اسحاق ڈار کی وطن واپسی کیلیے متعلقہ محکموں سے مشاورت جاری ہے، اٹارنی جنرل

116

اسلام آباد(آن لائن)اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت عظمیٰ کو بتایا ہے کہ سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی کے لیے تمام متعلقہ محکموں سے مشاورت جاری ہے۔منگل کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے اسحاق ڈار کی وطن واپسی کیس کی سماعت کی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کا سفارتی اورعام پاسپورٹ منسوخ کردیاہے ، نیب کی درخواست پر وزارت داخلہ نے اسحاق ڈار
کو بلیک لسٹ کردیا ہے ، اس وقت اسحاق ڈار کے پاس کوئی سفری دستاویز نہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تو پھر اسحاق ڈار کیسے واپس آئیں گے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انہیں وطن واپس لانے کے لیے طریقہ کار موجود ہے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل انور منصور سے مکالمے کے دوران کہا کہ کیا آپ نے یہ معاملہ دیکھا ہے، جس پر انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی کے معاملے پر متعلقہ حکام سے بات کی ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ برطانیہ سے تحویل ملزمان کا معاہدہ موجود ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کے لیے وہاں کی عدالتوں میں جانا پڑے گا۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے اسحاق ڈار کی جائداد شناخت کرلی ہیں اور جائدادکو منسلک کرنے کے لیے کارروائی جاری ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو اسحاق ڈار کی واپسی کے لیے اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ علاوہ ازیں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایل این جی میگا اسکیم کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ نیب کو کسی بھی شریف آدمی کی پگڑی اچھالنے کی اجازت نہیں دیں گے،گزشتہ روز ایک سائل میرے قدموں میں گر گیا اور زار و قطار رو رہا تھا ،اس نے بتایا کہ نیب کے تفتیشی نے ایک ملزم کو7 گھنٹے بٹھائے رکھا اور تھپڑ مارے،سائل کا کہنا تھا کہ اس سے بہتر ہے میں مر ہی جاؤں۔عدالت نے نیب کو تمام انکوائریوں پر تیز رفتاری سے کام کرنے کہ ہدایات دیتے ہوئے ایل این جی میگا اسکینڈل کی انکوائری کے بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ۔کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے کی ۔پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کو بتایا کہ ایل این جی میگا اسکینڈل کیس کا 80 فیصد ریکارڈ حاصل کرلیا گیا،بعض چیزیں ہمارے قابو میں نہیں ہیں،بادی النظر میں اب تک اکٹھے کیے گئے ثبوتوں میں جان ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی کے خلاف ریفرنس بنتا ہے تو دائر کریں،ریفرنس نہیں بنتا تو انکوائری ختم کی جائے۔ایل این جی کی درآمد میں کرپشن سے متعلق نیب پہلے ہی تحقیقات کر رہی ہے،اس درخواست پر کوئی ایکشن دہری کارروائی کے مترادف ہوگا،تحقیقات کرنا عدالت کا کام نہیں۔نیب کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں کہ تحقیقات کہاں تک پہنچی،نیب کی رپورٹ کے بعد ہی کارروائی آگے بڑھائیں گے۔ عدالت نے نیب کو ایل این جی میگا اسکینڈل کیس میں میرٹ پر انکوائری کر کے کارروائی کرنے کا حکم دیتے ہوئے مقدمہ نمٹا دیا ۔
اسحق ڈار

Print Friendly, PDF & Email
حصہ