو اس کا اثر و رسوخ نیب کے دفتر کے باہر ختم ہوجاتا ہے، نیب کے دفتر کے اندر صرف قانون ہے۔ اسلام آباد میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جن کے پاس موٹر سائیکلیں تھیں ان کے دبئی میں ہوٹلز اورجو ٹاور کھڑے ہیں اس کے بارے میں پوچھ لیا تو کیا برا کیا، مجھے بتایا گیا کہ تاجر برادری میں خوف ہے، یقین دلاتا ہوں ہر وہ تاجر جو ملکی مفاد اور معیشت کی بہتری کے لیے کام کررہا ہے اسے کوئی خوف زدہ نہیں کرسکتا،تاجروں کے راستے میں آنے والی ہر چیز کو ہٹائیں گے، تاجر غلطی کریں گے تو نظر انداز ہوجائے گی تاہم جرم نظرانداز نہیں ہو سکتا۔چیئرمین نیب نے کہا کہ کچھ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف ایکشن ضرور لیا ہے اور یہ ایکشن غربا کے منہ سے نوالا چھیننے پر لیا ہے، ہاؤسنگ سوسائیٹیز کے ان مالکان کو طلب کیا جن کی طرف ماضی میں دیکھا نہیں جاسکتا تھا، نجی سوسائیٹیز کو کہا کہ پیسے دے دیں یا پلاٹ دے دیں جب کہ 85 کروڑ سے زیادہ رقم غرباء کو واپس کی ہے۔جاوید اقبال نے کہا کہ اگر آپ منی لانڈرنگ کریں گے تو نیب آرام سے نہیں بیٹھا رہے گا، پاکستان 90 ارب ڈالر کا مقروض ہے، قرض کا مقصد پاکستانی عوام کو فیض یاب کرنا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا، جب میں نے عہدہ سنبھالا تو ایک ہی منشور تھا کہ احتساب سب کا ہوگا اور جو کرے گا وہ بھرے گا، نیب کا مقصد ملکی معیشت کو مضبوط کرنا ہے جب کہ ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ ملکی مفادات کا تحفظ کرے۔چیئرمین نیب کا کہنا تھاکہ ٹیکس کے حوالہ سے ناجائز مطالبہ کرنے والا آپ کو کرسی پر نظر نہیں آئے گا، جب تک موزوں قانون سازی نہیں ہوتی کرپشن کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی دور حکومت میں ایسا نہیں ہوا کہ نیب کے بازو مضبوط کیے گئے ہوں، ہر دور حکومت میں نیب کا گلہ دبانے کی کوشش کی گئی۔ تقریب کے دوران ایک تاجر نمائندہ نے چیئرمین نیب سے کرپشن پر سزائے موت کا قانون بنانے کا مطالبہ کیا جس پر چیئرمین نیب نے کہا کہ اگر کرپشن پر سزائے موت ہو تو ملک کی آبادی آدھی رہ جائے گی، کرپشن مکاؤ کا نعرہ کہیں بندے مکاؤ کا نعرہ نہ بن جائے۔ چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ زندگی میں اپنی اننگز کامیابی سے مکمل کی، نیب میں صرف کرسی کے لیے نہیں بیٹھا، چاہتا ہوں کہ یہ آخری اننگز یادگار رہے، مجھے خریدنے کی کوششیں کی گئیں لیکن میں کوئی پلازہ نہیں کہ کوئی مجھے خرید لے۔
چیئرمین نیب

Print Friendly, PDF & Email
حصہ