چیف جسٹس اپنی جماعت بنا کر سیاست میں آجائیں ، خورشید شاہ

133

سکھر( آن لائن ) پیپلزپارٹی کے رہنما اورسابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پچاس لاکھ گھروں کے لیے پانچ ہزار کھرب اور ایک کروڑ نوکریوں کے لیے کئی سال چا ہییں ، حکومت کی چادر گھٹنوں سے بھی اوپر ہے ،پاؤں اتنے پھیلانے چا ہییں جتنی چادر ہے، اب یوٹرن سے کام نہیں چلے گا ، حکومت کو عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے ہونگے نہیں تو احتجاج کرینگے ،28 ارکان پارلیمنٹ ادھار لے کر حکومت بنائی گئی ، سی پیک کو رول بیک کیا جانا نقصان دہ ثابت ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔خورشید شاہ نے چیف جسٹس ثاقب نثار کو اپنی جماعت بناکر سیاست میں آنے کا مشورہ بھی دیا۔ جمہوری حکومت ہونے کے باوجود ڈیم منصوبے میں سپریم کورٹ اور فوج کے فعال کردار سے متعلق سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے کہا کہ اس کا رواج پڑگیا ہے اور شوق ہوگیا ہے، ان سب کو سیاست میں آکر کردار ادا کرنا چاہیے، چیف جسٹس بھی ریٹائر ہونے والے ہیں، پچھلے چیف جسٹس کی طرح وہ بھی سیاسی جماعت بناکر میدان سیاست میں آجائیں، ریٹائر ہونے والے بڑے لوگ پارلیمنٹ میں آکر آئین و قانون میں تبدیلی کردیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کو ختم کرنا نقصان دہ ہوگا، سی پیک پر یوٹرن کے خطرناک نتائج نکلیں گے، یہ کنفیوژ حکومت ہے جس کی سوچ ناپختہ ہے اور استحکام نہیں، وہ صرف باتیں کرتی اور ڈکٹیشن لیتی ہے، پھر اپنی ہی باتوں کی تردید کرتے ہیں، یہ کوئی جلسہ عام نہیں کہ تقریر کرکے یوٹرن لے لیا، اب یہ سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینا اچھی بات ہے لیکن بعد میں ایسا نہ ہو کہ ہمیں بھی گروی رکھ دیاجائے خورشید شاہ نے کہا کہ ڈیمز پربدقسمتی سے سیاست چمکائی جارہی ہے ہم ڈیم بنانے کے حامی ہیں لیکن ڈیم ایسے چندے سے نہیں بنتے، پی ایس ڈی پی میں ڈیم کا بیس فیصد رکھا جانا چاہیے اب ڈیڑھ ارب روپے کے چندے سے ڈیم کس طرح بن سکتا ہے حالانکہ ڈیم کے لیے سولہ سو ارب روپے چا ہییں جو کہ چودہ بلین ڈالر بنتے ہیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں سارے پراجیکٹ کو روک کر صرف ڈیم کے لیے پیسے رکھے جائیں ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ مبینہ انتخابی دھاندلی کے باوجود بھی حکومت کو تسلیم کیا لیکن وزیراعظم نے بھی پارلیمانی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے ہم ملک میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتے ہیں لیکن دھونس دھمکی کی حکومت کو تسلیم نہیں کرینگے۔ خورشید شاہ نے عمران خان کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ابھی تو بچہ فیڈر میں دودھ پی رہا ہے آگے دیکھتے ہیں کیا ہوگا ؟ ایک اور سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں پانچ وزرائے اعلیٰ ہیں حالانکہ پہلے پنجاب میں دس سالوں سے ایک وزیراعلیٰ آرہا تھا کفایت شعاری ایسے نہیں ہوتی پاکستان میں ٹیکس ادا کرنے والوں کی شرح .5فیصد ہے حالانکہ بھارت میں ٹیکس کی شرح آٹھ فیصد اور بنگلہ دیش میں چار فیصد ہے یہ ہماری بہت بڑی نااہلی ہے۔
خورشید شاہ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ